Official Website of Allama Iqbal
  bullet سرورق   bullet سوانح bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

اقبال اکادمی پاکستان کی ۲۰۲۱۔۲۲ء کی مطبوعات کی تقریب رونمائی

لاہور ( ۵ اکتوبر ۲۰۲۲ء) اقبال اکادمی پاکستان کی ۲۰۲۱۔۲۲ء کی مطبوعات کی تقریب رونمائی کا اہتمام بینکویٹ ہال ایوان اقبال میں کیا گیا۔تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے کی ۔ حرف تشکر ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے پیش کیا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت پروفیسر سیمہ نیاز نے حاصل کی اور ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺردا فاطمہ نے پیش کیا۔ تقریب کی نقابت کے فرائض ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے انجام دئیے
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے کہا کہ اقبال اکادمی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت آج کی یہ تقریب ہے۔ عاشقان اقبال کا دائرہ بہت وسیع ہے۔علامہ اقبال کا پیغام رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا اور آج بھی دنیا ان کی فکر سے مستفید ہو رہی ہے۔ علامہ کا پیغام روحانیت و ولایت کی دلیل ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کہا کہ علامہ اقبال بہت بڑے مفکر اور فلسفی ہیں۔ ان کے افکار بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے کلام میں مؤثر اسلوب ، شان اور وجاہت نظر آتی ہے۔ اقبال کا اسلوب سب سے منفرد نظر آتا ہے۔مطالعہ کثرت کی بنا پر اسلوب کی کارگری منفرد ہے۔اقبال خود کو بڑے شاعر کے طور پر نہیں بلکہ مفکر کے طور پر پہچانا جانا پسند کرتے تھے۔
ڈاکٹر اسلم انصاری نے کہا کہ علامہ اقبال نے خود شناسی کا جو سبق دیا اس کی تکمیل کی۔ اسرار خودی میں بتایا کہ خود شناسی ممکن ہے جب کہ رموز بے خودی میں کہا کہ خود کو گم کرنا ہے تو ملت کے مقاصد میں گم کرناچاہیے۔ اخلاقیات اور ضبط نفس کے پہلو بیان کیے۔ آج کی دنیا میں یہ پہلو خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ علامہ کا پیغام آفاقی ہے لیکن مسلمانوں اور ملت اسلامیہ کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں ذاتی مقاصد سے بالا تر ہو کر ملت کے مقاصد کو پورا کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں اس کی بہت ضرورت ہے۔
ڈاکٹر عبدالحق نے کہا کہ میری مدت سے آروز تھی کہ میری کتاب اقبال اکادمی سے شائع ہو جائے اور قبیلہ اقبال میں شامل ہو سکوں۔ اقبال پر لکھنا آسان نہیں ۔ اتنا ذخیرہ ہے کہ ہر پہلو پر دوستوں نے خامہ فرسائی کی۔ ابھی بھی اقبالیات میں موضوع توجہ طلب ہیں۔
ڈاکٹر مقصود جعفری نے کہا کہ علامہ اقبال کی ساری سوچ کا مرکز آزادی ہے۔ فلسفہ خودی کے ذریعہ قوموں کو آزاد کریا، انسانی آزادی اور خود اعتمادی پیدا کی۔ علامہ محمد اقبال انقلابی شاعر تھے۔ انہوں نے اتحاد پر زور دیا۔ ساری دنیا تک ان کا پیغام پہنچنا چاہیے۔
ڈاکٹر خالدہ جمیل ناصر نے کہا کہ اسلام اقبال کا سب سے بڑا موضوع اور عشق ہے ۔
ڈاکٹر عروبہ صدیقی نے کہا کہ اقبال کا تصوف روایتی نہیں ہے۔ اقبال کی صوفیانہ فکر انہیں توحیدی ثابت کرتی ہے۔
ڈاکٹر نغمانہ کوثر نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی تمام شاعری کا نچوڑ عشق ہے۔ اہل علم سے اہل عشق کا سفر کیے بغیر نہیں رہ جا سکتا۔
انجینئر عنایت علی نے کہا کہ علامہ اقبال کے افکار کو سمجھیں ۔ علامہ نے ساری زندگی قناعت پر گزاری۔
یاد رہے کہ علامہ اقبال کی فکری پیغام پر اقبال اکادمی پاکستان نے ۲۰۲۱۔۲۲میں ۱۶ انگلش و اردو پر نئی مطبوعات کی اشاعت کی ۔ ان کتب میں ’’اب کیا کرنا چاہیے اے اقوام شرق – مثنوی پس چہ باید کرد کا منظوم اردو ترجمہ‘‘ڈاکٹر تحسین فراقی، ’’مثنوی فرخ نامہ‘‘ ڈاکٹر اسلم انصاری،’’اقبال کا نغمۂ شوق ‘‘پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین،’’اسلام کا اخلاقی اور سیاسی نصب العین‘‘خالدہ جمیل ناصر،’’اسفار اقبال ‘‘ عنایت علیThe Message of Iqbal ڈاکٹر مقصود جعفری، The Use of Metaphors in Iqbal’s Urdu Poetry ڈاکٹر سردار فیاض الحسن ، Walt Whitman and Allama Muhammad Iqbal ،افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت – ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی’اقبال- دیدہ بینائے قوم‘‘ ڈاکٹر تحسین فراقی،’’زندہ رود کا تحقیقی اور تنقید ی مطالعہ ‘‘ ڈاکٹر راشد حمید،’’فرائڈ اور اقبال کے نظریاتِ شخصت، کا تقابلی مطالعہ ‘‘ڈاکٹر خالد الماس، ’’فکر اقبال کی سرگذشت‘‘ڈاکٹر عبدالحق،’’کلام اقبال مںی مابعد الطبیعیاتی و صوفیانہ عناصر‘‘ ڈاکٹر عروبہ مسرور صدیقی،’’کلام اقبال مرتبہ عبد الرزاق کے تناظر میں اقبال کے فکری و فنی ارتقا کا جائزہ‘‘ڈاکٹر محمد رمضان طاہر کاشمیری،’’جدید تحریکات اور اقبال ‘‘ڈاکٹر خالد اقبال یاسر شامل ہیں۔

اقبال اکادمی پاکستان