|
استفسار ڈاکٹر جاوید اقبال علامہ محمد اقبال پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور مسلمانوں کی بیداری کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں مگر خود اسلامی قوانین پر کما حقہ عمل پیرا نہ رہے۔ مثلاً انھوں نے اپنی جائداد اور وراثت شرعی قانون کے تحت تقسیم نہیں کی۔ جاوید اقبال کو جاوید منزل کا واحد وارث بنا دیا اور بیٹی منیرہ کو اس کا شرعی حصہ نہیں ملا۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اقبال کے صاحبزادے آفتاب اقبال کے تعلقات اگرچہ والد کے ساتھ اچھے نہیں تھے مگر شریعتِ اسلامیہ میں نالائق سے نالائق اور نافرمان سے نافرمان اولاد کو بھی وراثت کے حصے سے محروم رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ علامہ کی ایسی غلطی تھی جس کی کوئی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ براہِ کرم اس اعتراض کے درست یا غلط ہونے کی وضاحت فرما دیجیے کیونکہ آپ ہی اس سلسلے میں واحد فرد ہیں جو ان امور کے قانونی اور تاریخی پہلوؤں پر جامع روشنی ڈال سکیں گے۔ اس اعتراض کا جواب اقبال کے بے شمار قارئین ،محققین اور محبّین کے لیے تسلّی کا باعث ہوگا۔ [احمد معین اشرف، لاہور] جواب علامہ اقبال میوزیم اور اقبال اکادمی لاہور میں رکھی اقبال کی تحریرہ کردہ بعض اہم رجسٹری شدہ دستاویزات دیکھنے سے اس مسئلے کے بارے میں مندرجہ ذیل حقائق واضح ہوتے ہیں: ہبہ نامہ مورخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۵ء بحق جاوید اقبال جس کے تحت والدہ اور والدہ نے جاوید منزل کا قبضہ مجھے دیا۔ اس دستاویز میں سات کنال اراضی کی قیمت خرید ۰۲۵،۲۵روپے درج ہے اور عمارت کی تعمیر پر ۰۰۰،۱۴روپے خرچ کیے جانے کا ذکر ہے۔ یعنی قیمت جائیداد اندازً ؍۰۰۰،۴۰روپے بنتی ہے۔ (یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شرعی قانون کے تحت ‘‘جائیداد‘‘ اور ‘‘زر’’ میں تمیز نہیں کی جا تی بلکہ ہر قسم کی ملکیت کو ‘‘مال‘‘ یا ‘‘زر’’ہی سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ اس کے وراثت کی تقسیم کا اصول یہی ہے کہ بیٹا بیٹی سے دگنا حصہ لیتا ہے۔) ہبہ نامہ مورخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۳۶بحق منیرہ بانومیں علامہ اقبال تحریر کرتے ہیں کہ آج تک میں نے قریباً ؍۰۰۰،۱۸روپے کی رقم نیشنل بنک پنجاب میں اپنی دختر منیرہ بانو کے نام جمع کرائی ہے۔ اس رقم کا سود یااصل کا کوئی حصہ کبھی میں نے بنک سے نکال کر اپنی ذات کے لیے خرچ نہیں کیا۔شرعی حیثیت سے یہ ہبہ مکمل ہے کیونکہ رقم مذکورہ بالا پر نابالغہ مذکورہ قابض ہے۔(واضح ہو کہ مارچ ۱۹۴۹ء میں جب منیرہ بانو کی شادی ہوئی تو اْن کے نام یہ اکاؤنٹ۰۰۰،۲۰روپوں سے تجاوز کر چکا تھا۔ ان دستاویزات سے ظاہر ہے کہ علامہ اقبال نے اگر بیٹے کو ۰۰۰،۴۰روپوں کی مالیت کا گھر ہبہ کے طور پر دیا تو ۰۰۰،۲۰روپوں سے زاید رقم بیٹی کو بھی ہدیہ کی صورت میں دی۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا کہ انھوں نے بیٹے کو واحد وارث اور بیٹی کو اس کے شرعی حق سے محروم رکھا، کیونکر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ تملیک ناموں مورخہ ۲۴اگست ۱۹۳۴اور۱۴مارچ ۱۹۳۸ سے عیاں ہے کہ علامہ اقبال نے کتب وغیرہ کی رایلٹی بھی اپنی حیات میں اسی طرز سے تقسیم کر دی تھی۔ مثلاًسات کتب کی رایلٹی بیٹے کے نام اور تین کتب کی ریلٹی بیٹی کے نام، جو دونوں وصول کرتے رہے۔ دستاویز مورخہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۶ء میں علامہ اقبال تحریر کرتے ہیں کہ سردار بیگم مرحومہ کی خواہش کے مطابق اْن کا ذاتی ترکہ جو بیٹے اور بیٹی میں برابر تقسیم ہونا ہے، کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: -۱ کیش سرٹیفیکیٹ چار عدد مالیت۔۲۰۰۰روپے -۲ آٹھ پاؤنڈ سٹرلنگ -۳ ایک ترکی طلائی پاؤنڈ -۴ ایک عدد گھڑی -۵ زیورات، پارچات اور چند نقرئی ظروف جو ایک صندوقچی میں بند نیشنل بنک لاہور میں محفوظ ہیں۔ (واضح ہو کہ مارچ ۱۹۴۹ء میں منیرہ بانو کی شادی کے موقع پر بھائی نے اپنا حصہ نہ لیا لہٰذا ماں کا ترکہ بیٹی کو ملا۔) شریعت اسلامیہ میں کسی نالائق یا نافرمان بیٹے کو وراثت سے محروم رکھنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ والد مذکورہ حصہ جائیدا د کو اپنی زندگی میں کسی اور وارث (یہاں تک کہ کسی غیر وارث ) کے نام تحریر ی ہبہ نامہ کی صورت میں منتقل کرکے قبضہ اْسے دے دے۔ علامہ اقبال نے ایسا کرکے ایسی کونسی غلطی کر دی جس کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ علامہ اقبال صرف شاعر اور فلسفی ہی نہ تھے، وکیل کی حیثیت سے قانون کے ماہر بھی تھے۔ |