Official Website of Allama Iqbal
  bullet سرورق   bullet سوانح bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر جاوید اقبال کی ساتویں برسی کے موقع پر ’’بیاد فرزند اقبال۔جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال‘‘سیمینارکا انعقاد

اہور ( ۳ اکتوبر ۲۰۲۲ء) اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر جاوید اقبال کی ساتویں برسی کے موقع پر ’’بیاد فرزند اقبال۔جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال‘‘سیمینارکا انعقاد کیاگیا۔ سیمینار کی صدارت جسٹس (ر)ناصرہ جاوید اقبا ل نے کی جب کہ دیگر مہمانان گرامی میں پروفیسر وحید الزمان طارق، پروفیسر جاوید اقبال ندیم، پروفیسر زیب النساء سرویا، انجینئر عنایت علی اور جناب رانا امیر ایڈووکیٹ شامل تھے۔ افتتاحی کلمات ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نےادا کیے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے انجام دئیے۔ خازن اقبال اکادمی پاکستان جناب شوکت امین شاہ نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
جسٹس (ر)ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کے ساتھ ۵۱برس کا ساتھ رہا۔ انہوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ وہ بہت مثبت خیالات رکھتے تھے۔ گھر اور بچوں کے معاملات میں ہمیشہ میری رائے کو مقدم جانا۔ وہ کبھی بھی عدالت کا کام گھر میں نہیں لاتے تھے۔میں ان کے سیاست میں حصہ لینے کے خلاف تھی لیکن جب وہ سیاست میں آئے تو ان کی بھر پور سپورٹ کی۔ڈاکٹر جاوید اقبال سخت محنت کے قائل تھے اور ملک کے نواجونوں کو بھی یہی کہا کرتے تھے کہ ایسا کام کریں جس سے ان کا اور ملک کا نام روشن ہو ۔علامہ اقبال نے جاوید سے متعلق جو نظمیں کہیں ڈاکٹر جاوید اقبال نے ان کا حق ادا کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کہا کہ جاوید اقبال مرحوم کا اپنا منفرد انداز تھا۔ جاوید اقبال نے صحیح معنوں میں جاوید بن کر دکھایا۔ افکار اقبال کی تشکیل کافریضہ نہایت عمدہ طریقے سے انجام دیا جس کا ممتاز حوالہ ’’زندہ رود‘‘ہے۔ انہوں نے اپنے قلم سخن اور عملی زندگی کے ذریعے خود کو ممتاز شخصیت ثابت کیا۔ ان کی زندگی علامہ اقبال کی ان پر لکھی گئی نظموں کی عملی تفسیر ہے۔
پروفیسر وحید الزمان طارق نے کہا کہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ہمیشہ حق گوئی اور بے باکی کا فریضہ انجام دیا۔ ساری زندگی اصولوں پر کاربند رہے، بڑے سے بڑے عہدہ کو بھی ٹھکرادیا۔ جاوید اقبال کی کتاب ’’Ideology of Pakistan‘‘اساس پاکستان کا بہترین حوالہ ہے۔
پروفیسر جاوید اقبال ندیم نے کہا کہ جسٹس (ر) ڈاکٹرجاوید اقبال ہمیشہ فکری اور علمی انداز کی گفتگو کرتے۔ علامہ محمد اقبال نے بیٹے کے ذریعے امت مسلمہ کو پیغام دیا۔ نوجوانوں کو ان کی فکری و علمی باتوں کی پیروی کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر زیب النساء سرویا نے کہا ڈاکٹر جاوید اقبال ایک عظیم محقق تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی تحقیق میں گزاری۔ ڈاکٹر جاوید اقبال اندھی تقلید کے قائل نہ تھے۔ دلیل کے ساتھ بات کرتے اور پھر اس پر ڈٹ جاتے تھے۔
جناب رانا امیر ایڈووکیث نے کہا کہ جسٹس (ر) ڈاکٹرجاوید اقبال نے علمی انداز میں قانونی امور کے علاوہ پاکستانی سیاست میں حصہ بھی لیااور اس وقت سیاست میں حصہ لیا جب بہت کم پڑھے لکھے لوگ سیاست میں شامل ہوتے تھے۔
سیمینار کے اختتام پر جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

اقبال اکادمی پاکستان