www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletلائبریری bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

فلسفہ عجم

فلسفہ عجم

مندرجات

دیباچۂ
حصہ اوّل قبل اسلامی فلسفۂ ایران
باب اوّل ایرانی ثنویت
حصہ دوم یونانی ثنویت
باب دوم ایران کے نوفلاطونی...
باب سوم اسلام میں عقلیت کا عروج...
باب چہارم - تصوریت اور عقلیت کے...
باب پنجم - تصوف کا مآخذ اور قرآن...
باب ششم - مابعد کا ایرانی تفکر
خاتمہ


دیگر زبانیں

باب سوم

اسلام میں عقلیت کا عروج و زوال

(۱)

فلسفۂ عقلیت مادیت

ایرانی ذہن اپنے جدید سیاسی ماحول سے تطابق پیدا کرتے ہیں اپنی خلقی آزادی کا اثبات کرتا ہے، اور اپنی نظر کو خارج سے ہٹا کر باطن کی طرف پھیر دیتا ہے تاکہ وہ اُس مواد پر غور و فکر کرسکے جو اس نے اپنے سفر کے دوران میں خود اپنے ہی اندر سے فراہم کیا تھا۔ یونانی تفکر کے مطالعہ سے وہ روح جو مادیت میں تقریباً کم ہوگئی تھی پھر اپنے آپ کو صداقت کا حکم تصور کرنے لگتی ہے۔ باطنیت اپنا علم بلند کرکے ہر قسم کے خارجی اقتدار کو مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی قوم کی ذہنی تاریخ میں اس قسم کا دور گویا عقلیت، ارتیابیت، تصوف اور الحاہ کا عہد ہوتا ہے۔ یہ ایسی صورتیں ہیں جن میں ذہن انسانی باطنیت کی ترقی پذیر قوت سے متاثر ہوکر ہر قسم کے خارجی معیار دصاقت کو مسترد کردیتا ہے۔ ہم زیر بحث عہد میں بھی یہی حالت پاتے ہیں۔
خلافت اُمید کے زمانہ میں عمل اتحاد جاری تھا اور نئے حالاتِ زندگی سے مطابقت پیدا کی جارہی تھی۔ لیکن خاندان عباسیہ کے عروج اور یونانی فلسفہ کے مطالعہ کے بعد سے ایران کی عقلی قوت نے جو اب تک محصور تھی، پھر آزاد ہوکر فکر و عمل کے تمام شعبوں میں حیرت انگیز انقلاب پیدا کردیا۔ اس نئی عقلی قوت کی رہنمائی میں، جو یونانی فلسفہ کے مطالعہ سے حاصل ہوئی تھی، اسلامی توحید پر تقنیدی نظرین پڑنے لگیں۔ قبل اس کے کہ عقل خشک مناظروں کے ہنگاموں سے دور ہوکر اشیا کا ایک مستحکم نظریہ تعمیر کرنے کے لیے کسی گوشۂ عزلت کی تلاش کرتی، علم الکلام مذہبی جوش سے متاثر ہوکر فلسفہ کی زبان بولنے لگا۔ آٹھویں صدی کے نصف اوّل میں واصل ابن عطا، جو مشہور متکلم حسن بصری کا ایرانی شاگرد تھا، اعتزال اور عقلیت کا سنگ بنیاد رکھتا ہے یہ ایسی دلچسپ تحریک تھی جس میں ایران کے بعض نکتہ رس اور دقیق النظر ارباب فکر بھی مشغول ہوگئے تھے۔ لیکن بالآخر بغداد اور بصرہ کے فلسفیانہ مناظرات میں اس تحریک نے اپنی قوت کو زائل کردیا۔ بصرہ کا مشہور شہر ایک تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے مختلف قوتوں جیسے یونانی فلسفہ، ارتیابیت، مسیحیت، بدھ مت، اور مانویت1 کی بازی گاہ بن گیا جس سے ایک متجسس ذہن کو کافی روحانی غذا دستیاب ہوجاتی تھی۔ اسی سے اسلامی عقلیت کے ذہنی ماحول نے تشکیل پائی۔ مسلمانوں کی تاریخ کے جس حصہ کو اسپٹاشامی دور کہتا ہے وہ فلسفیانہ نکتہ سنجیوں سے معرا ہے۔ ایرانی دور کے آغاز کے ساتھ یونانی فلسفہ کے مسلمان متعلّمین نے صحیح مفہوم میں اپنے مذہب پر غور و فکر کرنا شروع کیا اور وہ مفکرین2 جو معتزلہ تھے بتدریج مابعد الطبیعیات کی طرف رجوع ہوگئے۔ ہم کو یہاں اسی سے بحث کرنی ہے۔ معتزلہ کے علم الکلام کی تاریخ کا سراغ لگانا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہمارے پیش نظر مقصد کے لیے اسی قدر کافی ہے کہ معتزلہ نے اسلام کے متعلق جو نقطۂ نظر پیش کیا ہے اس کے مابعد الطبعی پہلو کو اجمالی طور پر بیان کیا جائے۔ لہٰذا تصورِ خدا اور نظریہ مادہ ہی عقلیت کے وہ پہلو ہیں جن پر ہم یہاں بحث کرنا چاہتے ہیں۔
معتزلہ دقیق جدلیات کے ذریعہ سے خدا کی وحدت کے جس تصور تک پہنچے تھے، وہ ایک ایسا اساسی نقطہ ہے جہاں ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور معتزلہ میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خدا کی صفات انھی میں موجود ہیں بلکہ وہ خدا کی ذات و ماہیت میں داخل ہیں۔ اسی لیے معتزلہ صفاتِ الٰہی کے علیحدہ وجود سے انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ صفات مجردہ ہستی ربانی کی بالکل عین ہیں۔ ابو الہذیل کہتا ہیک ہ “خدا ہمہ دان، قادر مطلق اور ذی حیات ہے اور اس کے علم، قوت اور حیات پر ہی اس کی ذات3 مشتمل ہے۔” خدا کی وحدت خالص کی توضیح کے لیے یوسف البصیر4 نے حسب ذیل پانچ اصول قائم کیے ہیں۔
(۱) سالمہ اور عارضہ کا مفروضہ۔
(۲) خالق کا مفروضح۔
(۳) خدا کے احوال کا مفروضہ۔
(۴) اُن صفات کا اظہار جو خدا کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
(۵) تعدد صفات کے باوجود خدا کی وحدت۔
وحدت کے اس تصور کو مزید تغیرات میں سے گذارنا پڑا یہاں تک کہ معمر اور ابو ہاشم کے ہاتھوں میں آکر اس کی صورت امکان مجرد کی سی ہوگئی، جس کے متعلق کوئی بات متعین طور پر نہیں کہی جاسکتی۔ وہ کہتا ہے کہ خدا کے علم5 کے متعلق کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ کیونکہ اُس کو جس چیز کا علم ہوگا وہ خود اُس کی ذات میں ہوگی۔ اوّل الذکر سے موضوع و معروض کی عینیت لازم آتی ہے، جو مہمل ہے۔ اور دوسرا خیال خدا کی ذات میں ثنویت کو مستلزم ہے، جو ناممکن ہے۔ تاہم نظام کے شاگرد احمد اور فضل6 نے اس ثنویت کو تسلیم کرلیا، اور اس بات کے قائل ہوگئے کہ ابتدائی خالق دو ہیں، خدا جو ہستیِ ازلی ہے اور کلامِ الٰہی یعنیر وح اللہ جو ہستیِ ممکن ہے۔ معمر نے دوسرا پہلو جو پیش کیا تھا اس میں سے صداقت کے عنصر کو الگ کرکے پوری طرح واضح کرنا ایران کے آنے والے صوفیانہ مفکرین کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عقلئین غیر شعوری طور پر وحدت الوجود کی سرحد تک پہنچ گئے تھے اور ایک لحاظ سے اُنھوں نے خدا کی جو تعریف کی ہے اور قانون مطلق کی خارجیت کو باطنیت میں منتقل کرنے کی جو مشترکہ کوشش کی ہے، اس سے وحدت الوجود کے لیے راستہ صاف ہورہا تھا۔
لیکن عقلیت کے علم برداروں نے خالص مابعد الطبعی تخیلات میں مادہ کی توجیہ سے اہم اضافہ کیا ہے، اسی کو اُن کے مخالفین اشاعرہ نے کچھ رد و بدل کرکے ماہیت خدا سے متعلق اپنے خیالات کے مطابق بنا لیا۔ نظام میں خاص دل چسپی کی چیز یہ ہے کہ اس نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ فطرت7 کی ترتیب و تنظیم میں بے ضابطگی ہے۔ فطرت کی اس دل چسپی کی رہنمائی میں جاحظ نے ارادہ کی تعریف میں خالص سلبی8 نقطۂ نظر سے کی۔ اگرچہ عقلئین شخصی ارادہ کے تصور کو ترک نہیں چاہتے تھے تاہم وہ انفرادی مظاہر فطرت کے استقلال و آزادی کی حمایت کے لیے کسی مستحکم دلیل کے متلاشی تھے۔ اور یہ دلیل خود اُن کو مادہ میں مل گئی۔ نظام نے یہ تعلیم دی کہ مادہ لامحدود طور پر قابل تقسیم ہے۔ اس نے جوہر9 و عرض کے باہمی امتیاز کو بھی مٹا دیا۔ وجود ایک ایسی صفت سمجھی جاتی تھی جسے خدا نے مادہ کے اُن ذرات کو عطا کیا ہے جو پیشتر ہی سے موجود تھے۔ بغیراس صفت کے یہ ذرات ناقابل ادراک ہوتے۔ ابن حزم10 کہتا ہے کہ محمد ابن عثمان جو معتزلہ کے شیوخ میں سے تھا، اس بات کا قائل تھا کہ معدوم (یعنی ایسا سالمہ جو وجود سے پہلے کی حالت میں ہو) بھی ایک جسم ہے، جو حالت عدم میں ہے، لیکن صرف فرق یہ ہے کہ وہ قبل الوجود حالت میں نہ تو متحرک رہتا ہے نہ غیر اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خلق کیا گیا ہے لہٰذا جو ہر مجموعہ ہے رنگ، بو اور ذائقہ جیسی صفات کا۔ اور یہ صفات بھی مادی صلاحیتوں کے سوا اور کچھ نہیں، روح بھی مادہ کی ایک لطیف قسم ہے۔ اعمال علم محض ذہنی حرکات ہیں۔ تخلیق محض اُن صلاحیتوں11 کو معرض ظہور میں لانا ہے جو پیشتر ہی سے موجود ہیں۔ کسی شے کی انفرادیت جس کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ، وہ چیز جس کے متعلق کسی بات کو محمول کیا جاسکے خود اس شے کے تصور کا لازمی عنصر نہیں ہے۔ مجموعہ اشیا جس کو ہم کائنات سے تعبیر کرتے ہیں، خارجی حیثیت رکھتا ہے، یا یہ ایک قابل ادراک حقیقت ہے، جو خود ادراک سے علیحدہ موجود ہے۔ ان مابعد الطبعی دقیقہ سنجیوں کا تعلق علم الکلام سے تھا۔ عقلئین کے نزدیک خدا ایک وحدت مطلق ہے، جس میں کسی طرح کی کثرت کو دخل نہیں اور وہ قابل ادراک تعدد یعنی کائنات کے بغیر بھی موجود رہ سکتا ہے۔
خدا کی فعلیت اس بات پر مشتمل ہے کہ وہ سالمہ کو قابل ادراک بنا دے سالمہ کے خواص خود اس کی ذات سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ جو پتھر اوپر کی طرف پھینکا جاتا ہے وہ اپنے باطنی12 خواص کی وجہ سے نیچے گر جاتا ہے۔ العطار بصری کہتا ہے کہ خدا نے رنگ و بو، طول و عرض اور ذائقہ کو خلق نہیں کیا، بلکہ یہ خود اجسام13 ہی کی فعلیتیں ہیں۔ خدا14 کو اُن اشیا کی تعداد کا بھی علم نہیں ہے جو کائنات میں ہیں۔ بشیر ابن الموتمر نے تولد یا تعامل15 اجسام کے نظریہ سے اجسام کے خواص کی توجیہ کی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ عقلئین فلسفیانہ حیثیت سے مادئین تھے اور علم الکلام کے نقطۂ نظر سے الہٰین۔
ان کے نزدیک جواہر و رسالمہ ایک دوسرے کے مماچل تھے۔ وہ جوہر کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ یہ ایک سالمہ ہے جو مکان کو شاغل ہوتا ہے اور اس میں شاغل مکان ہونے کی صفت کے علاوہ جہت، قوت اور وجود کی صفات ہیں۔ بس یہی اس کی ماہیت ہے۔ اس کی صورت مربع ہے، کیونکہ اگر اس کو مدور سمجھا جائے تو مختلف سالمات کی ترکیب ناممکن ہوجائے۔ تاہم سالمہ کی ماہیت کے متعلق سالمیت کے حامیوں میں بے حد اختلاف آرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سب سالمات ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، لیکن ابوالقاسم بلخی ان کو مماثل و مخالف بھی سمجھتا ہے جب ہم کہتے ہیں کہ دو اشیا ایک دوسرے کے مماثل ہیں تو اس سے لازمی طور پر ہمارا یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ ان تمام صفات میں بھی مماثلت ہے۔ ابوالقاسم سالمہ کے فنا ہونے کے متعلق نظام سے مختلف الرائے ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کا آغاز ایک زمانے میں ہوا ہے لیکن وہ کلیتہً فنا نہیں ہوجاتا۔ بقا سے کسی شے کو وجود کی صفت کے سوا کوئی نئی صفت حاصل نہیں ہوتی اور تسلسل وجود کوئی نئی صفت نہیں ہے۔ فعلیت الٰہی نے سالمہ کو نیز اُس کے تسلسل وجود کو خلق کیا ہے۔ تاہم ابوالقاسم تسلیم کرتا ہے کہ بعض سالمات مستمر وجود کیے گئے ہوں گے۔ وہ سالمات کے درمیان کسی مکان کے وجود سے بھی انکار کرتا ہے۔ اور اسی مسلک کے دیگر نمایندوں کے خلاف یہ تسلیم کرتا ہے کہ سالمہ عدم کی حالت میں جوہر کی حیثیت سے نہیں رہ سکتا اس کے خلاف کہنا تناقص حدود ہے۔ یہ کہنا کہ جوہر حالت عدم میں بھی جوہر کی حیثیت سے رہ سکتا ہے گویا اس بات کے برابر ہوگا کہ وجود عدم کی حالت میں بھی وجود کی حیثیت سے قائم رہ سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ابوالاقاسم اشاعرہ کے نقطۂ نظر تک پہنچ جاتا ہے جنھوں نے عقلئین کے نظریہ مادہ پر ایک مہلک ضرب لگائی تھی۔
(۲) ہم عصری تحریکاتِ فکر
اعتزال کے نشوونما کے ساتھ جیسا کہ قدرتی طور پر عقلی جدوجہد کے زمانے میں ہوا کرتا ہے، ہم کو دوسرے میلانات فکر بھی نظر آتے ہیں جو اسلام کے فلسفیانہ اور مذہبی حلقوں میں رونما ہوئے تھے۔ ہم ان پر ایک اجمالی نظر ڈالیں گے۔
۱- ارتیابیت۔ ارتیابیت کا میلان عقلیت کے خالص جدلیاتی طریقہ کا قدرتی نتیجہ تھا۔ ابن اشرس اور الجاحظ جیسے لوگ بظاہر عقلئین کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن وہ دراصل ارتیابئین یا مشککین تھے۔ الجاحظ نے جو فطریت16 کی طرف مائل تھا، کسی پیشہ ور متکلم کا نقطۂ نظر اختیار نہیں کیا۔ بلکہ اس کا نقطۂ نظر بھی اُس زمانہ کے عام روشن خیال لوگوں کا سا ھا۔ اُس نے اپنے پیشرئوں کی مابعد الطبعی باریک بینیوں کے خلاف ردِعمل کیا۔ اور اس میں علم الکلام کے دائرہ کو ایسے جہلا تک وسیع کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے جو معتقدات مذہب پر غور و فکر کرنے کے ناقابل ہیں۔
۲- تصوف۔ اس کا تعلق اعلیٰ مبدا علم سے تھا۔ اس کو سب سے پہلے ذوالنوں نے منضبط کیا۔ اس میں اشاعرہ کی خشک عقلیت کے مقابلہ میں زیادہ گہرائی اور مدرسیت کی مخالفت پیدا ہوتی گئی۔ آیندہ باب میں ہم اس دلچسپ تحریک پر بحث کریں گے۔
۳- سند کا احیا۔ یعنی اسماعیلیت جو خاص کر ایرانی تحریک تھی اور جس نے آزاد خیالی کو مٹانے کے بجائے اُس سے مصالحت کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ تحریک اس زمانہ کے کلامی مناقشات سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی تھی۔ لیکن اس کو آزاد خیالی سے اساسی تعلق تھا۔ اُن اسالیب کی مشابہت سے جن کو اسماعیلی مبلغین اور اُس مجلس کے ارکان نے اختیار کیا تھا جو اخوان الصفا کے نام سے مشہور تھی۔ یہ پتہ چلتا ہے کہ اُن دونوں اداروں میں کوئی مخفی تعلق تھا۔ اس تحریک کے بانیوں کا خواہ کچھ ہی مقصد ہوتا ہم عقلی مظاہر کی حیثیت سے اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ فلسفیانہ و مذہبی آرا و افکار کی کثرت، جو تفکری جدوجہد کا لازمی نتیجہ ہے، ایسی قوتیں وجود میں آسکتی ہیں جو خود اس خطرناک کثرت کے خلاف عمل کرتی ہیں۔ تاریخ فلسفۂ یورپ کی اٹھارویں صدی میں فشٹے بھی ماہیت مادہ کی تحقیق کا آغاز ایک ارتیابی نقطۂ نظر سے کرتا ہے، اور اس کا فلسفہ وحدت الوجود پر منتہی ہوتا ہے۔ شلائر ماخر بجائے عقل کے ایمان کو متاثر کرتا ہے۔ جاکوبی عقل سے بالاتر مبدا علم کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن کامتے تمام مابعدالطبعی تحقیقات کو ترک کرکے علم کو حسی ادراک تک محدود کردیتا ہے۔ اس کے برخلاف دی میستر اور شیگل ایسے پاپا کی سند و اقتدار پر انحصار کرتے ہیں جو قطعاً معصوم سمجھا جاتا ہے۔ عقیدہ امامت کے علم بردار بھی دی میستر کے ہم خیال ہیں۔ لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ اسماعیلیوں نے ایک طرف تو اس عقیدہ کو اپنے مذہب کا سنگ بنیاد قرار دیا اور دوسری طرف آزادیِ فکر کو جائز رکھتا۔
پس اسماعیلی تحریک اس مسلسل و مستمر جنگ17 کا ایک پہلو ہے، جس کو ایسے ایرانیوں نے، جن کو ذہنی آزادی حاصل تھی، اسلام کے مذہبی و سیاسی نصب العین کے خلاف برپا رکھا تھا۔ فرقہ اسماعیلیہ ابتداً شیعہ مذہب ہی کی ایک شاخ تھا لیکن عبداللہ ابن میمون کے زمانہ میں، جو غالباً مصر کے فاطمی خلفا کا مورث اعلیٰ تھا، اس نے عالمگیر نوعیت حاصل کرلی۔ عبداللہ ابن میمون نے اس زمانہ میں وفات پائی جب کہ آزاد خیالی کے زبردست دشمن الاشعری کی ولادت ہوئی۔ اس نے عجیب و غریب تدبیر سوچی اور مختلف رنگ کے خیالات کی آمیزش سے ایک مغلق نظام فلسفہ تعمیر کیا جو اپنی پُراسرار ونعیت اور مبہم فیثا غورسی فلسفہ کی وجہ سے ایرانی ذہن کے لیے بے حد مرغوب تھا۔ اس لیے مجلس اخوان الصفا کے اراکین کی طرح عقیدۂ امامت کے مقدس بھیس میں اس زمانے کے مروجہ تصورات کو مرتب و منضبط کرنے کی کوشش کی۔ یونانی فلسفہ مسیحیت، عقلیت، تصوف، مانویت، ایرانی الحاد اور سب سے بڑھ کر حلول کے تصور نے اسماعیلی نظام کی تشکیل میں حصہ لیا یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس مذہب کے مختلف پہلوئوں کو “امام” جو ہمیشہ حلول کرنے والی ایک عالمگیر عقل ہے، اپنے زمانہ کے عقلی نشوونما کے لحاظ سے ایک مبتدی پر بتدریج ظاہر کرتا ہے۔ آزاد خیالی نے اس اندیشہ سے کہ کہیں وہ معدوم نہ ہوجائے اسماعیلی تحریک میں ایک مستحکم بنیاد پر کھڑے ہونے کی کوشش کی، اور بدقسمتی سے یہ بنیاد اس کو ایسے تصور میں حاصل ہوئی جو خود اس کی ذات کے منافی تھی۔ سند جو کبھی کبھی اپنا اثبات کرتی ہے اس لاوارث لڑکے کو اپنا متبنّیٰ کرلیتی ہے اور ماضی، حال و مستقبل کا علم فراہم کرنا چاہتی ہے۔
بدقسمتی سے اس تحریک کو اس زمانہ کی سیاسیات سے جو تعلق تھا اُس کی وجہ سے اکثر علما کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ان کو (مثلاً میکڈونلڈ) اس میں صرف یہی نظر آتا ہے کہ ایران سے عربوں کی سیاسی قوت کو مٹانے کی یہ ایک زبردست سازش تھی۔ انھوں نے اسماعیلیہ مذہب پر، جس کے پیرئوں میں بعض اچھے دماغ اور مخلص دل کے لوگ بھی تھے۔ یہ الزام لگایا کہ یہ سنگدل قاتلوں کی ایک جماعت تھی، جو ہمیشہ اپنے شکار کی تاک میں رہتی تھی۔ ان لوگوں کی سیرت کا اندازہ کرتے وقت ہم کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اُنھوں نے نہایت ہی وحشیانہ ظلم و تعدی سے مجبور ہوکر اس خوںریز تعصب کا انتقام لیا۔ مذہبی اغراض کے لیے قتل و خون ناقابل اعتراض سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ کل سامی نسل میں یہ جائز قرار دیا گیا تھا۔ سولھویں صدی کے نصف آخر تک پاپائے روما سینٹ بار تہولومیو کے وحشت ناک قتل کو بھی روا رکھتا تھا۔ یہ ایک بالکل جدید تصور ہے کہ ایسا قتل و خون خواہ وہ مذہبی جوش کے تحت ہی کیوں نہ سزد ہوا ہو پھر بھی ایک جرم ہے۔ اور انصاف کا اقتضا یہ ہے کہ قدیم اقوام کو ہم اپنے معیار خطا و ثواب سے نہ جانچیں ایک زبردست مذہبی تحریک جس نے ایک عظیم الشان سلطنت کی عمارت کی بنیادوں کو ہلا دیا ہو، اور جو ظلم و تعدی، کزب و بہتان ملامت و سرزنش کے سخت امتحان سے کامیابی کے ساتھ گذر چکی ہو۔ اور علم و حکمت کی صدیوں علمبردار رہی ہو۔ وہ ایک سیاسی سازش کی کمزور بنیاد پر، جس کی نوعیت بالکل مقامی اور عارضی تھی کلیتہً انحصار نہیں کرسکتی۔ اسماعیلیت، باوجودیکہ اس کی ابتدائی قوت مٹ چکی ہے پھر بھی ہندوستان، ایران، وسط ایشیا، شام اور افریقہ کے کثیر التعداد افراد کے اخلاقی نصب العین پر حکمراں ہے۔ ایرانی تفکر کے آخری مظہر یعنی بابی مذہب کی نوعیت بھی دراصل اسماعیلی ہے۔
اب ہم اس فرقہ کے فلسفہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس نے مابعد کے عقلئین سے الوہیت کا تصور مستعار لیا اور یہ تعلیم دی کہ خدایا انتہائی ہستیِ اعراض سے معرا ہے اس کی فطرت میں کسی محمول کو دخل نہیں۔ جب ہم اُس پر قوت کی صفت کو محمول کرتے ہیں تو ہمارا مفہوم صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ (خدا) قوت عطا کرنے والی ہستی ہے جب ہم اُس کو ازیست سے متصف کرتے ہیں تو ہم اُس چیز کی ازلیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جس کو قرآن نے “امر” (کلامِ الٰہی) سے تعبیر کیا ہے جو “خلق” سے بالکل متمائز ہے۔ اس کی فطرت میں تمام متناقضات معدوم ہوجاتے ہیں اور اُسی سے تمام متخالفات صادر ہوتے ہیں۔ پس انھوں نے خیال کیا کہ وہ مسئلہ جس کے زرتشت اور اس کے پیروئن کو پریشان کر رکھا ان سے حل ہوگیا۔
اس سوال کا جواب دینے کے لیے کہ کثر ت کیا ہے؟ اسماعیلیہ مابعد الطبعی اصول موضوعہ کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ “ایک سے صرف ایک ہی پیدا ہوسکتا ہے” لیکن یہ “ایک” اس چیز سے مختلف نہیں ہے جس سے یہ پیدا وہا ہے۔ یہ دراصل ہستیِ اولیٰ ہے جو متبدل ہوگئی ہے۔ لہٰذا وحدت اولیٰ نے اپنے آپ کو عقل اوّل (عالمگیر عقل) میں مبتدل کردیا، اور اپنی اس تبدیلی سے عالمگیر روح کو پیدا کیا اور اس روح نے اپنے اصلی مبدا سے کامل مماثلت پیدا کرنے کے لیے حرکت ضرورت محسوس کی اور اسی وجہ سے ایک ایسا جسم درکار ہوا جس میں حرکت کی قوت ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے روح نے افلاک کو پیدا کیا، جو اس کی ہدایت کے مطابق حرکت دوری میں ہے۔ اس نے عناصر کو بھی پیدا کیا، جن کے باہمی امتزاج سے عالم مرئی نے تشکیل پائی۔ یہ گویا کثرت و تعداد کا ایک منظر ہے جس میں سے گذر کر روح اپنے اصلی مآخذ کی طرف واپس جاتی ہے۔ انفرادی روح کل کائنات کا خلاصہ ہے، جو محض اس کی تربیت کے لیے وجود میں آئی ہے۔ عالمگیر روح وقتاً فوقتاً امام کی شخصیت میں حلول کر جاتی ہے اور امام روح کو اس کے تجربہ و فہم کی مناسبت سے روشن کردیتا ہے اور کثرت و تعدد کے منظر سے بتدریج اس کی رہنمائی وحدت ازلی کے عالم کی طرف کرتا ہے۔ جب عالمگیر روح اپنی منزل مقصود کو پہنچ جاتی ہے یا اپنی ہستی کی طرف واپس آجاتی ہے تو عمل انہدام شروع ہوجاتا ہے۔ “وہ ذات جن سے عالم تشکیل پاتا ہے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ نیکی کے ذرات (حق) کی طرف، جو وحدت کو متمثل کرتا ہے اور بدی کے ذرات باطل (شیطان) کی طرف، جو تعدد کو متمثل کرتا ہے، چلے جاتے ہیں” یہ اسماعیلی فلسفہ کا ایک جمال ہے۔ بقول شہرستانی کے یہ فلسفیانہ اور مانوی تصورات کا ایک مرکب ہے۔ ارتیابیت کی خوابیدہ روح کو بیدار کرکے انھوں نے مبتدیوں کو اس فلسفہ کے جرعے نوش کرائے اور بالآخر ان کو روحانی آزادی کے اس زینہ تک پہنچا دیا جہاں مذہبی رسوم مٹ جاتے ہیں اور تحکمانہ مذہب کار آمد دروغ بافیوں کا ایک منضبط و مرتب مجموعہ نظر آتا ہے۔ اسماعیلیوں کا نظریہ اس امر کی سب سے پہلے کوشش تھی کہ مروجہ فلسفہ کو ایرانیوں کا اصلی تصورِ کائنات سے ملا کر اسلام کو اس کی روشنی میں پیش کیا جائے اور قرآن کی تمثیلی تفسیر کی جائے۔ یہ وہ طریقہ تھا جس کو تصوف نے بعد میں اختیار کیا۔ ان کے نزدیک زرتشتیوں کا اہرمن (شیطان) اشیا خبیثہ کا خالق نہیں بلکہ یہ ایسی قوت ہے جو وحدت ازلی میں خلل انداز ہوتی ہے اور اُس کو کثرت و تعدد میں منقسم کردیتی ہے۔ اس خیال میں کہ انتہائی ہستی کی ماہیت میں کسی تفریقی قوت کو فرض کرنا چاہیے تاکہ تجربہ کثرت و تعدد کی توجیہ ہوسکے، مزید تغیرات ہوئے یہاں تک کہ چودھویں صدی میں حروفی فرقہ (جو اسماعیلیہ ہی کی ایک شاخ تھی) نمودار ہوا جس کے بعد اس خیال کی سرحد ایک طرف تو ہم عصری تصوف سے مل گئی اور دوسری طرف مسیحی تثلیت سے۔ حروفیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ “کُن” ازلی کلامِ الٰہی ہے۔ یہ بذاتِ خود تو غیر مخلوق ہے لیکن مزید تخلیق کا باعث ہوا ہے گویا یہ کلامِ خارجیت حاصل کرلیتا ہے اس کلام کے بغیر الوہیت کی حقیقت کو سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے، کیونکہ الوہیت حواس یا ادراک18 کی دسرس سے ماورا ہے۔ یہ “کلام” رحم مریم19 میں آکر جسمانی صورت اختیار کرلیتا ہے تاکہ باپ کو آشکارا کردے کل کائنات کلامِ الٰہی کا مظہر ہے، جس میں خدا پوشیدہ20 ہے۔ کائنات کی ہر ایک آواز خدا ہی کے اندر ہے۔ ہر ایک ذرہ ازلیت21 کا گیت گا رہا ہے۔ سب کچھ حیا ت ہے۔ جو لوگ اشیا کی انتہائی حقیقت کو منکشف کرنا چاہتے ہیں اُن کو “اسم” سے “مسمّٰی” کی تلاش کرنی چاہیے جس سے اُس کی ذات ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی۔22
(۳) عقلیت کے خلاف رد عمل
اشاعرہ
خاندان عباسیہ کے ابتدائی خلفا کی سرپرستی میں عقلیت اسلامی دنیا کے عقلی مراکز میں پھولتی پھلتی رہی۔ لیکن نویں صدی کے نصف اوّل میں اس کو ایک زبردست ردعمل سے دوچار ہونا پڑا، جس کا پُرجوش علم بردار الاشعری تھا۔ (تاریخ ولادت ۸۷۳ئ) اس نے علمائے حقیقت (معتزلہ) سے تعلیم پاکر خود انھی کے طریقوں سے ان کی اس عظیم الشان عمارت کو منہدم کرنے کی کوشش کی جو بڑی محنت سے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ بصرہ کے ایک مکتب اعتزال کے نمایندے الجبائی23 کا شاگرد تھا جس کے ساتھ اس نے کئی مناظرے کیے24 اور بالآخر ان مناظروں کی وجہ سے ان کے دوستانہ تعلقات منقطع ہوگئے اور شاگرد نے معتزلہ کے مسلک کو خیر باد کہ دیا۔ اسپٹا کہتا ہے کہ “یہ واقعہ الاشعری بالکل اپنے زمانہ کی پیداوار تھے اور زمانہ کی رو کامیابی کے ساتھ اُن کو بہا لے گئی، ایک ایسا واقعہ ہے جو ایک اور حیثیت سے اُن کی شخصیت کو ہمارے لیے اہم بنا دیتا ہے۔ ان میں اس دور کے تمام میلانات بین طور پر نمایاں تھے جو سیاسی اور مذہبی نقطۂ نظر سے بہت ہی دلچسپ ہیں۔ اس شخص کی زندگی میں جو بچپن میں راسخ العقیدہ اور جوانی میں معتزلہ25 تھا، ایک کی طفلانہ بے چارگی اور دوسری کی خامی و نقص ساتھ ساتھ موجود تھے، ہمارے لیے عقیدۂ راسخ اور اعتدال کی قوت کا توازن کرنا ذرا دشوار ہے۔ فلسفہ اعتزال (الجاحظ) کلیتہً آزادی کی طرف مائل تھا اور بعض صورتوں میں تو فکر کے سلبی پہلو کی طرف رہنمائی کرتا تھا۔ اس تحریک کا جس کی بنیاد الاشعری نے رکھی تھی۔ یہ مقصد تھا کہ اسلام کو اُن تمام غیر اسلامی عناصر سے پاک کردے جو خاموشی کے ساتھ اس میں داخل ہوگئے تھے، اور وہ یہ چاہتی تھی کہ مذہبی شعور اور اسلام کے مذہبی فلسفہ میں توافق پیدا کیا جائے۔ عقلیت ایک کوشش تھی حقیقت کو عقل کے معیار پر جانچے کی یہ تحریک مذہب اور فلسفہ کی مماثلت کو مستلزم تھی اور اس نے اعتقاد کو تصورات کی صورت یا فکر خالص کی اصطلاحات میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس نے فطرت انسانی کو نظر انداز کردیا اور مذہب اسلام کی اصابت میں انتشار پیدا کیا اسی لیے اس پر ردعمل ہوا۔
اشاعرہ کی سرکردگی میں راسخ العقیدہ لوگوں نے جو ردِعمل کیا اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ جدلیاتی طریقہ کو الہام ربانی کی سند کی حمایت کے لیے استعمال کیا جائے۔ عقلئین کے مقابلہ میں یہ لوگ صفات باری کے قائل تھے۔ اور وہ آزادی ارادہ کے مسئلہ میں انھوں نے قدیم مکتب کی انتہائی جبریت اور عقلئین کی انتہائی قدریت کے مابین ایک درمیانی راستہ اختیار کیا۔ ان کی یہ تعلیم ہے کہ قوت امتیازی اور دیگر افعال انسانی کا خالق خدا ہے اور انسان میں یہ قوت ودیعت ہے کہ وہ افعال کے مختلف26 طریقے سیکھ سکے۔ لیکن فخر الدین رازی نے “اکتساب” کے تصور کو رد کردیا اور اپنی تفسیر قرآن میں علی الاعلان جبر کا نظریہ پیش کیا۔ جس وقت رازی نے فلسفہ پر زبردست حملہ کیا تھا طوسی اور قطب الدین نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔
ماتریدیہ ایک دوسرا فقرہ ہے جو عقلی علم الکلام کے خلاف پیدا ہوگیا تھا۔ اس کا بانی ماترد کا باشندہ جو سمرقند کے نواح میں واقع ہے، ابو منصور ماتردیدی تھا۔ اس فرقہ نے قدیم عقلئین کا نقطۂ نظر اختیار کرکے اشاعرہ کے خلاف یہ تعلیم دی کہ انسان کو اپنے افعال پر پورا اختیار حاصل ہے، اور یہک ہ اس کی قوت اس کے افعال کی نوعیت پر اثر ڈالتی ہے۔ الاشعری کی دل چسپی خالص کلامی تھی لیکن یہ ناممکن تھا کہ حقیقت کو انتہائی ماہیت کو نظرانداز کرکے عقل و الہام میں توافق پیدا کیا جاسکے۔ا سی لیے باقلانی نے اپنی علم الکلامی تحقیقات میں چند مابعد الطبعی قضایا کو استعمال کیا (جیسے جوہر ایک وحدت انفرادی ہے۔ صفت دوسری صفت پر قائم نہیں رہ سکتی۔ خلا محال ہے) اور اس طریقے سے اپنے مکتب کو مابعد الطبعی بنیاد پر قائم کردیا۔ ہمارا اصلی مقصد اسی پر روشنی ڈالنا ہے۔ لہٰذا ہم اس سے بحث نہیں کریں گے کہ اُس نے عقائد راسخ کی کس طرح حمایت کی (جیسے قرآن غیر مخلوق ہے خدا کی رویت ممکن ہے) بلکہ ہم ان کے کلامی مناقشات میں سے مابعد الطبعی تفکر کے عنصر کو علیحدہ کرلیں گے۔ اپنے زمانہ کے فلاسفہ سے خود انھی کے ہتھیار اور اسلحہ سے مقابلہ کرنے کے لیے اُن کے لیے فلسفہ کا سیکھنا ناگزیر تھا۔ لہٰذا اُن کو بالارادہ یا بلاارادہ ایک مخصوص نظریۂ علم کو نمو دینا پڑا۔
اشاعرہ کے نزدیک خدا انتہائی واجب الوجود ہستی ہے “اور اپنی صفات کو اپنی ہی ہستی میں رکھتا27 ہے۔” اور اس کا وجود اور ماہیت ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ اس استدلال کے علاوہ کہ حرکت “ممکن” ہے، انھوں نے ہستیِ اولیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے حسب ذیل دلائل استعمال کیے۔
(۱) ان کا یہ استدلال ہے کہ تمام اجسام جس حد تک کہ اُن کے وجود کے مظاہرہ کا تعلق ہے ایک ہی ہیں۔ لیکن باوجود اس وحدت کے ان کی صفات ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متخالف ہیں۔ لہٰذا ہم ایک انتہائی علت کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں تاکہ اجسام کے تجربہ تخالف و تبائن کی توجیہ ہوسکے۔
(۲) ہر ہستیِ ممکن کے لیے ایک علت کی ضرورت ہیتاکہ اس کے وجود کی توجیہ ہوسکے۔ کائنات ممکن ہے، اسی لیے اس کی ایک علت ہونی چاہیے اور یہ علت خدا ہے۔ انھوں نے مندرجہ ذیل طریقہ سے یہ ثابت کیا کہ کائنات ممکن ہے۔ کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ یا تو جوہر ہے یا عرض۔ عرض یا صفت کا ممکن ہونا تو ایک بدیہی امر ہے، اور جوہر کا ممکن ہونا اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی جوہر اعراض سے علیحدہ موجود نہیں رہ سکتا۔ عرض کا ممکن ہونا جوہر کے ممکن ہونے کو مستلزم ہے ورنہ جوہر کی ازلیت عرض کی ازلیت کو مستلزم ہوگی۔ اس استدلال کی قیمت کا پوری طرح اندازہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اشاعرہ کے نظریہ علم کو پہلے سمجھ لیا جائے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کہ شے کیا ہے انھوں نے ارسطو کے مقولاتِ فکر پر تنقیدی نظر ڈالی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ اجسام کی ذات28 میں کوئی خواص نہیں ہیں۔ اجسام کی صفات ثانویہ اور صفاتِ اولیہ میں انھوں نے کوئی امتیاز نہیں کیا، بلکہ ان سب کو ذہنی علاعق میں تحویل کردیا۔ صفت بھی ان کے نزدیک محض ایک عارضہ ہے، جس کے بغیر جوہر موجود نہیں رہ سکتا۔ ان کے جوہر یا سالمہ کے لفظ میں خارجیت کا مبہم سا مفہوم پایا جاتا ہے۔ تخلیق ربانی کے تصور کی حمایت کرنے کی مقدس خواہش سے متاثر ہوکر انھوں نے جو تنقید کی ہے وہ کائنات کو بارکلے کی طرح منضبط ذہنیات میں تحویل کردیتی ہے۔ اس کی توجیہ وہ ارادۂ الٰہی سے کرتے ہیں۔ علم انسانی کی تحقیق میں کانٹ “شے بذات خود” کے تصور تک پہنچ کر رُک جاتا ہے لیکن اشاعرہ نے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور اپنے زمانہ کی لاادری حقیقت کے خلاف یہ دعویٰ کیا کہ اس نام نہاد پوشیدہ جوہر کا وجود محض اس حد تک ہے، جس حد تک ذہن سے اس کو کوئی نسبت ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی سالمیت لوٹزے29 سے قریب ہوجاتی ہے، جس نے خارجی حقیقت کو برقرار رکھنے کی خواہش کے باوجود اس کی تحویل کلیتہً تصوریت میں کردی۔ لیکن لوٹزے کی طرح وہ سالمات کو لامحدود ہستیِ اولیٰ کا باطنی عمل نہ سمجھ سکے۔ ان کو توحید خالص سے بہت ہی گہری دل چسپی تھی۔ مادہ کی انھوں نے جو تحلیل کی ہے اُس کا لازمی نتیجہ ایسی مکمل تصوریت ہے جیسی کہ بارکلے نے پیش کی تھی۔ لیکن شاید ان کی جبلی حقیقت سالماتی روایات کی قوت سے متحد ہوکر ان کو سالمہ کا لفظ استعمال کرنے پر مجبور کردیتی ہے، اس کے ذریعہ سے انھوں نے یہ کوشش کی تھی کہ تصوریت کو حقیقت کے رنگ میں پیش کریں۔ تحکمانہ علم الکلام کے اثرات کے تحت وہ فلسفہ پر تنقیدی نظر ڈالنے پر مجبور تھے۔ اس تنقید نے ان میں فلسفیانہ مذاق پیدا کردیا اور انھوں نے خود اپنی ایک مابعد الطبیعیات علیحدہ تیار کرلی۔
لیکن اشاعرہ کی مابعد الطبیعیات کا بہت ہی اہم اور فلسفہ حیثیت سے بہت ہی معنی خیز پہلو وہ نقطۂ نظر ہے جو انھوں نے قانون تعلیل30 کے متعلق اختیار کیا تھا۔ جس طرح انھوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ خدایا باوجود غیر ممتد ہونے کے پھر بھی دکھائی دے سکتا ہے عقلئین کے خلاف علم مناظر و مرایا کے اصول کی تردید کی تھی اسی طرح امکان معجزات کو ثابت کرنے کے لیے وہ تعلیل کے تصور کو مسترد کردیتے ہیں۔ راسخ العقیدہ لوگ معجزات اور نیز عالمگیر قانون تعلیل پر اعتقاد رکھتے تھے، لیکن انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ معجزات کے ظہور کے وقت خدا اس قانون کے عمل کو معطل کردیتا ہے۔ بہرصورت اشاعرہ اس مفروضہ سے شروع کرکے علت و معلول کو ایک دوسرے کے مماثل ہونا چاہیے راسخ العقیدہ لوگوں کے ہم خیال نہ بن سکے۔ ان کی تعلیم یہ تھی کہ قوت کا تصور بے معنی ہے اور یہ کہ ہم کو صرف گریز پا ارتسامات کے سوا، جن کی ترتیب کو خدا متعین کرتا ہے، اور کسی چیز کا علم نہیں ہے۔
اگر ہم الغزالی (المتوفی ۱۱۱۱ئ) کے کارناموں کو نظر انداز کردیں تو اشاعرہ کی مابعد الطبیعیات کا ذکر بالکل نامکمل رہ جائے گا۔ غزالی کے متعلق اکثر راسخ العقیدہ متکلمین کو غلط فہمی ہوئی ہے، لیکن ان کا شمار ہمیشہ اسلام کی عظیم الشان شخصیتوں میں ہوگا۔ اس مشکک نے جس کی قابلیت نہایت زبردست تھی، اپنے فلسفیانہ اسلوب میں ڈیکارٹ31 کی پیش بینی کی تھی۔ ہیوم نے “علیت کی گرہ کو جدلیات32 کی دھار سے کاٹ دیا تھا” لیکن غزالی اس سے بھی پہلے شخص ہیں، جنھوں نے فلسفہ کا ایک باضابطہ رو لکھا اور راسخ العقیدہ لوگوں پر عقلیت ا جو رعب چھا گیا تھا اس کو کامل طور پر زائل کردیا۔ انھی کا یہ خاص اثر تھا کہ لوگ تحکمی عقائد کے ساتھ ساتھ مابعد الطبیعیات کا مطالعہ کرتے تھے، اور اس سے ایک ایسا نظام تعلیم وجود میں آگیا جس سے شہرستانی، الرازی اور الاشراقی جیسے مفکرین پیدا ہوئے۔ حسب ذیل عبارت سے واضح ہوجائے کہ بحیثیت ایک مفکر کے ان کا نقطہ و نظر کیا ہے:
میں اپنے بچپن ہی سے اشیا پر بطور خود غور و فکر کرنے کی طرف مائل تھا اس میلان کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے سند کے خلاف بغاوت کی، اور ان تمام عقائد کی ابتدائی اہمیت زائل ہوگئی جو بچپن سے میرے ذہن میں راسخ ہوگئے تھے میں نے خیال کہ ایسے عقائد جو مخفی سند پر مبنی ہوں، یہودیوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے پیروئن میں پائے جاتے ہیں۔ حقیقی علم کا فرض ہیک ہ تمام شکوک کی بیخ کنی کردے۔ مثلاً یہ بالکل بدیہی ہے کہ دس تین سے بڑی عدد ہے اگر کوئی شخص اس کے خلاف ثابت کرنا چاہے اور اس کی تائید میں عصا کو سانپ بنا دے تو یہ فعل محیل العقول ضرور ہوگا، لیکن اس سے زیربحث قضیہ کے متعلق ذرہ بھر بھی تیقن پیدا نہ33 ہوگا۔” اس کے بعد انھوں نے “علم الیقین” کے تمام دعوے داروں کا امتحان لیا اور بالآخر تصوف میں اس (علم الیقین) کو پالیا۔
اشاعرہ جو توحید کے زبردست حامی تھے ماہیت جوہر کے اس تخیل کے ساتھ روحِ انسانی کی ماہیت پر محفوظ طریقے سے بحث نہیں کرسکتے تھے۔ صرف الغزالی نے سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ کو اُٹھایا اور صحت کے ساتھ یہ بیان کرنا آج تک دشوار ہے کہ ماہیت خدا کے متعلق ان کا کیا خیال ہے۔ جرمنی کے بورگر اور سول گر کی طرح ان میں بھی صوفیانہ وحدت الوجود اور اشاعرہ کا عقیدہ شخصیت گھل مل گیا ہے۔ یہ ایسا امتزاج ہے کہ اس کی وجہ سے یہ بتلایا نہایت دشوار ہے کہ یہ محض وحدت الوجود کے قائل ہیں، یا لوٹزے کی طرح شخصی وحدت الوجود کو مانتے ہیں۔ الغزالی کے خیال کے مطابق روح اشیا کا ادراک کرتی ہے۔ لیکن ادراک بحیثیت ایک عرض کے ایسے جوہر یا ذات میں قائم رہ سکتا ہے جو جسمانی صفات سے کلیتہً پاک ہو۔ اپنی کتاب المضنون34 میں وہ تصریح کرتے ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام نے ماہیت روح کو ظاہر کرنے سے کیوں انکار کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ آدمیوں کی دو قسمیں ہیں۔ عوام اور مفکرین۔ اوّل الذکر جو مادیت کو وجود کی ایک شرط سمجھتے ہیں۔ وہ غیر مادی جوہر کا تعقل کرنے سے قاصر ہیں۔ اور آخر الذکر اپنی منطق کے ذریعہ سے روح کا ایسا تصور قائم کرتے ہیں، جو خدا اور انفرادی روح کے باہمی فرق کو بالکل مٹا دیتا ہے۔ الغزالی نے محسوس کرلیا تھا کہ ان کی تحقیقات کا رُخ وحدت الوجود کی طرف ہے۔ اور اسی وجہ سے روح کی انتہائی ماہیت کے متعلق انھوں نے سکوت اختیار کیا۔
ان کا شمار بھی عموماً اشاعرہ میں کیا جاتا ہے گو انھوں نے یہ تسلیم کیا تھا کہ اشاعرہ کا طریقۂ فکر عوام کے لیے بہتر ہے، پھر بھی صحیح معنوں میں یہ اشاعرہ میں سے نہیں ہیں۔ مولانا شبلی (علم الکلام ص۶۶) کہتے ہیں کہ “ان کا یہ خیال تھا کہ مذہب کا راز افشا نہیں کیا جاسکتا اور اسی وجہ سے انھوں نے اشاعرہ کے علم الکلام کی ترویج و اشاعت میں بہت بڑا حصہ لیا۔ لیکن اپنے شاگردوں کو یہ نصیحت کی کہ وہ ان کے نتائج فکر کو شائع نہ کریں، اشاعرہ کے علم الکلام کی نسبت ایسا نقطۂ نظر اختیار کرنا اور ہمیشہ فلسفیانہ زبان کا استعمال ہم میں ایک شبہ پیدا کردیتا ہے۔ ابن جوزی، قاضی عیاض اور راسخ العقیدہ مکتب کے متکلمین نے ان کو علی اعلان ملحد کا لقب دیا تھا اور عیاض نے تو یہاں تک حکم دے دیا کہ ان کے فلسفہ و کلام کی تمام تصانیف جو ہسپانیہ میں موجود تھیں تلف کردی جائیں۔
لہٰذا یہ ظاہر ہے کہ عقلیت کی منطق نے خدا ی شخصیت کے تصور کو منہدم کردیا اور الوہیت کو ایک ناقابل تحدید کلیہ میں تحویل کردیا۔ لیکن عقلیت کے خلاف جو تحریک شروع ہوئی تھی اُس نے شخصیت کے عقیدہ کو تو برقرار رکھا لیکن فطرت کی خارجی حقیقت کے تصور کو مٹا دیا۔ نظام نے “خارجیتِ سالمات” کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اس کے باوجود عقلئین کے ہاں سالمہ ایک مستقل اور خارجی حقیقت35 رکھتا ہے۔ اور اشاعرہ کے نزدیک اس کو مشیتِ ایزدی کے ایک گذرتے ہوئے لمحہ کی حیثیت دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک تو فطرت کی حمایت میں علم الکلام کے تصورِ خدا کا ابطال کرنا چاہتا ہے اور دوسرا خدا کے مذہبی تصور کی تائید میں فطرت کو قربان کردیتا ہے۔ لیکن ایک صوفی جو خدا کی محبت میں سرشار ہے اور اپنے زمانہ کے کلامی مناقشوں سے اپنے آپ کو الگ رکھتا ہے وہ ہستی کے دونوں پہلوئوں کی تائید کرتا، ان پر روحانی رنگ چڑھاتا اور کل کائنات کو خدا ہی کی جلوہ آرائی خیال کرتا ہے۔ یہ ایسا اعلیٰ ترین تصور ہے جو مذکور الصدر تصورات کے متخالف اطراف کو ملا دیتا ہے۔ عقلیت، جس کو صوفیا نے “پائے چوبین” سے تعبیر کیا ہے آخری مرتبہ الغزالی میں رونما ہوتی ہے، جن کی بے چین روح نے عقلیت کے سنسان ریگ زار میں ایک مدت تک بھٹکنے کے بعد جذبات انسانی کی گہرائیوں میں سکون حاصل کیا۔ ان کی ارتیابیت کا مطمح نظر یہ تھا کہ ایک اعلیٰ مبدا علم کی ضرورت کو ثابت کیا جائے نہ کہ محض اسلامی علم الکلام کے عقائد کی حمایت یہی وجہ تھی کہ اس زمانہ کے تمام تفکری میلانات پر تصوف کو فتح حاصل ہوئی۔
الغزالی نے اپنے ملک کے فلسفہ میں جو کچھ اضافہ کیا ہے اس کا پتہ اُن کی چھوٹی سی کتاب مشکواۃ الانوار سے چل سکتا ہے، جس مین انھوں نے قرآن کی اس آیت اَللّٰہُ نُوْر السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ (خدا آسمان و زمین کا نور ہے) سے بحث شروع کرکے جبلی طور پر ایرانی تصور کی طرف رجوع ہوگئے جس کے زبرست شارح الاشراقی گذرے ہیں۔ اس کتاب میں ان کی یہ تعلیم ہے کہ ہقیقی وجود صرف نور ہی ہے اور عدم سے بڑھ کر کوئی ظلمت نہیں۔ لیکن نور کی حقیقت یا اقتضا ظہور ہے۔ “نور ظہور کی صفت سے متصف ہے، جو ایک نسبت36 ہے۔” کائنات ظلمت سے خلق کی گئی ہے۔ جس پر خدا نے خود اپنا نور ڈالا37 ہے۔ اس کے مختلف حصے کم یا زیادہ مرئی اس لیے ہیں کہ ان پر کم یا زیادہ روشنی پڑی ہے۔ جس طرح اجسام تاریک، مبہم یا منور ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی فرق و اختلاف ہے۔ بعض ایسے لوگ ہیں جو دوسری انسانی ہستیوں پر اپنی روشنی ڈالتے ہیں۔ اور اسی لیے قرآن میں پیغمبر علیہ السلام کو شمع منور کہا گیا ہے۔
مادی آنکھ ہستی مطلق یا نور حقیقی کے صرف خارجی مظہر کو دیکھ سکتی ہے۔ انسان کے دل میں ایک باطنی آنکھ بھی ہے جو برخلاف مادی آنکھ کے اپنے آپ کو بھی اسی طرح دیکھ سکتی ہے جن طرح کہ دوسری اشیا کو۔ یہ ایسی آنکھ ہے جو محدود سے آگے بڑھ کر مظاہر کا پردہ چاک کردیتی ہے۔ یہ خیالات محض جراثیم تھے جو الاشراقی کے فلسفۂ اشراق یا “حکمت اشراق” میں نشوونما پاکر باور آور ہوئے۔ اشاعرہ کے فلسفہ کا یہ ماحصل تھا۔
اس ردِعمل کا ایک کلامی نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے اُس آزاد خیالی کے نشوونما کو روک دیا جو مذہب کی اصابت کو منہدم کرنے کی طرف مائل تھا۔ ہم کو زیادہ تر اشاعرہ کے طریقۂ فکر کے خالص عقلی نتائج سے سروکار ہے، اور یہ خاص طور پر وہ دو ہیں:
(۱) دسویں صدی کے آغاز میں جب کہ اشاعرہ نے عقلیت کی عمارت کو کلیتہً منہدم کردیا تھا ہم کو ایک ایسے میلان کا پتا چلتا ہے جس کو ہم ایجابیت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ البیرونی38 (المتوفی ۱۰۴۸ئ) اور ابن ہشیم39 نے عمل اور ردِعمل کے درمیان ایک وقفہ کو تسلیم کرکے جدید تجربی نفسیات کی پیش بینی کی تھی اور فوق الحس اشیا کی ماہیت کی تحقیق سے دست بردار ہوگئے تھے۔ انھوں نے مذہبی اُمور میں دانش مندانہ سکوت اختیار کیا تھا۔ الاشعری کے نزدیک ایسی چیزوں (فوق الحس) کا وجود تو ممکن تھا، لیکن ان کا منطقی جواز ناممکن تھا۔

حواشی

1 خلافت عباسیہ کے عہد میں اکثر لوگ مانوی خیالات رکھتے تھے۔ دیکھو فہرست لیپزک، ۱۸۷۱ئ، ص۳۳۸۔ دیکھو المعتزلہ مرتبہ ٹی، ڈبلیو، آرنلڈ، لیپزک، ۱۹۰۲ئ، ص۲۷۔ اس میں مصنف نے ایک مناظر کا ذکر کیا ہے جو ابو الہزیل اور ثنویت کے پیرو صالح کے مابین ہوا تھا۔ دیکھو میکڈونلڈ کی مسلمانوں کا علم الکلام، ص۱۲۳۔
2معتزلہ مختلف قومیت کے تھے، ان میں سے اکثر یا تو پیدایشی طور پر ایرانی تھے یا توطن کے ذریعہ ایرانی بنگلے تھے۔ واصل ابن عطا بھی، جو اس فرقہ کا بانی کہا جاتا ہے، ایرانی تھا۔ (برائون، تاریخ ادبایت ایران، جلد اوّل، ص۲۸۱) فان کریمر ان کے ماخذ کا سراغ عہدائیہ کے کلامی مناظرات تک لگاتا ہے۔ اعتزال دراصل ایرانی تحریک تھی۔ لیکن بقول پروفیسر برائون کے (تاریخ ادبیات، جلد اوّل، ص۲۸۳) یہ بالکل صحیح ہے کہ شیعی اور قدریہ عقائد اکثر دوش بدوش پائے جاتے تھے اور شیعوں کا جو نظریہ آج کل ایران میں مروج ہے وہ اکثر حیثیتوں سے معتزلی ہے اس کے برخلاف حسن الاشعری، جو اعتزال کا زبردست مخالف ہے، شیعوں کے نزدیک بہت ہی خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ اس میں اس قدر اضافہ کیا جاسکتا ہے کہ اعتزال کے بعض زبردست نمایندے مذہباً شیعہ تھے جیسے ابو الہذیل (المعتزلہ، مرتبہ ٹی، ڈبلیو، آرنلڈ، ص۲۸) اس کے برعکس الاشعری کے اکثر پیرو ایرانی تھے (دیکھو ابن عساکر کے اقتباسات مرتبہ مہرین) اس لیے اشعری طریقۂ فکر کو خالص سامی تحریک سے منسوب کرتا جائز نہیں معلوم ہوتا۔
3شہرستانی مرتبہ کیورپین، ص۳۴۔
4ڈاکٹر فرانکل، Ein Mu'tazilitischet Kalam wien, 1872، ص۱۳۔
5شہرستانی، ص۴۔ دیکھو اسٹینر کی Die Mu'taziliten، ص۵۹۔
6ابن حزم (مطبوعہ قاہرہ) جلد چہارم، ص۱۹۷۔ دیکھو شہرستانی، ص۴۲۔
7اسٹینر، Die Mutaziliten، لیپزگ، ۱۸۶۵ئ، ص۵۷۔
8ایضاً، ص۵۹۔
9شہرستانی، مرتبہ کیورٹین، ص۳۸۔
10ابن حزم (مطبوعہ قاہرہ) جلد پنجم، ص۴۲۔
11اسٹینر، Die Mutaziliten، ص۸۰۔
12شہرستانی، ص۳۸۔
13ابن حزم، مطبوعہ قاہرہ، جلد چہارم، ص۱۹۴تا۱۹۷۔
14ابن حزم، جلد چہارم، ص۱۹۴۔
15شہرستانی، ص۴۴۔
16مسلمانوں کا علم الکلام از میکڈونلڈ، ص۱۶۱۔
17ابن حزم اپنی کتاب الملل والنحل میں ایران کے ان ملحدانہ فرقہ بندیوں کو عرب کے خلاف ایک مسلسل پیکار سمجھتا ہے۔ اس پُرامن طریقہ سے ایرانیوں نے عربوں کی قوت کے استحصال کی کوشش کی۔ دیکھو فان کسیمر کی Geschichte des Herrsehenden Ideen des Islam ص۱۰و۱۱ جن میں قرطبہ کے اس عرب مورخ کے خیالات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
18جاودانِ کبیر، ورق ۱۴۹ الف۔
19ایضاً۔
20ایضاً، ۳۶۶ب۔
21ایضاً، ۱۵۵ب۔
22ایضاً ۳۸۲ب۔
23اقتباسات ازیں عساکر (مہرین)
24اسپٹا، Zur Gesehicte abdul Hamal Al'Ash'ari، ص ۴۷، ۴۳۔ ابن خلکان (گوٹنجن نمبر ۱۸۳۹ئ) الجبائی، جہاں ان کے مناظرہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
25اسپٹا، Vorivort, P.VIII۔
26شہرستانی، مرتبہ کیورٹین، ص۶۹۔
27Martin Schreinet ۔
28میکڈونلڈ نے اشاعرہ کی مابعدالطبیعیات کا دلچسپ بیان پیش کیا ہے۔ مسلمانوں کا علم الکلام، ص۲۰۱ دیکھو مولانا شبلی کی علم الکلام، ص۷۰تا۷۲۔
29لوٹزے سالمیہ ہے لیکن وہ خود سالمات کو مادی نہیں سمجھتاکیونکہ امتداد کی توجیہ دوسری حسی سالمات کے متلازم عمل و اثر سے کی جاتی ہے۔ لہٰذا وہ خود اس صفت کے حامل نہیں ہوسکتے حیات اور دیگر تجربی صفات کی طرح امتداد کا حسی واقعہ بھی نقاط قوت کے اشتراک عمل کا نتیجہ ہے جن کا لامحدود ہستی اولیٰ کے باطنی عمل کا نقطۂ آغاز سمجھنا چاہیے۔ ہوفڈنگ، جلد دوم، ص۵۱۶۔
30مولانا شبلی، علم الکلام، ص۶۴تا۷۲۔
31 الغزالی کی تصنیف احیاء علوم الدین ڈیکارٹ کی ڈسکورس آن متھڈ سے ایسی عجیب و غریب مشابہت رکھتی ہے کہ اگر ڈیکارٹ کے زمانہ میں اس کا کئی ترجمہ موجود ہوتا تو شخص اس پر سرقہ کا الزام لگاتا۔ (لیوس تاریخ فلسفہ، جلد دوم، ص۵۰)
32Journal of the American Oriental Society, Vol, 20 P.103
33 المنقد، ص۳۔
34الغزالی کے نظریہ روح پر سرسید احمد خاں کی تنقید ملاحظہ ہو۔ الغزالی نمبر۴، ص۳ مطبوعہ آگرہ۔
35ابن حزم، جلد پنجم، ص۶۳و۶۴ جہاں مصنف نے اس نظریہ کو بیان کرکے اس پر تنقید کی ہے۔
36 مشکواۃ الانوار، ورق۳ (الف)
37 اس خیال کی تائید میں الغزالی ایک حدیث پیش کرتے ہیں۔ ایضاً
38 البیرونی نے آریہ بھٹا کے پیروئن کی حسب ذیل تعلیم کو پسند کرکے اُس کی تشریح کی ہے۔ ہمارے لیے صرف انھی چیزوں کا جاننا کافی ہے جو آفتاب کی شعاعوں سے روشن ہوجاتی ہیں۔ اس کے آگے جو کچھ بھی ہے، خواہ اُس کی وسعت کتنی ہی بڑی ہو ہم اُس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ جن چیزوں تک آفتاب کی شعاعیں نہیں پہنچتیں۔ حواس ان کا ادراک نہیں کرسکتے۔ حواس جن چیزوں کا ادراک نہیں کرسکتے ہم ان کو جان بھی نہیں سکتے۔ اس سے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ البیرونی کا فلسفہ کیا تھا۔ صرف حسی ادراکات سے جن میں عقل ناطق ترتیب و تنظیم پیدا کرتی ہے۔ علم حاصل ہوسکتا ہے۔
39 اس کے علاوہ ابن ہشیم کے نزدیک صداقت صرف وہی ہے جو بطور مواد کے ادراک کرنے والے حواس کے آگے پیش ہو اور اس کو فہم حاصل کرتی ہو۔ پس منطقی لحاظ سے صداقت ایک تنظیم یافتہ ادراک ہے۔ (بوئر کی فلسفہ اسلام، ص۱۵۰)

<<پچھلا  اگلا>>

باب سوم اسلام میں عقلیت کا...

باب سوم
اسلام میں عقلیت کا عروج و زوال


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان