قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحَر تجھ کو مآلِ حُسن کی کیا مِل گئی خبر تجھ کو؟ متاعِ نُور کے لُٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو ہے کیا ہراسِ فنا صورتِ شرر تجھ کو؟ زمیں سے دُور دیا آسماں نے گھر تجھ کو مثالِ ماہ اُڑھائی قبائے زر تجھ کو غضب ہے پھر تری ننھّی سی جان ڈرتی ہے! تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے |