بال جبریل |
|
مندرجات |
اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر... |
پُھول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے... |
میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات... |
ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے |
اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا... |
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب... |
دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر |
اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری... |
جوانوں کو مری آہِ سَحر دے |
کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا |
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ... |
تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہی |
دگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش... |
کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیں |
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے... |
وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے |
مِٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و تو |
کبھی آوارہ و بے خانماں عشق |
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو... |
کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق |
تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ... |
عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر |
ضمیرِ لالہ مئے لعل سے ہُوا لبریز |
یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سے |
وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے... |
خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے |
اپنی جولاں گاہ زیرِ آسماں سمجھا... |
خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے |
اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ... |
یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کا |
یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے... |
سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں... |
یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط... |
وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا... |
عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں... |
تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ... |
امینِ راز ہے مردانِ حُر کی درویشی |
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ... |
مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل... |
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر... |
دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں... |
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی... |
پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی... |
یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا... |
دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار... |
خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و... |
میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ... |
زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر... |
یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس... |
کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے... |
عقل گو آستاں سے دُور نہیں |
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ... |
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح... |
تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ |
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں |
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے |
نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے... |
تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور... |
خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ |
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر |
ہر شے مسافر، ہر چیز راہی |
ہر چیز ہے محوِ خود نمائی |
اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ! |
خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ... |
جب عشق سِکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی |
مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر... |
نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں... |
فطرت کو خِرد کے رُوبرو کر |
یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے... |
تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ... |
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں |
ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا... |
خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ... |
مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار... |
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں... |
رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقی |
ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں... |
یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک... |
نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ... |
فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ... |
کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد |
کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی... |
نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی |
گرمِ فغاں ہے جَرس، اُٹھ کہ گیا... |
مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و... |
ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نو |
کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے... |
تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی |
ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ |
فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و... |
کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں... |
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب |
رہ و رسمِ حرم نا محرمانہ |
ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جا |
مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوں |
خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیں |
پریشاں کاروبارِ آشنائی |
یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی |
عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے |
کوئی دیکھے تو میری نَے نوازی |
ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دل |
ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے |
نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری |
خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائی |
نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میں |
جمالِ عشق و مستی نَے نوازی |
وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہے |
سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیں |
ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے |
ترا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو |
محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہے |
خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جا |
چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہے |
خرد سے راہرو روشن بصر ہے |
دُعا |
دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے |
مَسجدِقُرطُبہ |
قید خانے میں معتمدؔکی فریاد |
عبد الرّحمٰن اوّل کا بویا ہُوا... |
رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے |
ہسپانیہ |
کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی |
طارق کی دُعا |
زمانے کی یہ گردش جاودانہ |
لینن |
فرشتوں کا گیت |
فرمانِ خدا |
حکیمی، نامسلمانی خودی کی |
ذوق و شوق |
پَروانہ اور جُگنو |
جاوید کے نام |
گدائی |
مُلّا اور بہشت |
دین وسیاست |
اَلْاَرْضُ للہ! |
ایک نوجوان کے نام |
نصیحت |
لالۂ صحرا |
اقبالؔ نے کل اہلِ خیاباں کو... |
ساقی نامہ |
زمانہ |
فرشتے آدم کو جنّت سے رُخصت کرتے... |
رُوحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے |
فطرت مری مانندِ نسیمِ سحرَی ہے |
پِیرومُرید |
ترا تن رُوح سے ناآشنا ہے |
جبریل واِبلیس |
کل اپنے مُریدوں سے کہا پِیرِ... |
اذان |
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے |
محبت |
ستارے کاپیغام |
جاوید کے نام |
فلسفہ ومذہب |
یورپ سے ایک خط |
نپولین کے مزار پر |
مسولینی |
سوال |
پنچاب کے دہقان سے |
نادِر شاہ افغان |
خوشحال خاںکی وصیّت |
تاتاری کا خواب |
حال ومقام |
ابوالعلامعرّیؔ |
سنیما |
پنچاب کے پِیرزادوں سے |
سیاست |
فَقر |
خودی |
جُدائی |
خانقاہ |
اِبلیس کی عرضداشت |
لہُو |
پرواز |
شیخِ مکتب سے |
فلسفی |
شاہِیں |
باغی مُرید |
ہارون کی آخری نصیحت |
ماہرِ نفسیات سے |
یورپ |
آزادیِ افکار |
شیر اور خچّر |
چیونٹی اورعقاب |
|
|