تُو ڈھُونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامشی میں پوشیدہ ہے وہ شاید غوغائے زندگی میں اِستادہ سرْو میں ہے، سبزے میں سو رہا ہے بُلبل میں نغمہ زن ہے، خاموش ہے کلی میں آ! میں تجھے دِکھاؤں رُخسارِ روشن اس کا نہروں کے آئنے میں، شبنم کی آرسی میں صحرا و دشت و در میں، کُہسار میں وہی ہے انساں کے دل میں، تیرے رُخسار میں وہی ہے |