www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

فلسفہ عجم

فلسفہ عجم

مندرجات

دیباچۂ
حصہ اوّل قبل اسلامی فلسفۂ ایران
باب اوّل ایرانی ثنویت
حصہ دوم یونانی ثنویت
باب دوم ایران کے نوفلاطونی...
باب سوم اسلام میں عقلیت کا عروج...
باب چہارم - تصوریت اور عقلیت کے...
باب پنجم - تصوف کا مآخذ اور قرآن...
باب ششم - مابعد کا ایرانی تفکر
خاتمہ


دیگر زبانیں

خاتمہ

اب ہمیں اپنی تحقیق کے نتائج کو سمیٹ کر اجمالی طور پر بیان کرنا چاہیے ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایرانی ذہن کو مختلف قسم کی ثنویت کے خلاف کش مکش کرنی پڑی۔ (قبل اسلامی مجوسی ثنویت اور بعد اسلامی یونانی ثنویت) گو اشیا کی کثرت و تعدد کے اساسی مسئلہ میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔ قبل اسلامی ایرانی مفکرین کا نقطۂ نظر بالکل خارجی تھا اسی لیے اُن کی عقلی جدوجہد کے نتائج کم و بیش مادی نوعیت کے تھے۔ تاہم قبل اسلامی مفکرین نے صاف طور پر اس بات کا ادراک کرلیا تھا کہ کائنات کی اصل کو متحرک خیال کرنا چاہیے۔ زرتشت کے نزدیک دونوں ابتدائی ارواح “فاعل” ہیں “مانی” کے خیال میں قوتِ نور منفعل ہے۔ اور قوت ظلمت جنگجو ہے۔ لیکن اُنھوں نے اُن مختلف عناصر کی جن سے کائنات تشکیل پاتی ہے جو تحلیل کی ہے وہ مضحکہ خیز طور پر کمزور ہے۔ ان کے تصور عالم کا سکونی پہلو بہت ہی ناقص ہے۔ لہٰذا ان کے نظام میں وہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔
(۱) عریاں ثنویت۔
(۲) فقدان تحلیل۔
پہلی کمزوری کو اسلام نے دور کردیا اور دوسری کمزوری یونانی فلسفہ کی اشاعت سے دفع ہوگئی۔ بہرصورتِ اسلام کی آمد اور یونانی فلسفہ کے مطالعہ سے ایرانیوں کے میلانِ وحدیت میں مزاحمت پیدا ہوگئی۔ لیکن ان دو قوتوں نے اُس خارجی نقطۂ نظر کو بدل دیا جو ابتدائی مفکرین کی امتیازی خصوصیت تھی اور باطنیت کو گہری نیند سے بیدار کردیا جو بالآخر بعض صوفیانہ مکاتب کی وحدت الوجود میں آکر اپنے منتہائے کمال کو پہنچ گئی۔ الفارابی نے مادہ کو روح کے ایک مخلوط ادراک میں تحویل کرکے خدا اور انسان کی ثنویت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی اشاعرہ نے ثنویت کو بالکل مسترد کردیا اور وہ ایک مکمل تصوریت کے علم بردار بن گئے۔ ارسطو کے مقلدین نے اپنے اُستاد کے مادۂ اولیٰ کے نظریہ کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ صوفیہ عالم مادی کو محض ایک التباس سمجھتے تھے یا یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو اپنی ذات کا علم حاصل کرنے کے لیے ایک ماسوا کی ضرورت تھی۔ بلاخوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ اشاعرہ کی تصوریت نے ایرانی ذہن کو خدا اور مادہ کی بدیسی ثنویت سے چھٹکارا دلایا اور وہ نئے فلسفیانہ خیالات سے اپنے آپ کو مستحکم کرکے نور و ظلمت کی قدیم ثنویت کی طرف لوٹ گیا۔ شیخ الاشراق نے قبل اسلامی مفکرین کے خارجی نقطۂ نظر کو اپنے قریبی پیشروئوں کے باطنی نقطۂ نظر سے متحد کرکے زرتشت کی ثنویت کو زیادہ فلسفیانہ اور روحانی صورت میں پیش کیا۔ اس کے نظام میں موضوع و معروض یا باطن و خارج دونوں کو جگہ دی گئی ہے۔ لیکن ان تمام توحیدی نظامات فکر کو واحد محمد کی کثرتیت سے دوچار ہونا پڑا، جس کی تعلیم یہ تھی کہ حقیقت ایک نہیں بلکہ ایک سے زیادہ ہے، یعنی ذی حیات ابتدائی اکائیاں مختلف طریقوں سے متحد ہوتی ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ صورتوں میں سے گذر کر کمال کی طرف بتدریج بڑھتی ہیں۔ بہرحال واحد محمد کا ردِعمل ایک بالکل عارضی اور وقتی واقعہ تھا۔ مابعد کے صوفیہ اور فلاسفہ نے نوفلاطونی نظریۂ صدور کو بدل دیا یا ترک کردیا تھا۔ مابعد کے مفکرین میں ہم دیکھتے ہیں کہ نوفلاطونیت سے حقیقی فلاطونیت کی طرف جو حرکت شروع ہوتی تھی اُس کو ملا ہادی کے فلسفہ نے تکمیل تک پہنچا دیا تھا۔ لیکن خالص تفکر اور خواب آور تصوف کے راستہ میں بانی مذہب بری طرح حائل ہوگیا۔ یہ مذہب ظلم و تعدد کی پروا نہ کرکے تمام فلسفیانہ اور مذہبی میلانات کو متحد کرتا اور روح میں اشیا کی ٹھوس حقیقت کا شعور پیدا کردیتا ہے۔ اگرچہ اس کی نوعیت بہت ہی جامع اور ہمہ گیر تھی اور حب وطن سے معرا بھی تھی پھر بھی اس کا ایرانی ذہن پر گہرا اثر پڑا۔ بابی مذہب کی غیر صوفیانہ اور عملی نوعیت ایران کی جدید سیاسی اصلاح کی علتِ بعیدہ قرار دی جاسکتی ہے۔

<<پچھلا 

خاتمہ

خاتمہ


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان