مَیں نے کہا کہ موت کے پردے میں ہے حیات پوشیدہ جس طرح ہو حقیقت مجاز میں تلخابۂ اجل میں جو عاشق کو مِل گیا پایا نہ خِضر نے مئے عمرِ دراز میں اوروں کو دیں حضور! یہ پیغامِ زندگی مَیں موت ڈھُونڈتا ہوں زمینِ حجاز میں آئے ہیں آپ لے کے شفا کا پیام کیا رکھتے ہیں اہلِ درد مسیحا سے کام کیا! |