ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے تارے کہنے لگے قمر سے نظّارے رہے وہی فلک پر ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر کام اپنا ہے صبح و شام چلنا چلنا، چلنا، مدام چلنا بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے کہتے ہیں جسے سکُوں، نہیں ہے رہتے ہیں ستم کشِ سفر سب تارے، انساں، شجر، حجر سب ہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا منزل کبھی آئے گی نظر کیا |