Official Website of Allama Iqbal
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام مورخہ 29 جولائی 2021 کو پاک چین سفارتی تعلقات کی ۷۰ویں سالگرہ کے حوالے سے ’’بدلتی دنیا کے تقاضے اور پاک چین تعلقات۔۔۔فکر اقبال کی روشنی میں‘‘کے عنوان سے ایوان اقبال میں خصوصی سیمینار

لاہور (29 جولائی2021) اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام مورخہ 29 جولائی 2021 کو پاک چین سفارتی تعلقات کی ۷۰ویں سالگرہ کے حوالے سے ’’بدلتی دنیا کے تقاضے اور پاک چین تعلقات۔۔۔فکر اقبال کی روشنی میں‘‘کے عنوان سے ایوان اقبال میں خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر پرووائس چانسلر جامعہ پنجاب نے کی جب کہ مہمان خصوصی جناب ڈو یوئی ،چیف پولیٹکل سیکشن ، چائینز قونصلیٹ لاہورتھے۔ سی جی ایس ایس کے نائب صدر بریگیڈئیر (ر) منصور سعید نے کلیدی خطبہ دیا۔ حرف تشکر ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے ادا کیا۔میزبانی کے فرائض ہارون اکرم گل نے انجام دئیے۔
سیمینار سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر پرووائس چانسلر جامعہ پنجاب نے کہا کہ ہر پاکستانی یقین رکھتا ہے کہ چین نے ہر مشکل صورتحال میں غیر مشروط بنیادوں پر ہماری مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں ہر سطح پر تعاون بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ ڈاکٹرسلیم مظہر کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے ہمسایہ میں ایک ملک ایسا بھی ہے جس نے بلا کسی تفریق امن کو فروغ دیا اور ایشیا میں ٹیکنالوجی میں ترقی کی راہ کو ہموار کیاانہوں نے کہا کہ یہ بات آن ریکارڈ موجود ہے کہ چین نے گزشتہ ۳۵برسوں میں ایک بھی گولی چلائے بغیر صرف ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے۔ پرووائس چانسلر جامعہ پنجاب نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ، اقبال اکادمی اور چینی قونصل خانہ مل کر ترجمہ و تالیف کا عمل سر انجام دیں گے۔
مہمان خصوصی جناب ڈو یوئی نے بتایا کہ انھوں نے پاکستان میں میں نے کافی عرصہ خدمات انجام دی ہیں اور پاکستان ان کے لیے آبائی گھر جیسا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین میں سیاسی سطح پر تعلقا ت بہترین ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کی عوام کو خصوصاًنوجوان نسل کو رابطہ کاری کے ذریعے قریب لایا جائے۔ اقبال اکادمی پاکستان ، پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کے پیغام کو پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہے- اکادمی اس سلسلے میں بہترین کردار ادا کر سکتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اقبال اکادمی اور چینی قونصل خانہ مل کر ایسے پروگرام ترتیب دے سکتے ہیں جو پاکستان اور چینی عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت اورادب سے روشناس کرا سکتے ہیں ۔چینی قونصل خانہ لاہور اس سلسلے میں ہر طرح کے تعاون کے لیے حاضر ہے۔
بریگیڈئیر منصور سعید نے کہا کہ علامہ اقبال ایشیا کے مستقبل کے بارے میں پر امید تھے کہ ۲۱ویں صدی کا دور ایشیائی دور ہوگااور ایشیا کی قومیں نئی دنیا کے لیے اہم کردار ادا کریں گی۔ ایشیائی ممالک میں خصوصا چین کی ترقی کا ذکر انھوں نے اپنے کلام میں بھی کیا اور چین نے اپنی انتھک محنت سے علامہ کی بات کو سچ ثابت کیا ہے اور۲۱ویں صدی بجا طور پر مغرب سے مشرق کی بلندی کے سفر کی صدی ہے۔ اور دنیا کا معاشی اور سیاسی فوکس واضح طور پر ایشیا کی جانب ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات ۱۹۵۱ء میں قائم ہوئے اور پاکستان چین کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔ تاہم دونوں خطوں کے لوگوں کے درمیان دوستی کی بنیادوں پر تعلقات کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں اور یہ تعلق ہر گزرتے دن کا ساتھ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ۱۹۔۲۰۱۸ء میں چین کا دورہ کیا اس کے علاوہ پاکستان چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ میں اہم کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور سی پیک پاکستان چین کے تعلقات میں ایک نئے دور کا نشان ہے۔ چین نے گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے علاویں ازیں توانائی کے منصوبوں میں بھی چین پاکستان کی مدد کرکے اپنا دوست کا کردار نبھا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی واقعی ہی پہاڑوں سے اونچی ، سمندروں سے گہرائی، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے۔ ڈائریکٹر اقبال اکادمی پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور مہمان خصوصی جناب ڈویوئی کو پاک چین سفارتی تعلقات کے ۷۰ سال اور چین کمیونسٹ پارٹی کے ۱۰۰ سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کہا کہ اقبال اکادمی اُردوسے شغف رکھنے والے چینی اہل علم و دانش کی ذوق و آبیاری کے لیے علامہ اقبال کی شاعری کے تراجم کا اہتمام کر رہی ہے۔ انھوں نے چینی سفارت کار جناب ڈو یوئی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی عوام کو قریب لانے کے لیے بچوں کے ادب کوایک دوسرے کی زبان میں ترجمہ کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ بچوں کی سطح پر ثقافت اور ادب کے تبادلہ سے سماجی رویوں کی تربیت کا موقع ملے گا اور پاکستان و چینی عوام یقینا مزید قریب ہوں گے۔

تصاویر

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

اقبال اکادمی پاکستان