زندگانی ہے مری مثلِ ربابِ خاموش جس کی ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبریز آغوش بربطِ کون و مکاں جس کی خموشی پہ نثار جس کے ہر تار میں ہیں سینکڑوں نغموں کے مزار محشرستانِ نوا کا ہے امیں جس کا سکُوت اور منّت کشِ ہنگامہ نہیں جس کا سکُوت آہ! اُمیّد محبت کی بر آئی نہ کبھی چوٹ مضراب کی اس ساز نے کھائی نہ کبھی |