Official Website of Allama Iqbal
  bullet سرورق   bullet سوانح bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر جاوید اقبال کی ساتویں برسی کے موقع پر ’’بیاد فرزند اقبال۔جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال‘‘سیمینارکا انعقاد

ملت اسلامیہ کا ہر فرد جانتا ہے کہ محمد عربی ﷺسے ہے عالم کا وجود ، علامہ کی شاعری کا عروج بھی عشق رسول ﷺسے ہے۔اقبال کی فکرکا نچوڑ قرآن ، رسالت اور خودی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام بسلسلہ ربیع الاول کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی قومی اقبال کانفرنس ۲۰۲۲ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس کا عنوان ’’علامہ اقبال اور عشق رسولﷺ‘‘تھا۔ صدارت معروف اقبال شناس، محقق اور سفیر اقبال جناب ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے کی ۔ مہمانان اعزاز میں جناب پروفیسر وحید الزمان طارق اور ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی شامل تھیں ۔ کلمات تشکر ڈائریکٹر اقبال اکادمی پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے پیش کیے۔ قومی اقبال کانفرنس میں ملک بھر سے اقبال سکالرز نے اپنے مقالے پیش کیے۔ ان میں ، جناب ڈاکٹر محمد طاہر رمضان کاشمیری، ڈاکٹر انیلا سلیم، ڈاکٹر عروبہ مسرور صدیقی، ڈاکٹر روبینہ یاسمین، ، جناب حسن رضا اقبالی اور جناب میاں ساجد علی شامل تھے۔
کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔تلاوت قرآن پاک کی سعادت جناب ندیم الحسن اور نعت رسول مقبول ﷺکرن محمد دین نے حاصل کی۔ جناب صفدر کاظمی نے خوبصورت آواز میں کلام اقبال پیش کیا۔ نقابت کے فرائض محترمہ نرید فاطمہ نے انجام دیئے۔ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری کا عروج بھی عشق رسول ﷺسے ہے۔ اقبال مسلمانوں کی تاریخی فتوحات کو بار بار سامنے لا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسی عشق کے جذبے کے فقدان کے باعث امت مسلمہ سے دنیا کی خلافت واپس لے لی گئی۔ ڈائریکٹر اقبال اکادمی پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے تمام مہمانان گرامی ،مقالہ نگاران اور شرکاکا شکریہ ادا کیا۔ حاضرین مجلس سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ فرنگ کی کوشش رہی کہ مسلمانوں سے دین محمدی کی روح نکال دیں۔ ملت اسلامیہ کا رشتہ آپ ﷺسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ محمد ﷺپر یقین رکھنے والے، قافلہ کے افراد ، ملت اسلامیہ کا ہر فرد جانتا ہے کہ محمد عربی ﷺسے ہے عالم کا وجود۔
پروفیسر وحید الزمان طارق نے کہا کہ اقبال کی فکرکا نچوڑ قرآن ، رسالت اور خودی ہے جو علامہ محمد اقبال کی بصیرت اور بصارت کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ اقبال کے فلسفہ کی ماخذ قرآن کی آیات ہیں۔
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ علامہ کی زندگی ، شخصیت، شاعری اور نثر نگاری کا مطالعہ کریں تو نبی ﷺکے ساتھ علامہ کا تعلقِ خاطر ، ایک قلبی و ذہنی وابستگی اور عشق و محبت کا جذبہ مطالعہ اقبال کا ایک نمایاں اور زریں باب نظر آتا ہے۔اُن کی زندگی کے ہر دور میں عشق رسول ﷺایک زندہ ، توانا اور ایکانقلاب انگیز جذبے کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے کہا کہ علامہ کے عشق رسول کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔
ڈاکٹر محمد طاہر رمضان کاشمیری نے کہا کہ کلام اقبال پورا کا پورا نبی ﷺکی مدحت ہے۔ آپ کا عشق بظاہر ہجر نظر آتا ہے مگر آپ وصال کی لذتوں سے آشنا تھے۔
ڈاکٹر عروبہ صدیقی نے کہا کہ علامہ اقبال نا صرف حضور سے عشق کرتے ہیں بلکہ اپنے مخاطب کو عشق رسول ﷺ اختیار کرنے اور ویسا طرز حیات اپنانے پر زور بھی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر انیلہ سلیم نے کہا کہ اقبال کے نزدیک جہان، یہ زندگی، یہ دین، یہ ایمان ،یہ مسلمانی سب کچھ اسم محمدﷺکا فیضان ہے۔
ڈاکٹر روبینہ یاسمین نے کہا کہ اقبال کے ہاں آئین و قانون کا سرچشمہ صرف اور صرف اخلاق مصطفویﷺاور اُسوہ رسول ﷺکی تعلیمات کی تقلید میں پیروی ہے۔
میاں ساجد علی نے کہا کہ اقبال کے نزدیک حضور اکرم ﷺکا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ حضور ﷺقیامت تک کے لیے پیشوائے انسانیت ہیں۔ حضور اکرم ﷺکا روحانی فیض زندگی کے ہر میدان میں کارفرما رہتا ہے۔
پروفیسر محمد توصیف نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی عشق مصطفی ﷺ سے مراد اتباع رسول ﷺہے۔
کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکا کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔

اقبال اکادمی پاکستان