اے دردِ عشق! ہے گُہرِ آب دار تُو نامحرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تُو! پنہاں تہِ نقاب تری جلوہ گاہ ہے ظاہر پرست محفلِ نَو کی نگاہ ہے آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں اے دردِ عشق! اب نہیں لذّت نمود میں ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جُستجو نہ ہو منّت پذیر نالۂ بُلبل کا تُو نہ ہو! خالی شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو پنہاں دُرونِ سینہ کہیں راز ہو ترا اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو ترا گویا زبانِ شاعرِ رنگیں بیاں نہ ہو آوازِ نَے میں شکوۂ فُرقت نہاں نہ ہو یہ دَور نُکتہ چیں ہے، کہیں چھُپ کے بیٹھ رہ جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ |