|
|
|
عقل گو آستاں سے دُور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں |
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں |
عِلم میں بھی سُرور ہے لیکن یہ وہ جنّت ہے جس میں حور نہیں |
کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحبِ سُرور نہیں |
اک جُنوں ہے کہ باشعور بھی ہے اک جُنوں ہے کہ باشعور نہیں |
ناصبوری ہے زندگی دل کی آہ وہ دل کہ ناصبور نہیں |
بے حضوری ہے تیری موت کا راز زندہ ہو تُو تو بے حضور نہیں |
ہر گُہر نے صدَف کو توڑ دیا تُو ہی آمادۂ ظہور نہیں |
’اَرِنی‘ میں بھی کہہ رہا ہوں، مگر یہ حدیثِ کلیمؑ و طُور نہیں |