www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

فلسفہ عجم

فلسفہ عجم

مندرجات

دیباچۂ
حصہ اوّل قبل اسلامی فلسفۂ ایران
باب اوّل ایرانی ثنویت
حصہ دوم یونانی ثنویت
باب دوم ایران کے نوفلاطونی...
باب سوم اسلام میں عقلیت کا عروج...
باب چہارم - تصوریت اور عقلیت کے...
باب پنجم - تصوف کا مآخذ اور قرآن...
باب ششم - مابعد کا ایرانی تفکر
خاتمہ


دیگر زبانیں

باب ششم

مابعد کا ایرانی تفکر

ایران کے وحشی تاتاری حملہ آوروں کے زمانہ میں، جن کو کسی مستقل نظام فکر سے کوئی دل چسپی نہ ہوسکتی تھی، تصورات میں کوئی ترقی نہ ہوسکی۔ تصوف مذہب سے متحد ہوکر قدیم تصورات کو منضبط کرنے اور جدید تصورات کو نمو دینے لگا۔ لیکن اصلی فلسفہ کا تاتاریوںکو کوئی ذوق نہ تھا حتیٰ کہ فقہ اسلامی کی ترقی بھی مسدود ہوگئی تھی۔ کیوں کہ تاتاریوں کے نزدیک فقہ حنفی عقل انسانی کا منتہائے کمال سمجھا جاتا تھا، اور قانونی تعبیر کی نزاکتیں اُن کے دماغ کے لیے ناگوار تھیں۔ قدیم مذاہب فکر اپنی اصابت کو کھو چکے تھے، اکثر مفکرین نے اپنے وطن کو چھوڑ کر موزوں حالات کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رُخ کیا۔سولھویں صدی میں ایرانی ارسطاطالیئسیں دستور اصفہانی، ہیربد، منیر اور کامران، ہندوستان کی طرف سفر کرتے نظر آتے ہیں، جہاں شہنشاہ اکبر زرتشتیت کی مدد سے خود اپنے لیے اور درباریوں کے لیے جن پر ایرانیت زیادہ غالب تھی، ایک جدید مذہب کی بنیاد ڈال رہا تھا۔ بہرحال سترہویں صدی تک ایران میں کوئی زبردست مفکر پیدا نہ ہوا تاوقتیکہ ملا صدرا نے اپنے فلسفیانہ نظام کو اپنی زبردست منطقی قوت کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ ملا صدرا کے نزدیک حقیقت تمام اشیا ہے۔ پھر بھی وہ ان میں سے کوئی شے نہیں۔ صحیح علم موضوع و معروض کی عینیت پر مشتمل ہے۔ دے گوبی نیان خیال کرتا ہے کہ ملاصدرا کا فلسفہ ابن سینا کے فلسفہ کی تجدید ہے۔ تاہم وہ اس واقعہ کو نظر انداز کردیتا ہے کہ ملاصدرا کا یہ نظریہ کہ موضوع و معروض میں عینیت ہے ایک آخری قدم ہے جو ایرانی عقل نے مکمل وحدیت کی طرف اُٹھایا تھا۔ اس کے سوا ملاصدرا کا فلسفہ ہی ابتدائی بابی مذہب کی مابعد الطبیعیات کا ماخذ ہے۔
لیکن فلاطونیت کا میلان ملا ہادی سہروردی میں زیادہ وضاحت کے ساتھ رونما ہوا ہے، جو اٹھارویں صدی میں گذرے ہیں ان کے ہم وطن ان کو ایرانِ جدید کے ائمہ مفکرین میں جگہ دیتے ہیں۔ ایران کے جدید تفکر کی مثال کے طور پر میں اس مفکر اعظم کے خیالات کو اجمالاً پیش کرتا ہوں جو ان کی اسرار الحکم (مطبوعہ ایران) مندرج ہیں۔ ان کی فلسفیانہ تعلیم پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے تین اساسی تصورات کا انکشاف ہوگا، جو غیر منفک طور پر بعد اسلامی فلسفۂ ایران سے وابستہ ہوگئے ہیں۔
(۱) وجود حقیقی کی وحدت مطلق کا تصور جس کو “نور” سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(۲) ارتقا کا تصور جو زرتشتیت کے روح انسانی کی منزلِ مقصود کے نظریہ میں خفی طور پر آتا ہے اور جس کو ایران کے نوفلاطونین اور صوفیانہ مفکرین نے مزید وسعت دی اور اس کو مربوط و منضبط کیا۔
(۳) حقیقتِ مطلق اور غیر حقیقت کے مابین ایک وسیلہ کا تصور۔
اس بات کو معلوم کرنا بہت ہی دلچسپ ہے کہ ایرانی ذہن میں نوفلاطونیت کے نظریہ صدور سے کس طرح بتدریج چھٹکارا حاصل کیا اور افلاطون کے فلسفہ کے خالص تصور تک کس طرح پہنچا۔ ہسپانیہ کے عرب مسلمانوں نے بھی اسی قسم کے الفاظ کے ذریعہ سے اور اسی وسیلہ (نوفلاطونیت) سے ارسطو کے فلسفہ کا صحیح تصور حاصل کیا تھا یہ ایسا واقعہ ہے جس سے ان دونوں نسلوں کی اجتہادِ فکر کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ لیوس اپنی سوانحی تصنیف تاریخ فلسفہ میں کہتا کہ افلاطون کا فلسفہ ان تک نہیں پہنچتا تھا۔ بہرحال میں اس خیال کی طرف مائل ہوں کہ عربوں کی ذہنیت بالکل عملی تھی اور اسی لیے افلاطون کا فلسفہ، اگر وہ صحیح روشنی میں بھی ان کے آگے پیش کیا جاتا تب بھی ان کے مذاق کے خلاف تھا۔ میرا یقین ہے کہ یونانی فلسفہ کے نظامات میں سے صرف نوفلاطونیت ہی اسلامی دنیا کے آگے اپنی پوری جامعیت کے ساتھ پیش ہوئی تھی، پھر بھی ناقدانہ تحقیق و تفتیش نے عربوں کا رُخ فلاطینوس سے ارسطو کی طرف اور ایرانیوں کا رُخ افلاطون کی طرف پھیر دیا۔ ملا ہادی کے فلسفہ میں یہ عجیب و غریب طریقہ سے رونما ہوا ہے۔ ملا ہادی کسی صدور کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ افلاطونی تصورِ حقیقت کیطرف جاتے ہیں۔ اس کے سوا اُن کے فلسفہ سے اس بات کی بھی توضیح ہوجاتی ہے کہ جن ملکوں میں علم طبعی موجود نہیں یا پڑھا نہیں جاتا۔ وہ بالآخر مذہب میں جذب ہوجاتا ہے اس طرح ایران میں فلسفیانہ تفکر بھی مذہب میں جذب ہوگیا۔ جوہر کو (یعنی مابعد الطبعی علت جو طبعی علت سے متمائز ہے) جس کے معنی مجموعہ شرائط مقدم کے ہیں، کسی اور تصورِ علت کی عدم موجودگی میں “شخصی ارادہ” میں متبدل کردینا چاہیے۔ اور غالباً اس کی اصلی وجہ یہی ہے کہ ایرانی نظاماتِ فلسفہ کا تار بالآخر مذہب میں آخر ختم ہوتا ہے۔
اب ہم کو ملاہادی کے نظامِ فکر کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ان کی یہ تعلیم ہے کہ عقل کے دو پہلو ہیں:
(ا) نظری۔ جس کا مطمح نظر فلسفہ اور ریاضیات ہے۔ اور
(ب) عملی۔ جس کا مطمح نظر معاشیات، سیاسیات وغیرہ ہے۔ فلسفہ صحیح معنوں میں اشیا کے آغاز و انجام کے علم اور عرفانِ نفس پر مشتمل ہے۔ اس میں خدا کے قانون کا علم بھی داخل ہے جو مذہب کے مماثل ہے۔ اشیا کے ماخذ و مبدا کو سمجھنے کے لیے مختلف مظاہر عالم کی دقیق النظری سے تحلیل کرنی چاہیے۔ اس قسم کی تحلیل سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ اصلی قوتیں ہیں۔۱؎
(۱) حقیقت۔ نور۔
(۲) عکس۔ باطل۔
(۳) غیر حقیقت۔ ظلمت۔
حقیقی قوتِ ظل کے مقابلہ میں مطلق اور واجب الوجود ہے لیکن ظل اضافی اور ممکن الوجود ہے۔ اپنی ماہیت میں وہ خیر مطلق ہے، اور یہ قضیہ کہ وہ خیر ہے بالکل بدیہی۲؎ ہے۔ ہستیِ بالقوا کی تمام صورتیں قبل اس کے کہ قوتِ حقیقی ان کو قوت سے فعل میں لے آئے وجود یا عدم دونوں کے تابع رہتی ہیں، اور ان کے وجود و عدم کے امکانات بالکل مساوی ہوتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ لازم آتا ہے کہ قوتِ حقیقی جو وجود بالقوا کو وقت سے فعل میں لے آتی ہے وہ خود عدم نہیں ہوسکتی، کیوں کہ عدم عدم پر عمل کرکے وجود کو پیدا نہیں کرسکتا۔ ملا ہادی اس تصور کی رہنمائی میں کہ قوتِ حقیقی ایک عامل ہے فلاطون کے سکونی تصور عالم کی ترمیم کرتے ہیں اور ارسطو کی تقلید میں اس حقیقی قوت کو تمام حرکات کا ایک غیر متحرک ماخذ و منفذ خیال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “کائنات کی تمام اشیا کو کمال سے عشق ہے اور وہ اس آخری مقصد کی طرف حرکت کررہی ہیں۔ مثلاً قلزات نباتات کی طرف، نباتات حیوانات کی طرف، اور حیوانات انسان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور دیکھو کہ انسان کس طرح رحم مادر میں ان تمام منازل سے ہوکر گزرتا۴؎ ہے۔” محرک بحیثیت ایک محرک کے حرکت کا ماخذ ہے یا مقصد یا یہ دونوں ہے۔ اور ہر صورت میں محرک کو متحرک ہونا چاہیے ایک غیر متناہی رجعت کی طرف لے جاتا ہے۔ حرکت کو ایک ایسے غیر متحرک محرک پر رُک جانا چاہیے جو تمام حرکات کا ماخذ و مقصد ہے۔ اس کے سوا قوت حقیقی ایک وحدت خالص ہے کیوں کہ اگر تعدد حقائق ہو تو ایک حقیقت دوسری حقیقت کی تحدید کرے گی۔ قوتِ حقیقی کو بحیثیت ایک خالق کے بھی کے بھی ایک سے زیادہ نہیں تصور کرسکتے، کیوں کہ خالقین کے تعدد سے عوالم کا تعدد لازم آئے گا اور یہ دائروں کی شکل میں ایک دوسرے سے لمس کریں گے۔ اس سے خلا بھی لازم آتا ہے جو محال ہے۔ لہٰذا حقیقی قوت پر جوہر کی حیثیت سے نظر ڈالیں تو وہ واحد ہی ہے۔ لیکن ایک اور مختلف نقطۂ نظر سے اس میں کثرت و تعدد بھی پایا جاتا ہے۔ یہ حیات، قوت اور محبت پر مشتمل ہے، گو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ صفات اس میں بالطبع موجود ہیں۔ بہرحال یہ صفات اور قوتِ حقیقی ایک دوسرے کی عین ہے۔ وحدت سے مراد ایک ہونا نہیں ہے، اس کی ماہیت “تمام علائق کے اسقاط” پر مشتمل ہے۔ صوفیہ اور دیگر مفکرین کے برخلاف ملا ہادی کا یہ دعویٰ ہے اور وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کثرت و تعدد کا اعتقاد وحدت کے اعتقاد سے متناقص نہیں ہے۔ کیوں کہ “کثرت مرئی” اُسی حقیقت کے اسما و اعراض کے ظہور کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ اعراض علم ہی کی مختلف صورتیں ہیں، جو حقیقت کی ماہیت کو تشکیل دیتے ہیں۔ بہرحال حقیقت کو اعراض کہنا محض ایک لفظی سہولت ہے، کیوں کہ “حقیقت کی تعریف کرنا گویا اس پر عدد کے مقولہ کو منطبق کرنا ہے” یہ عمل اس قد مہمل ہے کہ ایک ماورائے علائق ہستی کو دائرہ میں لے آتا ہے۔ کائنات معہ اپنی کثرت و تعدد کے نور حقیقی یا نورِ مطلق کے مختلف اسما و اعراض کا عکس ہے۔ یہ حقیقت ہی ہے، جو بے نقاب ہوگئی ہے، یا یہ “کُن” یا لفظ نور کا ظہور۵؎ ہے۔ کثرت مرئی ظلمت ہی کی تنویر ہے۔ بالفاظِ دیگر لاشے، شے بن جاتی ہے۔ اشیا ہم کو مختلف اس لیے نظر آتی ہیں کہ ہم ان کو مختلف رنگ کے آئینوں (تصورات) سے دیکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ملا ہادی نے مولانا جامی کے اشعار جن کو وہ بہت پسند کرتے ہیں، پیش کیے ہیں۔ مولانا جامی نے افلاطون کے نظریۂ تصورات کو بہت ہی خوبصورت شاعرانہ لباس میں پیش کیا ہے۔ ان اشعار کا ترجمہ حسب ذیل ہوسکتا ہے۔
تصورات، مختلف رنگ کے آئینہ ہیں جن میں خورشید حقیقت اپنے آپ کو منعکس کرتا ہے۔ اور ان کا رنگ سرخ، زرد، یا نیلگوں جو کچھ بھی ہوتا ہے اُسی رنگ میں یہ اپنے آپ کو نمایاں کرتا۶؎ ہے۔
نفسیات میں وہ زیادہ تر ابن سینا کے مقلد ہیں۔ لیکن اس موضوع پر وہ بالکل جامع اور منضبط طریقہ سے بحث کرتے ہیں۔ اُنھوں نے روح کا اصطفاف حسب ذیل طریقہ سے کیا ہے۔
روح
ارضی
سماوی
نباتی حیوانی انسانی
قوتیں:
۱- صیانت فرد
۲- تکمیل فرد
۳- توسیع نوع
روحِ حیوانی کی تین قوتیں ہیں:
۱- حواسِ ظاہری
۲- حواسِ باطنی اداراک
۳- قوتِ حرکت، جس میں (ا) حرکتِ ارادی اور (ب) حرکتِ غیر ارادی بھی شامل ہیں۔ ذائقہ، شامہ، لامسہ، سامہ اور باصرہ حواس ظاہری ہیں۔ آواز کان کے باہر موجود ہے نہ کہ کان کے اندر جیسا کہ بعض مفکرین کا خیال ہے، کیوں کہ اگر وہ کان کے باہر موجود نہیں ہے تو اُس کی سمت اور فاصل ادراک ناممکن ہے۔ سامعہ اور باصرہ دوسرے حواس سے برتر ہیں۔ا ور باصرہ سامعہ سے برتر ہے کیوں کہ:
(۱) آنکہ بہت دور کی چیزوں کا ادراک کرسکتی ہے۔
(۲) اس کا ادراک نور ہے، جو تمام اعراض میں سے بہترین عرض ہے۔
(۳) آنکھ کی ساخت بہ نسبت کان کے زیادہ پیچیدہ اور نازک ہے۔
(۴) بصر کے ادراکات، ایسی اشیا ہیں جو واقعی وجود رکھتی ہیں لیکن سامعہ کے ادراک عدم سے مشابہ ہیں۔
۱- حسِ مشترک۔ یہ نفس کی ایک لوح ہے۔ یہ گویا نفس کا وزیراعظم ہے، جو پانچ حاسوں (حواس ظاہری) کو عالم خارجی سے خبریں لانے کے لیے روانہ کرتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ “یہ سفید شے شیرین ہے” تو ہم سفیدی اور شیرینی کو حاسۂ بصر اور حاسۂ ذائقہ سے علی الترتیب ادراک کرتے ہیں، لیکن اس بات فیصلہ کہ یہ دونوں صفات ایک ہی شے میں موجود ہیں حسِ مشترکہ کرتی ہے۔ایک قطرۂ آب کے گرتے ایک خط ساجو بن جاتا ہے جہاں تک کہ آنکھ کا تعلق ہے وہ ایک قطرے کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن وہ خط کیا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں؟ ملا ہادی کہتے ہیں کہ ایسے حادثہ کی توجیہ کے لیے ایک اور حاسہ کے وجود کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ جو اس امر کا ادراک کرتا ہے کہ ایک قطرۂ آب کے گرتے وقت ایک طویل خط کس طرح بن جاتا ہے۔
(۲) وہ ملکہ جو حسِ مشترکہ کے اراکات کو محفوظ رکھتا ہے۔ یعنی تمثال و شبیہ نہ کہ تصورات۔ اس تصدیق کو کہ سفیدی اور شیرینی ایک ہی نئی شے میں موجود ہیں یہی ملکہ وضع کرتا ہے، کیوں کہ اگر وہ موضوع کی شبیہ و تمثال کو محفوظ نہ کرے تو حسِ مشترکہ محمول ادراک نہیں کرسکتی۔
(۳) وہ قوت جو تصورات منفردہ کا ادراک کرتی ہے۔ بکری کو بھیڑیے کی دشمنی کا خیال آتا ہے اور وہ اس کے پاس سے بھاگ جاتی ہے۔ حیات کی بعض صورتوں میں اس قوت کا فقدان ہوتا ہے، مثلاً پروانہ ہے کہ شمع کے شعلوں کی طرف لپکتا ہے۔
(۴) حافظہ۔ یہ محافظِ تصورات ہے۔
(۵) یہ تمثال و تصورات کو متحد کرنے والی قوت ہے، یعنی پروازِ خیال جب یہ ملکہ اُس وقت کی رہنمائی میں عمل ہے جو تصورات منفردہ کا ادراک کرتی ہے تو اس کی تخیل اور جب یہ عقل کی رہنمائی میں عمل کرتا ہے تو اس کو تعقل کہتے ہیں۔
لیکن انسان کو جو چیز حیوان سے متمائز کرتی ہے وہ روح ہے۔ یہ جوہر انسانیت، ایک “وحدت” ہے نہ کہ واحدیت۔ وہ کلیات کا ادراک بذاتِ خود اور جزئیات کا حواسِ ظاہری و باطنی کے توسط سے کرتی ہے۔ یہ نورِ مطلق کا ایک پرتو ہے اور اسی کی طرح مختلف صورتوں میں اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے۔ روح اور جسم کے مابین کوئی لزومی رابطہ نہیں۔ اوّل الذکر (روح) غیر زمانی غیر مکانی ہے، اسی لیے غیر متغیر ہے اور اپنے اندر کثرت مرئی کو جانچنے کی قوت بھی رکھتی ہے۔ خواب کی حالت میں “روح” جسم مثالی کو استعمال کرتی ہے۔ جو جسم طبعی کی طرح عمل کرتا ہے۔ بیداری کی حالت میں وہ عام طبعی جسم سے کام لیتی ہے۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ روح ان دونوں میں سے کسی کی بھی محتاج نہیں اور ان دونوں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتی ہے۔ ملاہادی فلاطون کے نظریہ کی مختلف صورتوں کا تفصیل کے ساتھ ابطال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک روح غیر فانی اور ملکات کے تدریجی کمال سے وہ اپنے اصلی مکان (نورِ مطلق) کو پہنچ جاتی ہے۔ عقل کی ترقی کے مختلف منازل حسب ذیل ہیں:
(ا) عقل نظری یا عقل خالص۔
۱- عقل بالقوا۔
۲- بدیہی قضایا کا ادراک۔
۳- عقل بالفعل۔
۴- تصوراتِ کلی کا ادراک۔
(ب) عقل عملی
۱- خارجی صفائی۔
۲- باطنی صفائی۔
۳- عاداتِ حسنہ کی تشکیل۔
۴- اتحاد بااللہ۔
پس اس طرح روح ہستی کے اعلیٰ سے اعلیٰ منازل طے کرتی ہے۔ اور بالآخر نورِ مطلق میں اپنے آپ کو گم کرکے شریک ازلیت ہوجاتی ہے۔ “وہ بذاتِ خود تو معدوم ہے لیکن اپنے رفیق ازلی میں موجود ہے، یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ وہ وقت واحد میں ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔” لیکن کیا روح اپنا راستہ منتخب کرنے میں آزاد ہے؟ ملا ہادی عقلئین کے اس خیال پر تنقید کرتے ہیں کہ انسان ایک مستقل خالق شر ہے۔ وہ ان پر “پوشیدہ”، “ثنویت” کا الزام لگاتے ہیں۔ ہادی کا خیال ہے کہ ہر شے کے دو پہلو ہیں “روشن” اور “تاریک” اشیا نور و ظلمت کے اتحد و امتزاج کا نتیجہ ہیں۔ خیر روشن پہلو سے پیدا ہوتا ہے اور شر تاریک سے۔ اسی لیے انسان مختار بھی ہے اور مجبور بھی۔
لیکن ایرانی تفکر کے یہ مختلف سلسلے ایران جدید کی اُس زبردست مذہبی تحریک سے ایک بار پھر متحد ہوگئے جو بابی یا بہائی مذہب کے نام سے موسوم ہے۔ یہ مذہب علی محمد باب شیرازی (سنہ ولادت ۱۸۲۰ء ہے) کے ہاتھوں ایک شیعی فرقہ کی حیثیت سے وجود میں آیا تھا۔ لیکن راسخ العقیدہ لوگوں کے ظلم و تعدی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی اسلامی نوعیت گھٹتی گئی۔ اس عجیب وغریب فرقہ کے فلسفہ کے ماخذ کو شیخیوں کے شیعی فرقہ میں تلاس کرنا چاہیے۔ اس کا بانی شیخ احمد ہے، جو ملا صدرا کے فلسفہ کا پُرشوق متعلّم تھا اور اس فلسفہ پر اس نے متعدد شرحیں بھی لکھیں۔ عام شیعی فرقوں میں اور اس فرقہ میں جو اختلاف تھا یہ ہے کہ شیخ احمد کا دعویٰ تھا کہ یہ عقیدہ شیعہ مذہب کا اساسی اُصول ہے کہ امام مسعود (بارہویں امام جن کے ظہور کا شیعوں کو سخت انتظار ہے) شیخ احمد نے دعویٰ کیا کہ وہ خود درمیانی واسطہ ہے۔ جب حاجی کاظم کے انتقال کے بعد جو دوسرا شیخی واسطہ سمجھے جاتے تھے، تمام شیخی بے چینی کے ساتھ نئے واسطہ کا انتظار کررہے تھے تو علی محمد باب نے جو کربلا میں حاجی کاظم کو تقرریریں سن چکا تھا، یہ دعویٰ کیا کہ میں خود وہ واسطہ ہوں جس کا انتظار کیا جارہا ہے اور اکثر شیخیوں نے اس کو تسلیم کرلیا۔
ایران کا یہ نوجوان عالم حقیقت کو ایک ایسا جوہر سمجھتا ہے جس میں جوہر و عروض کا کوئی امتیاز نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ وجود انتہائی جوہر کی پہلی فیاضی یا توسیع ذات سے “وجود” “معروف” ہے اور “معروف” “علم” کا جوہر ہے۔ “علم” “ارادہ” ہے اور “ارادہ” “محبت” ہے۔ اس طرح وہ ملا صدرا کے عالم و معلوم کی عینیت کے نظریہ سے گذر کر اُس کے اس تصور کی طرف جاتا ہے کہ حقیقت ارادہ اور محبت ہے۔ محبت اولیٰ، جس کو وہ حقیقت کی ماہیت سمجھتا ہے، ظہور عالم کی علت ہے اور یہ محبت ہی کی توسیع ذات کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کے نزدیک لفظ تخلیق سے مراد عدم محض سے خلق کرنے کے نہیں۔ کیوں کہ شیخیوں کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ خالق کا لفظ صرف خدا ہی سے مخصوص نہیں ہے۔ قرآن کی اس آیت سے فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ۵ط یہ لازم آتا ہے کہ خدا کے سوا اور بھی ہستیاں ہیں جو اپنے کو ظہور پذیر کرتی ہیں۔
علی محمد باب کے قتل کے بعد اس کے خاص تلامذہ کی جماعت میں سے جس کو “وحدت اوّل” کہا جاتا ہے ایک شخص بہاء اللہ اس مذہب کی اشاعت کرنے لگا اور اس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ خود وہی امام غائب ہے جس کے ظہور کے متعلق باب کے پیش گوئی کی تھی۔ اس نے اپنے اُستاد کے نظریہ کو سریت سے پاک کرکے زیادہ مکمل و منضبط صورت میں پیش کیا۔ اس کے نزدیک حقیقت مطلق کوئی شخص نہیں، یہ ایک ازلی ذی حیات جوہر ہے جس پر صداقت و محبت کیص فات کو اس لیے منطبق کرتے ہیں کہ یہی وہ اعلیٰ ترین تصورات ہیں جن کا ہم کو علم ہے۔ یہ ذات حیات جوہر اپنے آپ کو کائنات کے ذریعہ سے رونما کرتا ہے تاکہ وہ اپنے اندر مراکز شعور پیدا کرسکتے۔ بقول ڈاکٹر میک ٹے گرٹ کے یہ ہیگل کی ہستیِ مطلق ہی کی ایک مزید تحدید ہے۔ ان غیر منفصل و بسیط مراکز شعور میں خود نورِ مطلق کی ایک شعاع پوشیدہ ہے۔ اور روح کی تکمیل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ قوتِ تفرید (یعنی مادہ معہ اپنے جذبی و عقلی امکانات کے) کے توسط سے محبت ازلی کی شعاع کو جو شعور سے متحد ہوکر رُوپوش ہوگئی ہے، بتدریج قوت سے فعل میں لے آئے۔ لہٰذا انسان کی ماہیت عقل یاشعور نہیں بلکہ یہی شعاعِ محبت ہے جو تمام شریفانہ اور غیر خود غرضانہ افعال کے محرکات کا منفذ ہے۔ ملاصدرا کے اس نظریہ کا اثر یہاں بدیہی طور پر نمایاں ہے کہ تخیل کی تمام صورتوں میں ایک روحانی جزو ایسا بھی ہے جو غیر فانی ہے، یہ گویا محبت ازلی کی ایک شعاع ہے جو شعورِ ذات یا عقل سے کوئی لزومی رابطہ نہیں رکھتی اور جسم کے فنا ہوجانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ بدھ کے نزدیک نجات اُس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب کہ خواہشات کو متا کر سالمات نفس کو بھوکا مارا جائے، لیکن بہاء اللہ کے نزدیک نجات اُس جوہر کے انکشاف پر مبنی ہے جو خود سالمات شعور میں پوشیدہ۷؎ ہے۔ بہرحال دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کے افکار اور سیرتیں ایک روحانی دنیا میں اسی قبیل کی قوت کے تحت برقرار رہتی ہیں۔ اور روح وہاں اس موقع کی منتظر رہتی ہے کہ کوئی طبعی جسم مل جائے تاکہ عمل انکشاف کو جاری رکھا جائے۔ (بہاء اللہ) یا عمل فنا کو (بدھ)۔ بہاء اللہ کے نزدیک محبت کا تصور ارادہ کے تصور سے بالاتر ہے شوپن ہور نے حقیقت کو ایک ایسا ارادہ خیال کیا ہے جو ایک معاصیانہ میلان کی وجہ سے جو اس کی ذات میں موجود تھا، خارجی صورت اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا ان دونوں کے خیال کے مطابق محبت یا ارادہ حیات کے ہر ایک سالمہ میں موجود ہے۔
یہاں اس کے موجود ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف توسیع ذات کی مسرت ہے اور دوسری طرف میلانِ شر ہے جو ناقابل توجیہ ہے۔ لیکن شوپن ہور چند زمانی تصورات کو فرض کرلیتا ہے تاکہ ارادۂ اولیٰ کی خارجیت کی توجیہ ہوسکے۔ اور بہاء اللہ نے جہاں تک میں معلوم کرسکا ہوں، اُس اُصول کی توجیہ نہیں کی جس کے مطابق کائنات میں محبت ازلی کے ظہور کا تحقق کیا جاتا ہے۔

<<پچھلا  اگلا>>

باب ششم - مابعد کا ایرانی...

باب ششم
مابعد کا ایرانی تفکر


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان