صبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھی آسماں پر اک شُعاعِ آفتاب آوارہ تھی مَیں نے پُوچھا اُس کرن سے “اے سراپا اضطراب! تیری جانِ ناشکیبا میں ہے کیسا اضطراب تُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماں کر رہا ہے خرمنِ اقوام کی خاطر جواں یہ تڑپ ہے یا ازل سے تیری خُو ہے، کیا ہے یہ رقص ہے، آوارگی ہے، جُستجو ہے، کیا ہے یہ؟” |