|
٭ |
کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہے مرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے |
وہ مے کش ہوں فروغِ مے سے خود گُلزار بن جاؤں ہوائے گُل فراقِ ساقیِ نا مہرباں تک ہے |
چمن افروز ہے صیّاد میری خوشنوائی تک رہی بجلی کی بے تابی، سو میرے آشیاں تک ہے |
وہ مُشتِ خاک ہوں، فیضِ پریشانی سے صحرا ہوں نہ پُوچھو میری وسعت کی، زمیں سے آ سماں تک ہے |
جرَس ہوں، نالہ خوابیدہ ہے میرے ہر رگ و پے میں یہ خاموشی مری وقتِ رحیلِ کارواں تک ہے |
سکُونِ دل سے سامانِ کشودِ کار پیدا کر کہ عقدہ خاطرِ گرداب کا آبِ رواں تک ہے |
چمن زارِ محبّت میں خموشی موت ہے بُلبل! یہاں کی زندگی پابندیِ رسمِ فغاں تک ہے |
جوانی ہے تو ذوقِ دید بھی، لُطفِ تمنّا بھی ہمارے گھر کی آبادی قیامِ میہماں تک ہے |
زمانے بھر میں رُسوا ہوں مگر اے وائے نادانی! سمجھتا ہوں کہ میرا عشق میرے رازداں تک ہے |