www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

فلسفہ عجم

فلسفہ عجم

مندرجات

دیباچۂ
حصہ اوّل قبل اسلامی فلسفۂ ایران
باب اوّل ایرانی ثنویت
حصہ دوم یونانی ثنویت
باب دوم ایران کے نوفلاطونی...
باب سوم اسلام میں عقلیت کا عروج...
باب چہارم - تصوریت اور عقلیت کے...
باب پنجم - تصوف کا مآخذ اور قرآن...
باب ششم - مابعد کا ایرانی تفکر
خاتمہ


دیگر زبانیں

حصہ درم

یونانی ثنویت

باب دوم

ایران کے نوفلاطونی ارسطاطالیئین

ایران پر عربوں کے تسلط کے بعد سے ایرانی متفکر کی تاریخ میں ایک جدید عہد کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن صحرائے عرب کے جنگجو فرزند، جن کی شمشیر نے اس قدیم قوم کی سیاسی آزادی کا نہاوند پر خاتمہ کردیا تھا، ان نومسلم زرتشتیوں کی عقلی آزادی میں مزاحم نہ ہوسکے۔
عربوں کی فتوحات سے جو سیاسی انقلاب رونما ہوا وہ آریائی اور سامی اقوام کے باہمی عمل و اثر کی ابتدا کا باعث تھا۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایرانی کی سطح زندگی پر اگرچہ زیادہ تر سامی رنگ چڑھ جاتا ہے لیکن وہ خاموشی کے ساتھ اسلام کو اپنی آریائی عادات فکر میں تبدیل کرلیتا ہے۔ مغرب مین یونانیوں کے سنجیدہ ذہن نے ایک اور سامی مذہب مسیحیت کی شرح و تفسیر کی۔ دونوں جگہ اس شرح و تفسیر کے نتائج میں ایک عجیب و غریب مشابہت پائی جاتی ہے۔ شرح کرنے والے ذہن کا یہ مقصد تھا کہ اُس اطلاقی قانون کی شدت و سختی کو رفع کیا جائے جو فرد پر خارج سے عائد کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ خارجی نقطۂ نظر کو باطنی میں منتقل کرنے کی کوشش تھی۔ یونانی تفکر (فلسفہ) کے مطالعہ سے یہ عمل تغیر شروع ہوا، جس نے اور دوسرے اسباب سے متحد ہوکر ذاتی تفکر کے نشوونما کو روک دیا۔ پھر بھی اسی کا اثر تھا کہ قبل اسلامی فلسفۂ ایران کا خالص خارجی نقطۂ نظر مابعد کے مفکرین میں باطنی نقطۂ نظر سے بدل گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدیسی فلسفہ ہی کا اثر تھا جس کی وجہ سے قدیم توحیدی میلان نے جو آٹھویں صدی کے اختتام پر اُبھر آیا تھا، ایک زیادہ روحانی صورت اختیار کرلی۔ اس کے بعد جب اس میلان کا نشوونما ہوا تو اس نے نور و ظلمت کی قدیم ایرانی ثنویت کو پھر زندہ کرکے اس پر ایک روحانی رنگ چڑھا دیا۔ یونانی فلسفہ نے نکتہ رس ایرانی ذہن میں ایک نئی زندگی پیدا کردی تھی، اور ایران کا عام عقلی ارتقا اُسی کی امداد و اعانت کا ممنون رہا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ہم کو اُن ایرانی نوفلاطونئین کے نظامات پر ایک سرسری اور اجمالی نظر ڈالنے میں حق بجانب کردیتا ہے جو خالص ایرانی تفکر کی تاریخ میں بہت ہی کم توجہ کے مستحق ہیں اور اس میں تکرار و اعادہ کا بھی اندیشہ ہے۔
تاہم یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ یونانی حکمت حران اور شام سے ہوتے ہوئے اسلامی مشرق کی طرف آئی ہے۔ شامیوں نے یونان کے آخری نظام فلسفہ یعنی نوفلاطونیت کو لے لیا اور اس کو ارسطو کا اصلی فلسفہ سمجھ کر مسلمانوں کے ہاتھ منتقل کردیا۔ یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ مسلمان فلاسفہ، جن میں عرب اور ایرانی دونوں سامل ہیں، اُس چیز پر جھگڑتے رہے جس کو وہ ارسطو اور افلاطون کی اصلی تعلیم خیال کرتے تھے، لیکن اُن کو یہ بات کبھی نہ سوجھی کہ اس فلسفہ کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یونانی زبان کا جاننا قطعاً ناگزیر تھا۔ اُن کی لاعلمی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اُنھوں نے فلاطینوس کی ایندس (Enneads) کے ایک ملخص ترجمہ کو “ارسطو کی دینیات” تسلیم کرلیا۔ یونانی فلسفہ کے ان دو زبردست اساتذہ کے متعلق ایک واضح تصور حاصل کرنے کے لیے ان کو صدیاں لگ گئیں۔ پھر بھی یہ امر مشتبہ ہے کہ اُنھوں نے ان کو پوری طرح سمجھا بھی یا نہیں۔ الفارابی اور ابن مسکویہ کے بہ نسبت ابن سینا میں زیادہ وضاحت اور اُپج پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اندلسی فلسفی ابن رشد اپنے پیشروئوں کے مقابلہ میں ارسطو سے زیادہ قریب ہے، تاہم ارسطو کے فلسفہ پر اس کو بھی کامل دسترس نہیں ہے۔ پھر بھی ان پر کورانہ تقلید کا الزام لگانا ناانصافی ہوگی۔ ان کی تاریخ فکر اس مجموعہ خرافات میں سے نکل آنے کی ایک مسلسل کوشش ہے، جو یونانی فلسفہ کے مترجمین کو لاپروائی کا نتیجہ تھا۔ ان کو ارسطو اور افلاطون کے نطامات فلسفہ پر ازسرنو فکر کرنا پڑا، گویا ان کی شرحیں انکشاف کی کوششیں تھیں نہ کہ تشریح و توجیہ کی۔ وہ حالات جن کے تحت ان کو مستقل و آزاد نظامات فکر پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایک نتکہ رس ذہن محصور ہوگیا تھا اور مہملات کا ایک انبار اس کے راستہ میں ہائل تھا اور اس کو رفع کرنے کے لیے صبر آزما محنت و کاوش کی ضرورت تھی تاکہ صداقت کذب سے علیحدہ ہوجائے۔ اس ابتدائی بحث کے بعد اب ہم یونانی فلسفہ کے ایرانی متعلّمین پر فرداً فرداً غور کریں گے۔
ابن مسکویہ1(المتوفی ۱۹۳۰ئ)
سرخشی،2 ترک نژاد فارابی اور طبیب رازی (المتوفی ۹۳۲ء جس نے اپنی ایرانی عادات فکر کے مطابق نور کو پہلی مخلوق خیال کیا اور مادہ، زمان و مکان کی ازلیت کو تسلیم کرلیا تھا) کے ناموں سے گذر کر اب ہم ایک مشہور شخصیت علی محمد ابن محمد ابن یعقوب کی طرف آتے ہیں جو عام طور پر ابن مسکویہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ بو وحید سلطان عضد الدولہ کا خزانچی تھا۔ اس کا شمار ایران کے مورخین، معلّمین، اطبا اور ائمہ مفکرین الہٰیت میں کیا جاتا تھا۔ میں ذیل میں اُس کی ایک مشہور ترین تصنیف الفوز الاصفر سے جو بیروت میں طبع ہوئی ہے اُس کے نظام فلسفہ کا ایک اجمالی بیان پیش کرتا ہوں۔
۱- انتہائی علت کا وجود
یہاں ابن مسکویہ نے ارسطو کی تقلید کی ہے اور اُس کے اُس استدلال کا اعادہ کیا ہے جو حرکت طبعی کے واقعہ پر مبنی ہے۔ تمام اجسام میں حرکت کا لاینفک خاصہ ہے، جو تغیرات کی تمام صورتوں پر حاوی ہے، اور یہ خود اجسام کی ذات سے ظہور پذیر نہیں ہوتی۔ لہٰذا حرکت مستلزم ہے ایک خارجی ماخذ یا محرک اولیٰ کو۔ تجربہ سے اس مفروضہ کی تردید ہوجاتی ہے کہ حرکت خود اجسام کی ماہیت میں داخل ہے۔ مثلاً انسان میں آزاد حرکت کی قوت ہے، لیکن اُس مفروضہ کی بنا پر اس کے جسم کے مختلف اعضا کو ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی حرکت کرتے رہنا چاہیے۔ لہٰذا علل محرکہ کے سلسلہ کو ایک ایسی علت پر جاکر ختم ہوجانا چاہیے جو خود غیر متحرک ہو لیکن دوسری اشیا کو حرکت دیتی ہو علت اولیٰ کا غیر متحرک رہنا لازمی ہے۔ کیونکہ علتِ اولیٰ میں حرکت کا فرض کیا جانا ایک غیر متناہی رجعت کا باعث ہوگا، جو مہمل ہے۔
یہ غیر متحرک محرک ایک ہی ہے۔ ابتدائی محرکات کے تعدد سے یہ بات لازم آئی ہے کہ ان کی ماہیت میں کوئی شرک مشترک ہے تاکہ وہ ایک ہی صنف کے تحت لائے جاسکیں۔ اور ان میں کچھ فرق و اختلاف بھی لازمی ہوجاتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے متمائز ہوسکیں۔ لیکن یہ جزوی مماثلت و مخالفت اُن کے جواہر کی ترکیب و امتزاج کو مستلزم ہے۔ اور چونکہ ترکیب و امتزاج حرکت کی ہی ایک صورت ہے اس لیے جیسا کہ ہم نے بتلایا ہے، وہ حرکت کی علت اولیٰ میں موجود نہیں رہ سکتا۔ اس کے سوا محرک اولیٰ ازلی اور غیر مادی ہے چونکہ عدم سے وجود میں آنا بھی حرکت کی ایک صورت ہے، اور مادہ ہمیشہ کسی نہ کسی حرکت کے تابع رہتا ہے، پس سے لازم آتا ہے کہ کوئی شے جو ازلی نہ ہو یا کسی طرح مادہ سے متحد ہو تو اس کو متحرک ہونا چاہیے۔
۲- انتہائی حقیقت کا علم
انسان کا علم تمام تر احساسات سے شروع ہوتا ہے، اور بتدریج ادراکات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ حقیقت خارجی تعقل کے ابتدائی مدارج کو متعین کرتی ہے۔ لیکن علم کی ترقی کے یہ معنی ہیں کہ ہم مادے سے بے تعلق ہوکر فکر کرسکیں۔ فکر کا آغاز مادہ کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اس کے پیش نظر یہ مقصد ہے کہ اپنے کو ابتدائی شرائط سے آزاد کرلے۔ لہٰذا تخیل میں، جو کسی شے کی نقل یا شبیہ کو ذہن میں محفوظ رکھنے اور اُس کا اعادہ کرنے والی قوت ہے اور جس میں خارجیت سے قطع نظر کرلی جاتی ہے، ہم فکر کے ایک علیٰ زینہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس سے بھی اعلیٰ زینہ وہ ہے، جہاں فکر تصورات وضع کرتے وقت مادہ سے بے تعلق ہوجاتی ہے۔ جس حد تک کہ تصور، ادراکات کی کی ترتیب و موازنہ کا نتیجہ ہے اُس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اُس نے احساسات کی ظاہری علت سے اپنے آپ کو آزاد کرلیا ہے۔ لیکن اس واقعہ کی بنا پر کہ تصورِ ادراک پر مبنی ہے، ہم تصور و ادراک کی ماہیت کے باہمی اختلاف کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ وہ مستمر تگیر جس میں سے جزئیات (ادراک) گذر رہے ہیں اُس عالم کی نوعیت پر بھی اثر ڈالتا ہے جو محض ادراک مبنی ہے۔ لہٰذا جزئیات کے علم میں استمرار و استقلال کا فقدان ہے۔ اس کے برعکس کلیات (تصور) قانون تغیر سے متاثر نہیں ہوتے۔ جزئیات تغیر پذیر ہیں، لیکن کلیات غیر متغیر رہتے ہیں۔ مادہ کی ماہیت ہی یہ ہے کہ وہ قانون تغیر کا فرماںدار بن جائے۔ مادہ سے جو شے جس قدر بری ہوگی اسی قدر اُس میں تغیر کا امکان کم ہوگا خدا چونکہ مادہ سے قطعاً بری ہے اس لیے وہ قطعاً غیر متغیر ہے۔ مادیت سے اُس کی مکمل آزادی ہمارے لیے یہ بات مشکل بلکہ محال کردیتی ہے کہ ہم اُس کا کوئی تصور قائم کرسکیں۔ فلسفیانہ تادیت کا مقصد “تصوراتِ خالص” پر تفکر یا مراقبہ کرنے کی قوت کو نمو دینا ہے تاکہ مسلسل مشق سے اُس خالص غیر مادی ہستی کا تصور قائم کرنا ممکن ہوسکے۔
۳- وحدت سے کثرت کس طرح پیدا ہوئی ہے
اس سلسلہ میں وضاحت کی خاطر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ابن مسکویہ کی تحقیقات وک دو حصوں میں منقسم کیا جائے۔
(ا) یہ کہ انتہائی عامل یا علت نے کائنات کو عدم سے خلق کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مادین ازلیت مادہ کے قائل ہیں۔ اور خدا کی تخلیقی فعلیت کو صورت سے متصف کرتے ہیں۔ تاہم یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ جب مادہ ایک صورت سے دوسری صورت میں متبدل ہو جاتا ہے تو پہلی صورت کلیتہً معدوم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ کلیتہً معدوم نہ ہوجائے تو اُس کو یا تو کسی دوسرے جسم میں منتقل ہونا پڑے گا۔ یا وہ اُسی جسم میں باقی رہے گی۔ ہمارے روزمرہ کے تجربہ سے پہلی صورت کی تردید ہوجاتی ہے۔ اگر ہم ایک موم کے کرے کو ایک جامع مربع مین تبدیل کردیں تو اُس کی ابتدائی کرویت کسی دوسرے جسم میں منتقل نہیں ہوتی دوسری حالت بھی ناممکن ہے کیونکہ اس سے یہ نتیجہ لازم آئے گا کہ دو متضاد صورتیں گولائی اور لمبائی ایک ہی جسم میں موجود رہ سکتی ہیں۔ لہٰذا نتیجہ یہ مرتب ہوتا ہے کہ نئی صورت وجود میں آتے ہی ابتدائی صورت کلیتہً معدوم وہجاتی ہے اس استدلال سے یہ قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اعراض جیسے صورت، رنگ وغیرہ محض عدم سے وجود میں آتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے جوہر بھی عرض کی طرح غیر ازلی ہے ہم کو حسب ذیل قضایا کا مفہوم ذہن نشین کرلینا چاہیے۔
۱- مادہ کی تحلیل سے متعدد و مختلف عناصر برآمد ہوتے ہیں جن کے اختلاف و متنوع کو ایک بسیط عنصر میں تحویل کردیا جاتا ہے۔
۲- صورت و مادہ لاینفک اور متلازم ہیں۔ مادہ کا کوئی غیر بھی صورت کو معدوم نہیں کرسکتا۔
ان دو قضایا سے ابن مسکویہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ جوہر کا آغاز بھی زمان میں ہوا ہے۔ صورت کی طرح مادہ کا بھی آغاز ہوا ہوگا۔ مادہ کی ازلیت سے صورت کی ازلیت لازم آتی ہے۔ لیکن، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، ہم صورت کو ازلی نہیں خیال کرسکتے۔
(ب) عمل تخلیق۔ یہ کثرت جو ہم کو ہر جگہ نظر آتی ہے، اُس کی علت کیا ہے؟ وحدت کثرت کو کس طرح پیدا کرسکتی ہے؟ یہ فلسفی کہتا ہے کہ جب علت مختلف معلومات کو پیدا کرتی ہے تو ان کی کثرت مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک پر مبنی ہوسکتی ہے۔
۱- علت میں کئی قوتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً انسان چونکہ مختلف عناصر و قوتوں کا مجموعہ ہے اس لیے وہ مختلف افعال کی علت ہوسکتا ہے۔
۲- مختلف معلومات کو پیدا کرنے کے لیے علت مختلف طریقے استعمال کرسکتی ہے۔
۳- علت مختلف النوع مواد پر عمل و اثر کرسکتی ہے۔
ان میں سے کوئی قضیہ بھی انتہائی علت یعنی خدا پر صادق نہیں آسکتا۔ یہ کہنا کہ خدا میں مختلف قوتیں ہیں اور وہ ایک دوسرے سے متمائز ہیں۔ بداہتہً بے معنی ہے کیونکہ اس کی ماہیت میں ترکیب و امتزاج داخل نہیں ہے۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ اس نے کثرت پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے ہیں تو پھر ان ذرائع کا خالق کون ہے؟ اگر یہ ذرائع انتہائی علت کے علاوہ کسی اور علت کی تخلیقی قوت کا نتیجہ ہیں تو اس سے انتہائی علل کا تعدد لازم آئے گا۔ اس کے برخلاف انتہائی علت نے اگر ان ذرائع کو پیدا کیا ہے تو ان کی تخلیق کے لیے دوسرے ذرائع کی ضرورت پڑی ہوگی۔ عمل تخلیق سے متعلق تیسرا قضیہ بھی ناقابل تسلیم ہے۔ ایک عامل کے عمل تعلیل سے کثرت پیدا نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ انتہائی علت نے صرف ایک شے کو پیدا کیا اور اسی شے سے دوسری شے پیدا ہوئی تو ہمارے لیے اس دشواری سے بچنے کا ایک راستہ کھل جاتا ہے۔ یہاں ابن مسکویہ نوفلاطونی صدورات کو بیان کرتا ہے، جن میں اساسی عناصر پر پہنچنے تک بتدریج کثرت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ متحدہ منفصل اور پھر متحد ہوکر حیات کی اعلیٰ سے اعلیٰ صورتوں کو نمو دیتے ہیں۔ مولانا شبلی نے ابن مسکویہ کے نظریہ3 ارتقا کا حسب ذیل خلاصہ پیش کیا ہے:
ابتدائی جواہر کے اتحاہ سے فلزاتی اقلیم وجود میں آئی، جو حیات کی ادنیٰ ترین صورت ہے۔ اقلیم نباتی ارتقا کا اعلیٰ زینہ ہے۔ پہلا ظہور خود رو گھاس کا ہے۔ پھر پودے اور مختلف قسم کے درخت وجود میں آتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے ڈانڈے اقلیم حیوانی سے مل جاتے ہیں، کیونکہ ان میں بعض حیوانی خصوصیات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ نباتی اور حیوانی اقالیم کے درمیان حیات کی ایک اور صورت پائی جاتی ہے، جو نہ تو حیوانی ہے نہ نباتی بلکہ دونوں کی خصوصیات اس میں مشترک ہیں، جیسے (مرجان) حیات کی اس درمیانی منزل کے بعد قوتِ حرکت اور زمین پر رینگنے والے کیڑوں کے حاسۂ لمس کے نشوونما کا درجہ ہے۔ عمل تفریق کے ذریعہ حاسۂ لمس سے حواس کی دوسری صورتیں نمو پاتی ہیں، یہاں تک کہ ہم اعلیٰ درجہ کے حیوانات کے طبقہ تک پہنچ جاتے ہیں جہاں عقل ایک ارتقائی حالت میں ظہور پذیر ہونے لگتی ہے۔ بندر میں انسانیت کی کچھ جھلک سی آجاتی ہے جو مزید نشوونما کے بعد بتدریج راست قامت ہوجاتا ہے۔ اور انسان کی طرح اس میں بھی قوت فہم پیدا ہوجاتی ہے۔ یہاں حیوانیت کا اختتام اور انسانیت کا آغاز ہوتا ہے۔
۴- روح
یہ سمجھنے کے لیے کہ آیا روح کا وجود مستقل بالذات ہے ہم کو علم انسانی کی ماہیت سے واقف ہونا پڑے گا۔ مادہ کا یہ لازمی خاصہ ہے کہ وہ دو مختلف صورتیں وقت واحد میں اختیار نہیں کرسکتا۔ اگر ایک چاندی کے چمچے کو چاندی کے پیالہ میں تبدیل کرنا ہو تو یہ ضروری ہے کہ چمچے کی صورت باقی نہ رہے۔ یہ خاصہ تمام اجسام میں مشترک ہے۔ جس جسم میں اس خاصہ کا فقدان ہو وہ جسم ہی نہیں سمجھا جاسکتا۔ جب ہم ادراک کی ماہیت پر غور کرتے ہیں تو ہم کو انسان میں ایک ایسی قوت دریافت ہوتی ہے، جو وقت واحد میں ایک سے زیادہ اشیا کو جانتی ہے اور اسی وجہ سے وقت واحد میں مختلف صورتیں اختیار بھی کرسکتی ہے۔ اس قوت کو مادہ نہیں کہہ سکتے کیونکہا س میں مادہ کی اساسی خاصیت کا فقدان ہے۔ روح کی ماہیت ہی یہ ہے کہ وقت واحد میں مختلف اشیا کا ادراک کرنے کی اس میں قوت پوشیدہ ہے۔ لیکن یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ روح کا جوہر یا تو مادی ہے یا مادے ہی کا ایک وظیفہ ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے دلائل بھی موجود ہیں کہ روح مادہ کا وظیفہ نہیں ہوسکتی۔
(ا) کوئی شے جو مختلف صورتیں اور حالتیںاختیار کرلیتی ہے وہ کود کوئی صورت یا حالت نہیں ہوسکتی۔ کوئی جسم جو مختلف رنگوں کو قبول کرلیتا ہے وہ خود اپنی ذات سے بے رنگ ہوتا ہے۔ روح بھی اشیا خارجی کا ادراک کرتے وقت مختلف صورتیں اور حالتیں اختیار کرلیتی ہے، لہٰذا یہ خود کوئی صورت نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابن مسکویہ اپنی ہم عصر ملتاتی نفسیات کی تائید کرتا تھا، اس کے نزدیک مختلف نفسی احوال خود روح کے مختلف تغیرات تھے۔
(ب) اعراض ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ اس تغیر کے عقب میں کوئی نہ کوئی محل جوہری ہونا چاہیے جو وحدت ذات کی بنیاد ہے۔
یہ ثابت کرنے کے بعد کہ روح کو مادہ کا وظیفہ نہیں خیال کیا جاسکتا، ابن مسکویہ بتلانا چاہتا ہے کہ روح درحقیقت غیر مادی ہے۔ اس کے بعض دلائل قابل غور ہیں۔
۱- حواس ایک قوی مہیج کا ادراک کرنے کے بعد تھوڑی دیر تک کمزور مہیج کا ادراک نہیں کرسکتے۔ لیکن ذہن کے عمل وقوف کی ہالت اس سے بالکل جداگانہ ہے۔
۲- جب ہم کسی عسیر الفہم مضمون پر غور و فکر کرتے ہیں تو ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنی آنکھیں بند کرکے گرد و پیش کی چیزوں سے بے خبر ہوجائیں کیونکہ ہم ان چیزوں کو روحانی فعلیت میں سدراہ سمجھتے ہیں۔ اگر روح کا جوہر مادی ہوتا تو غیر مسدود فعلیت کو صادر کرنے کے لیے یہ ضروری نہ ہوتا کہ مادی کی دنیا سے گریز کیا جائے۔
۳- قوی مہیج کا ادراک حواس کو کمزور کردیتا ہے اور بعض وقت اس سے مضرت بھی پہنچتی ہے۔ اس کے برخلاف افکار و تصورات کے علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ عقل کی قوت بھی بڑھتی جاتی ہے۔
۴- بڑھاپے میں جو جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے وہ ذہنی قوت کو متاثر نہیں کرسکتی۔
۵- روح بعض ایسے قضایا کا تعقل کرسکتی ہے جن کو مرادِ حسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، مثلاً حواس اس قضیہ کا ادراک نہیں کرسکتے کہ دو نقیض ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔
۶- ہم میں ایک ایسی قوت ہے جو ہمارے اعضا جسمی پر حکومت کرتی حسی غلطیوں کی تصحیح کرتی اور ہمارے معلومات میں وحدت پیدا کرتی ہے۔ یہ متحد کرنے والی قوت جو حواس کے پیش کردہ مواد پر غور و فکر کرتی اور ہر حاسہ کی شہادت کا موازنہ کرکے مختلف بیانات کی نوعیت کا تعین کرتی ہے، ایک ایسی قوت ہے جس کو مادہ کے دائرے سے بالاتر ہونا چاہیے۔
ابن مسکویہ کہتا ہے کہ ان دلائل کی متحدہ قوت سے اس قضیہ کی صداقت قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ روح فی الحقیقت غیر مادی ہے۔ روح کا غیر مادی ہونا اس کے غیر فانی ہونے کو متضمن ہے، کیونکہ فنا ہونا مادہ ہی کی خصوصیت ہے۔
(۲) ابن سینا (المتوفی ۱۰۳۷ئ)
ایران کے ابتدائی مفکرین میں صرف ابن سینا ہی ایسا شخص ہے جس نے خود اپنا ایک علیحدہ نظام فکر تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ اس کی تصنیف جو فلسفۂ مشرقیہ کے نام سے موسوم ہے، اب بھی موجود ہے۔ ہمیں اس کی تصانیف میں ایک ایسا رسالہ4 بھی ملتا ہے جس میں اس فلسفی نے فطرت میں عشق کے عالمگیر اثر پر اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسالہ ایک نظام فلسفہ کا خاکہ ہے، اور یہ بالکل ممکن ہے کہ جن تصورات کا اس میں ذکر کیا گیا ہے اُن سے بعد میں مکمل طور پر بحث کی گئی ہو۔
ابن سینا نے “عشق” کی یہ تعریف کی ہے کہ یہ حسن کی تحسین ہے۔ وہ اس تعریف کے مطابق وجود کی تین قسمیں بیان کرتا ہے۔
۱- اشیا جو کمال کے اعلیٰ ترین نقطہ پر ہیں۔
۲- اشیا جو کمال کے ادنیٰ ترین نقطہ پر ہیں۔
۳- اشیا جو قطبین کمال کے مابین واقع ہیں۔
لیکن آخر الذکر صنف کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے، کیونکہ بعض اشیا ایسی ہیں جو پیشتر ہی سے متنائے کمال کو پہنچ چکی ہیں اور بعض اشیا کمال کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حصول نصب العین کی یہ کوشش گویا حسن کی طرف عشق کی ایک حرکت ہے اور یہ ابن سینا کے نزدیک کمال کے مماثل ہے۔ صور کے مرئی نشوونما کی تہہ میں عشق کی قوت پوشیدہ ہے، جو ہر قسم کی حرکت، جدوجہد اور ترقی کی محرک ہے۔ اشیا کی ساخت ہی کچھ ایسی ہوئی ہے کہ وہ عدم سے نفرت کرتی ہیں، اور مختلف صورتیں میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھنے کا اُن کو عشق ہے۔ غیر متشکل مادہ جو بذاتِ خود بے جان ہے مختلف صورتیں اختیار کرلیتا ہے، یا صحیح معنوں میں یہ کہو کہ عشق کی باطنی قوت اس کو مختلف صورتیں عطا کرتی ہے اور وہ حسن کے اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج طے کرتا ہے۔ عالم طبعی میں اس انتہائی قوت کے اثر و عمل کو حسب ذیل طریقے سے بیان کیا جاسکتا ہے:
۱- بے جان اشیا صورت، مادہ اور صفت کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اس پُراسرار قوت کے عمل سے صفت اپنے جوہر سے پیوستہ رہتی ہے اور صورت غیر متشکل مادہ سے ملحق ہوجاتی ہے، اور یہ مادہ عشق کی زبردست قوت سے مجبور ہوکر ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل ہوجاتا ہے۔
۲- عشق کی قت میں اپنے آپ کو مرتکز کرنے کا میلان ہے۔ اقلیم نباتی میں اس کو اعلیٰ درجہ کی وحدت یا مرکزیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اگرچہ اس نوبت پر روح میں وہ وحدت عمل پیدا نہیں ہوتی جو اس کو بعد میں حاصل ہوتی ہے۔ روح نباتی کے وظائف حسب ذیل ہیں۔
۱- تغذیہ
۲- نمو
۳- باز آفرینی
بہرحال یہ تمام اعمال عشق ہی کے مختلف مظاہر کے سوا اور کچھ نہیں۔ تغذیہ کے معنی خارجی کو باطنی میں منتقل کرلینے کے ہیں۔ اجزا میں زیادہ سے زیادہ توافق پیدا کرنے کے شوق کو نمو کہتے ہیں۔ اور باز آفرینی سے مراد توسیع نوع ہے جو عشق ہی کا ایک پہلو ہے۔
۳- اقلیم حیوانی میں قوت عشق کے مختلف مطاہر میں زیادہ وحدت پائی جاتی ہے۔ یہ مختلف سمتوں میں عمل کرنے کی نباتی جبلت کو محفوظ رکھتی ہے لیکن یہاں طبیعت کابھی نشوونما ہوتا ہے اور یہ زیادہ متحدہ فعلیت کی طرف ایک اقدام ہے۔ انسان میں توحد کا یہ میلان شعور ذات میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ فطری محبت کی یہی قوت انسان سے بالاتر ہستیوں کی زندگی میں عمل پریا ہے۔ تمام اشیا محبوب اوّل یعنی حُسن ازل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ کسی شے کی قدر و قیمت کا تعین اس اعتبار سے کیا جاتا ہے کہ اس کو انتہائی قوت سے کس قدر قرب یا بُعد ہے۔
بہرحال بحیثیت ایک طبیب کے ابن سینا کو روح کی ماہیت سے خاص طور پر دلچسپی رہی ہے۔ علاوہ ازیں اس کے زمانہ میں نظریۂ تناسخ قبولیت عام حاصل کررہا تھا۔ اسی لیے وہ روح کی ماہیت سے اس طرح بحث کرتا ہے کہ اس سے نظریۂ تناسظ باطل ہوجائے۔ وہ کہتا ہے کہ روح کی تعریف و تحدید دشوار ہے، کیونکہ وجود کے مختلف عوالم میں اس سے مختلف قوتیں اور میلانات ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ روح کی مختلف قوتوں کے متعلق اس کے خیال کو اس طرح مستحضر کیا جاسکتا ہے۔
۱- غیر شعوری فعلیت کا مظہر۔
(ا) مختلف سمتوں میں عمل کرنا (روح نباتی)
(ب) ایک ہی سمت میں عمل کرکے یکسانیت عمل حاصل کرنا طبیعت کا نشونما
۱- تغذیہ
۲- نمو
۳- باز آفرینی
۲- شعوری فعلیت کا مظہر۔
(ا) ایک سے زیادہ اشیا کی طرف رجوع ہونا۔
روح حیوانی
انسان ادنیٰ حیوانات
۱- ادراکی قوتیں (ا) ادراکی قوتیں
(ا) خواسِ خمسہ ظاہری (ب) قوت محرکہ (خواہش لذت و اجتناب الم)
(ب) حواس خمسہ باطنی
۱- مرکز حسی
۲- تحفظ تمثال
۳- تصور
۴- متخیّلہ
۵- حافظہ
پس انھی حواس خمسہ باطنی پر روح مشتمل ہے۔ یہی روح ترقی پذیر عقل بن کر جلوہ گر ہوتی ہے اور انسانی و ملکوتی عقل سے بھی آگے بڑھ کر نبوت تک ترقی کرتی ہے۔
(ب) ایک ہی شے کی طرف رجوع ہونا، جیسے کروں کی روح جو یکسانیت کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔
ابن سینا نے اپنے رسالۂ نفس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ روح کے لیے مادی لوازمہ کی ضرورت نہیں۔ روح کو تصور وضع کرنے یا سوچنے کے لیے جسم یا کسی جسمانی قوت کے وسیلہ کی حاجت نہیں۔ اگر روح کو دوسری اشیا کا تصور قائم کرنے کے لیے مادی آلے کی ضرورت ناگزیر ہے تو اُس کو خود اپنے جسم کے تعقل کے لیے ایک دوسرے جسم کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے سوا یہ واقعہ کہ روح براہِ راست شاعر الذات ہے، یعنی اس کو اپنی ذات کا شعور کود اپنے توسط سے ہوتا ہے، اس بات کو قطعی طور پر ثابت کردیتا ہے کہ روح بالطبع مادی لوازمہ سے بالکل آزاد و بے تعلق ہے۔ نظریۂ تناسخ فرد کی حیات قبل الوجود کو مستلزم ہے۔ لیکن اگر یہ فرض بھی کیا جائے کہ روح جسم سے پہلے موجود رہی ہوگی۔ اجسام کی کثرت مادی صورتوں کی کثرت کا نتیجہ ہے۔ اس سے ارواح کی کثرت کا پتہ نہیں چلتا۔ اس کے برخلاف اگر وہ ہستی واحد کی حیثیت سے موجود ہے تو الف کا علم یا لاعلمی ب کے علم یا لا علمی کو مستلزم ہوگی، کیونکہ دونوں میں روح کا وجود ایک ہی ہے۔ لہٰذا روح پر ان مقولات کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ ابن سینا کہتا ہے کہ جسم و روح گو ایک دوسرے کے مقارن ہیں، لیکن ان کے جواہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جسم کے انتشار کے ساتھ روح کا معدوم ہوجانا لازمی نہیں۔ انتشار یا انحطاط مرکبات کا خاصہ ہے نہ کہ بسیط و ناقابل تقسیم تصوری جواہر کا۔ اس کے بعد ابن سینا حیات قبل الوجود کا ابطال کرتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ موت کے بعد بھی جسم ک بغیر شعوری زندگی کا امکان ہے۔
ہم ایران کے ابتدائی نوفلاطونئیں کے کارناموں پر نظر ڈال چکے ہیں جن میں سے، جیسا کہ ہم کو معلوم ہوچکا ہے، صرف ابن سینا ہی نے خود اپنا ایک نظام فلسفہ پیش کیا ہے۔ اس کے شاگردوں میں سے بہمن یار، ابو المامون اصفہانی، معصومی، ابو العباس ابن طاہر وغیرہ نے اپنے اُستاد کے فلسفہ کی ترویج و توسیع میں حصہ لیا۔ یہاں ان کا تذکرہ غیر ضروری ہے۔ ابن سینا کی شخصیت میں جادو کا سا اثر تھا، اور یہی وجہ تھی کہ اس کے ایک زمانہ بعد بھی اس کے خیالات میں کسی قسم کا اضافہ یا ترمیم ایک ناقابل عفو جرم سمجھی جاتی تھی۔ نور و ظلمت کی ثنویت کا قدیم ایرانی تصور ایران کے نوفلاطونی تصورات کی نشوونما میں کوئی اہم عنصر کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان تصورات کی مستقل حیثیت کچھ عرصہ تک قائم رہی لیکن ایرانی تفکر کے عام سیلاب میں ان کی مستقل ہستی گم ہوگئی۔ یہ تصورات ایران کی فلسفیانہ ترقی سے اسی حد تک تعلق رکھتے ہیں جس حد تک کہ وہ توحیدی میلان کی تقویت و توسیع میں معاون ہوئے تھے۔ یہ میلان ابتداً دین زرتشت میں رونما ہوا تھا اگرچہ مسلمانوں کے کلامی مناقشات کی وجہ سے یہ کچھ عرصہ تک دب گیا، لیکن بعد میں یہ دگنی قوت کے ساتھ اس طرح اُبھر آیا کہ اپنے وطن کی گذشتہ عقلی فتوحات پر محیط ہوگیا۔

حواشی

1ڈاکٹر بوئر نے اپنی کتاب فلسفہ اسلام میں الفارابی اور ابن سینا کے فلسفہ پر تفصیلی بحث کی ہے لیکن ابن مسکویہ کے فلسفہ کے متعلق اس کی بحث صرف اس فلسفی کی اخلاقی تعلیم تک محدود ہے۔ میں نے یہاں اس کے مابعد الطبعی خیالات کو پیش کیا ہے جو الفارابی کے مقابلہ زیادہ منضبط و منظم ہیں۔ ابن سینا کی نوفلاطونیت کو دہرانے کے بجائے میں نے اس کے اصلی کارنامہ کو پیش کیا ہے، جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس سے ایرانی فلسفہ میں اضافہ ہوا ہے۔
2سرخشی ۸۹۹ء میں فوت ہوا۔ وہ عرب فلسفی الکندی کا شاگرد تھا۔ بدقسمتی سے اس کی تصانیف ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔
3مولانا شبلی، علم الکلام، ص۱۴۱۔ (حیدرآباد دکن)
4عشق پر یہ رسالہ بھی ابن سینا کی تصانیف کے ساتھ برٹش میوزیم کے کتب خانہ میں محفوظ ہے، اور این-اے-ایف مہرین نے اس کو شائع کیا ہے۔ (لیڈن، ۱۸۹۴ئ)

<<پچھلا  اگلا>>

باب دوم ایران کے نوفلاطونی...

باب دوم
ایران کے نوفلاطونی ارسطاطالیئین


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان