|
۔۔۔۔ کی گود میں بِلّی دیکھ کر |
تجھ کو دُزدیدہ نگاہی یہ سِکھا دی کس نے رمز آغازِ محبّت کی بتا دی کس نے |
ہر ادا سے تری پیدا ہے محبّت کیسی نیلی آنکھوں سے ٹپکتی ہے ذکاوت کیسی |
دیکھتی ہے کبھی ان کو، کبھی شرماتی ہے کبھی اُٹھتی ہے، کبھی لیٹ کے سو جاتی ہے |
آنکھ تیری صفَتِ آئنہ حیران ہے کیا نُورِ آگاہی سے روشن تری پہچان ہے کیا |
مارتی ہے انھیں پونہچوں سے، عجب ناز ہے یہ چھیڑ ہے، غُصّہ ہے یا پیار کا انداز ہے یہ؟ |
شوخ تُو ہوگی تو گودی سے اُتاریں گے تجھے گِر گیا پھُول جو سینے کا تو ماریں گے تجھے |
کیا تجسّس ہے تجھے، کس کی تمنّائی ہے آہ! کیا تُو بھی اسی چیز کی سودائی ہے |
خاص انسان سے کچھ حُسن کا احساس نہیں صُورتِ دل ہے یہ ہر چیز کے باطن میں مکیں |
شیشۂ دہر میں مانندِ مئے ناب ہے عشق رُوح خورشید ہے، خونِ رگِ مہتاب ہے عشق |
دلِ ہر ذرّہ میں پوشیدہ کسک ہے اس کی نور یہ وہ ہے کہ ہر شے میں جھلک ہے اس کی |
کہیں سامانِ مسرّت، کہیں سازِ غم ہے کہیں گوہر ہے، کہیں اشک، کہیں شبنم ہے |