Official Website of Allama Iqbal
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

اقبال اکادمی پاکستان نے نئے قواعد کے مطابق
صدارتی اقبال ایوارڈ 2019 کا اجرا کر دیا ۔

سلیکشن کمیٹی برائے صدارتی اقبال ایوارڈ کے فیصلے کے مطابق یہ ایوارڈ  2019  میں علامہ اقبال کی شخصیت اور ان  کے فکر و فن پر لکھی گئی تحقیقی و تنقیدی کتب پر دیا جائے گا ۔ کمیٹی کے فیصلے کی رو سے 2016 تا 2018  میں  تحریر کردہ اقبالیات کی مذکور موضوعات پر لکھی گئی تحقیقی و تنقیدی کتب بھی 2019  کے اس  مقابلے  میں شامل ہو سکیں گی: پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین
لاہور ( مورخہ 8اگست 2020) اقبال اکادمی پاکستان نےنئےقواعدکےمطابق صدارتی اقبال ایوارڈ  برائے سال 2019 کااجرا کر دیا۔  سلیکشن کمیٹی کے فیصلے کے مطابق  2019  میں تحریر کردہ کتب کے ساتھ ساتھ اس مقابلے میں سال 2016 سے 2018 تک علامہ اقبال کی حیات و افکار ، ان کی شخصیت اور کلام کے حوالے سے اردو، انگریزی اور  دیگر زبانوں میں لکھی جانے والی کتب بھی صدارتی اقبال ایوارڈ کے لیے مقابلے میں شامل ہو سکیں گی۔ علاوہ ازیں  آیندہ اردو کتابوں کے لیے ہر سال جب کہ انگریزی اوردیگر زبانوں میں لکھی جانے والی کتب  پر ہر تین سال بعد حسب روایت  صدارتی اقبال ایوارڈ دیا جائے گا۔
ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آج (بروز ہفتہ ) نائب صدر اقبال اکادمی پاکستان  ڈاکٹر شہزاد قیصر کی زیر صدارت  ایوان اقبال میں منعقد کیے گئے اقبال صدارتی ایوارڈ  کی سلیکشن کمیٹی  کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2019 میں  صدر پاکستان  کی منظوری سے جاری کردہ نئے قواعد کے مطابق  حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی  زندگی، ان کے فلسفہ و تعلیمات اور ان کے  کلام پر فکری و فنی حوالے سے تحریر کردہ کتب پر صدارتی اقبال ایوارڈ  کے موقوف سلسلے کو از سر نو جاری کیا جائے گا ۔ اس ضمن میں  آج کے منعقدہ اجلاس میں  صدر اقبال اکادمی پاکستان ، وفاقی وزیر تعلیم ، قومی ورثہ و ثقافت جناب شفقت محمود کی جانب سے گذشتہ اجلاس سلیکشن  کمیٹی میں قائم کردہ ذیلی کمیٹی  برائے اقبال ایوارڈ کی سفارشات پیش ہوئیں ۔ان سفارشات کی روشنی میں نہ صرف  2015 تک کے منصفین کے کیے گئے صدارتی اقبال ایوارڈز کے موخر فیصلوں کی توثیق کی گئی  بلکہ نئے قواعد کی روشنی میں  سال 2019ء کے لیے ایوارڈ کے اجراء  کی منظوری بھی دی گئی۔  علاوہ ازیں اقبالیات کے فروغ کے لیے 2016 تا 2018 کی اس ضمن میں لکھی گئی کتابوں کو بھی 2019 کے مقابلہ کتب  میں شرکت کی منظوری دی گئی۔  وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و فنی تربیت  قومی ورثہ و ثقافت  ،  صدر اقبال  اکادمی  پاکستان جناب شفقت محمود صاحب کی ناگزیر مصروفیت کے باعث حسب ہدایت صدر اکادمی جناب ڈاکٹر شہزاد قیصر نائب صدر اکادمی نے اجلاس کی صدارت کا فریضہ انجام دیا۔ شرکائےکرام میں وفاقی  سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن محترمہ نوشین جاوید امجد، چیئرمین اکادمی ادبیات پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک،  ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال کامران ، صدر ادارہ تحقیقات اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، راجا محمد اختر اقبال اور  ڈاکٹر حمیرا شہباز صاحبہ اور ڈائریکٹر اقبال اکادمی پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین شامل تھیں ۔



اقبال اکادمی پاکستان