www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletلائبریری bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

فلسفہ عجم

فلسفہ عجم

مندرجات

دیباچۂ
حصہ اوّل قبل اسلامی فلسفۂ ایران
باب اوّل ایرانی ثنویت
حصہ دوم یونانی ثنویت
باب دوم ایران کے نوفلاطونی...
باب سوم اسلام میں عقلیت کا عروج...
باب چہارم - تصوریت اور عقلیت کے...
باب پنجم - تصوف کا مآخذ اور قرآن...
باب ششم - مابعد کا ایرانی تفکر
خاتمہ


دیگر زبانیں

باب اوّل

ایرانی ثنویت

(۱)
زرتشت

ایران قدیم کے برگزیدہ حکیم زرتشت کو ایرانی آریوں کی عقلی تاریخ میں ہمیشہ پہلی جگہ دی جانی چاہیے۔ اُس زمانہ میں جب کہ وسط ایشیا میں ابھی ویدی بھجن تصنیف کیے جارہے تھے ان آریوں نے مسلسل خانہ بدوشی کے خصائص کو ترک نہیں کیا تھا اور جو کبھی کبھی اپنے سے زیادہ مہذب ہمسایوں کو لوٹا کرتے تھے، اس نو آباد قبیلہ کی اس جدید طرزِ زندگی اور ادارۂ جائداد کے استحکام کو دیکھ کر اس سے تنفر کرنے لگے۔ اس طرح زندگی کے ان دو طریقوں میں ایک پیکار و تنازع شروع ہوگیا، جو ابتدا میں ایک دوسرے کے اربابِ دیوا اور آہورا کی تحقیر میں رونما ہوا۔ یہ درحقیقت ایک طویل عمل تفرید تھا جس نے ایرانی شاخ کو دوسرے آریائی قبائل سے الگ کردیا، اور بالآخر پیغمبر ایران زرتشت1 کے مذہبی نظام میں نمودار ہوا جس کا زمانہو تعلیم سولن اور طالیس کا عہد تھا۔ جدید مستشرقین کی تحقیقات کی دھندلی روشنی میں قدیم ایرانی ہم کو دو گرہ میں منقسم نظر آتے ہیں۔ ایک قوت خیر کا حامی ہے دوسرا قوت شر کا۔ اس وقت یہ حکیم اعظم ان کی اس شدید پیکار میں شریک ہوتا ہے۔ اور اپنی اخلاقی قوت سے شیاطین کی پرستش اور مجبوری پیشوائوں کے ناقابل برداست مذہبی رسوم کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیتا ہے۔
بہرحال زرتشت کے مذہبی نظام کے ماخذ و نمو کا سراغ لگانا ہمارے مقصد سے دور ہے۔ ہمارا مقصد جہاں تک کہ اس موجودہ تحقیق کا تعلق ہے، اس کے مکاشفات کے مابعد الطبیعی پہلو پر ایک نظر ڈالنا ہے۔ لہٰذا اہم اپنی توجہ کو فلسفہ کی اس مقدس تثلیث خدا، انسان اور فطرت پر مرتکز کرنا چاہتے ہیں۔
گیگر نے اپنی کتاب عہد قدیم کے مشرقی ایرانیوں کی تہذیب میں بیان کیا ہے کہ زرتشت کو اپنے آریاعی مورثوں سے دو اساسی اصول ترکہ میں ملے تھے، (۱) فطرت میں قانون ہے (۲) فطرت میں تنازع ہے۔ موجودات کے اس وسیع منظر میں قانون و تنازع کا مشاہدہ ہی اس کے نظام کی فلسفیانہ بنیاد بن گیا۔ اس کے پیش نظر یہ مسئلہ تھا کہ بدی کے وجود میں اور خدا کی ازلی نیکی میں صلح کرائی جائے۔ اس کے اسلاف نے کثیر التعداد ارواح صالحہ کی پرستش کی تھی، جن کو اُس نے ایک وحدت میں تحویل کرکے اس کا نام آہورا مزوا رکھا، اور دوسری طرف شر کی قوتوں کو اسی طرح ایک وحدت میں تحویل کرکے درج اہرمن کے نام سے موسوم کیا۔ اس عمل توحد کے ذریعہ سے وہ دو اساسی اصول تک پہنچا۔ ان کو وہ جیسا کہ ہاگ کا بیان ہے، دو مستقل فعلیتیں نہیں بلکہ ہستیِ اولیٰ کے دو حصے یا دو پہلو خیال کرتا تھا۔ اسی بنا پر ڈاکٹر ہاگ کہتا ہے کہ ایران قدیم کا یہ پیغمبر دینیاتی نقطۂ نظر سے موحد اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے ثنویہ2 تھا۔ لیکن یہ دعویٰ کرنا کہ دوایستی توام3 ارواح موجود ہیں جو حق و باطل کی خالق ہیں، اور ساتھ ہی یہ کہنا کہ یہ ارواح ہستی برتر سے متحد ہیں گویا اس بات کے برابر ہے کہ قوت شر خدا کی ماہیت ہی کا ایک جزو ہے۔ اور خیر و شر کی پیکار اس کے سوا ور کچھ نہیں کہ خدا خود اپنے آپ سے برسر پیکار ہے۔ اس لیے دینیاتی توحید اور فلسفیانہ ثنویت میں صلح کرانے کی اس نے جو کوشش کی ہے اس میں ایک خلقی کمزوری پائی جاتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے پیرۂں میں تفریق و اختلاف پیدا ہوگیا زنادقہ4 جن کو ڈاکٹر ہاگ ملحدین کا لقب دیتا ہے لیکن جن میں میرے خیال کے مطابق اپنے مخالفین کی بہ نسبت زیادہ استواری اور توافق تھا، اس بات کے حامی تھے کہ یہ ابتدائی ارواح ایک دوسرے سے علیحدہ اور مستقل وجود رکھتی ہیں۔ اس کے برخلاف مجوسی ان ارواح کے قائل تھے۔ وحدت کے علم برداروں نے زنادقہ سے مقابلہ کرنے کی مختلف طریقوں سے کوشش کی، لیکن یہ واقعہ کہ وہ "ابتدائی توام ارواح" کی وحدت کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف فقروں اور تعبیرات سے کام لیتے تھے اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ان کے مخالفین کی کیا قوت تھی۔ اور یہ کہ وہ خود اپنی فلسفیانہ توجیہات سے مطمئن نہ تھے۔ شہرستانی نے مجوسیوں5 کی مختلف توجیہات کا اجمالی طور پر ذکر کیا ہے۔ زروانیوں نے نور و ظلمت کو زمانِ لامہدود کے بیٹے تسلیم کیا۔ کیومہر تہیہ کا اعتقاد ہے کہ ابتدائی قوت نور تھی لیکن وہ ایک مخالف قوت سے خاعف تھی۔ اور رقیب کا یہی خیال جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا ظلمت کی پیدایش کا باعث ہوا۔ زروانیوں کا ایک دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ اس ابتدائی قوت کو شے کے متعلق شک ہوا۔ اور اسی شک نے اہرمن کو پیدا کیا۔ ابن حزم6 ایک اور فرقہ کا ذکر کرتا ہے جس نے ظلمت کی یہ توجیہ کی ہے کہ ظلمت خود اسی نور کی اساسی قوت کے ایک جزو کے اخفا کا نام ہے۔
اس سے قطع نظر کہ آیا زرتشت کی فلسفیانہ ثنویت اور اُس کی توحید میں مصالحت ہوسکتی ہے یا نہیں یہ بات تو کم از کم ناقابل تردید ہے کہ مابعد الطبعی نقطۂ نظر سے اس نے حقیقت کی انتہائی ماہیت کے متعلق ایک دقیق نکتہ پیش کیا ہے۔ اس تصور سے قدیم7 یونانی فلسفہ اور نیز ابتدائی مسیحی اوریت متاثر ہوئی ہے۔ آخر الذکر کے توسط سے جدید8 مغربی تفکر (فلسفہ) کے بعض پہلو متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ بحیثیت ایک مفکر کے وہ نہایت ہی قابل احترام ہے، نہ صرف اس لیے کہ وہ اپنی فلسفیانہ بصیرت سے خارجی کثرت و تنوع کے مسئلہ تک پہنچ گیا تھا، بلکہ اس وجہ سے کہ اُس نے مابعد الطبعی ثنویت تک پہنچنے کے بعد اس ابتدائی ثنویت کو ایک اعلیٰ وحدت میں تحویل کرنے کی کوشش کی تھی جس طرح جرمنی کے صوفی منش کفش دوز کو اس کے ایک زمانہ بعد ادراک ہوا تھا اسی طرح اس کو بھی یہ ادراک ہوگیا کہ فطرت کی گوناگونی و بوقلمونی کی توجیہ بغیر یہ فرض کیے نہیں ہوسکتی کہ خود خدا کی ماہیت میں ایک سلبی یا تفرید ذات کی قوت پوشیدہ ہے۔ تاہم اس کے جانشین اپنے ہادی و رہبر کے ان ارشادات کے گہرے مفہوم کو نہ سمجھ سکے۔ جوں جوں ہم آگے بڑھیں گے ہمیں معلوم ہوتا جائے گا کہ مابعد کے ایرانی تفکر (فلسفہ) میں زرتشت کا یہ تصور کس طرح ایک روحانی شان میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
جب ہم اس کونیات پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ اپنی ثنویت کی رہنمائی میں کل کائنات کو وجود کے دو شعبوں میں منقسم کردیتا ہے۔ حقیقت یعنی تمام مخلوقاتِ صالحہ کا مجموعہ، جو ایک ایسی روح کی تخلیقی فعلیت سے ظہور میں آتا ہے، جو رحیم و کریم ہے۔ غیر حقیقت9 یعنی تمام مخلوقات خبیثہ کا مجموعہ جو اس کے متخالف روح کی پیداوار ہے۔ ان دونوں روحوں کی ابتدائی پیکار فطرت کی متخالف قوتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اسی لیے فطرت میں خیر و شر کی قوتوں کے مابین ایک مسلسل پیکار جاری ہے۔ لیکن یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ابتدائی ارواح اور اُن کی تخلیق میں کوئی شے مداخلت نہیں کرتی۔ اشیا اچھی یا بری اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ یا تو خیر کی قوت تخلیق کی پیداوار ہیں، یا شر کی۔ لیکن وہ بذات خود نہ خیر ہیں نہ شر۔ زرتشت کا تصورِ تخلیق بداہتہً فلاطون اور شوپن ہور کے تصور سے مختلف ہے جس کے نزدیک حقیقت تجربی، زمانی یا غیر زمانی تصورات کا آئینہ ہے، اور ایک لحاظ سے حقیقت و مظاہر کے مابین ایک رابطہ ہے۔ زرتشت کے نزدیک وجوہ کی صرف دو قسمیں ہیں، اور کائنات کی تاریخ عبارت ہے، اُن قوتوں کی باہمی ارتقائی پیکار سے جو علی الترتیب انھی اقسام وجود کے تحت آتی ہیں۔ ہم بھی دوسری اشیا کی طرح اس پیکار میں شریک ہیں اور یہ ہمارا فرض ہے کہ نور کی حمایت میں صف بستہ ہوجائیں، جو بالآخر فتح مند ہوکر ظلمت کو پوری طرح مغلوب کرلے گا۔ پیغمبر ایران کی مابعد الطبیعیات فلاطون کی مابعد الطبیعیات کی طرح اخلاقیات کی طرف لے جاتی ہے اور اُس کے فلسفہ کے اخلاقی پہلو کی خصوصیات سے اُس کے اجتماعی ماحول کا اثر زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔
روح کی منزلِ مقصود کے متعلق زرتشت کا خیال بہت ہی سادہ ہے اس کے خیال میں روح مخلوق ہے نہ کہ خدا کا ایک جزو، جیسا کہ متھرا10 کے معتقدین نے بعد میں دعویٰ کیا تھا۔ اس کا آغاز تو زمان میں ہوا ہے، لیکن یہ ارضی میدان عمل میں شر کے مقابلہ میں قوت آزما ہوکر حیاتِ ابدی حاصل کرسکتی ہے۔ خیر و شر میں سے کسی ایک طرزِعمل کو اختیار کرنے کی اس کو آزادی حاصل ہے نور کی قوت نے اس میں قوت انتخابی کے ماسوا حسب ذیل ملکات ودیعت کیے ہیں۔
(۱) ضمیر11 (۲) جذبات (۳) نفس- ذہن (۴) روح-عقل
(۵) فراوشی12 ۔ ایک قسم کی حفاظت کرنے والی روح ہے۔ جب انسان خدا کی طرف سفر کرتا ہے تو یہ اُس کی نگہبانی کرتی ہے۔
تین آخر الذکر13 ملکات موت کے بعد متحد ہوکر ایک ناقابل تحلیل کل بن جاتے ہیں۔ نیک روح اپنے اس گوشت و پوست کے مکان سے نکل کر اعلیٰ عوالم میں چلی جاتی ہے، اور اُس کو وجود کے حسب ذیل منازل میں سے ہوکر گذرنا پڑا ہے:
(۱) اچھے خیالات کا عالم۔
(۲) اچھے الفاظ کا عالم۔
(۳) اچھے اعمال کا عالم۔
(۴) ازلی طمانیت کا عالم۔14 جہاں انفرادی روح اپنی شخصیت کو گم کیے بغیر نور کی قوت سے متحد ہوجاتی ہے۔
مانی15 و مزدک16
ہم یہ معلوم کرچکے ہیں کہ زرتشت نے مسئلہ کثرت کو کس طرح حل کیا تھا۔ اور دینیاتی یا یوں کہو کہ فلسفیانہ مناقشوں سے کس طرح دین زرتشت میں پھوٹ پڑ گئی۔ مانی جو ایک نیم ایرانی تھا، اور جس کو عیسائیوں نے بعد میں “بے دین فرقہ کے موجد” کا لقب دیا تھا، اُن زرتشتیوں سے متحد الخیال تھا جو زرتشت کے نظریہ کو اُس کی اصلی صورت میں مانتے تھے۔ اس نے اس سوال (مسئلہ کثرت) سے بالکل مادی نقطۂ نظر سے بحث کی۔ اس کا باپ گو دراصل ایرانی تھا لیکن ہمدانی سے بابل کو ہجرت کرگیا تھا جہاں ۲۱۵ء یا ۲۱۶ء میں مانی پیدا ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ بدھ مت کے مبلغین نے زرتشت کے وطن میں نروان کی تعلیم دینی شروع کی تھی۔ مانی کے مذہبی نظام کی انتخابی نوعیت، اس میں مسیحی تصورِ نجات کے مفہوم کی وسعت، اور اس خیال کی منطقی استواری و توافق کہ دنیا مجموعہ شر ہے۔ اور یہی رہبانی زندگی کا اصل سبب ہے یہ سب ایسی چیزیں تھیں جنھوں نے اس کے نظام کو ایک حقیقی قوت بنا دیا، جس کا اثر نہ صرف مشرقی و مغربی تفکر17 (فلسفہ) پر پڑا بلکہ اس نے ایران کے مابعد الطبیعی تخیلات کے نشوونما پر اپنے دھندلے نشانات چھوڑے ہیں۔ اب مانی کے مذہبی نظام کے ماخذوں18 کی بحث مستشرقین کے لیے چھوڑ کر ہم عالم حادث کے مبدا و منفذ کے متعلق اس کے نظریہ کو پیش کریں گے۔ اور بعد میں اس کی فلسفیانہ قیمت کا تعین کریں گے۔
اس صوفی ملحد نے جیسا کہ ارڈمین نے اس کو لقب دیا ہے، یہ تعلیم دی ہے کہ اشیا کی یہ کثرت و گوناگونی نور و ظلمت کی اُن ازلی قوتوں کے اتصال سے ظہور میں آئی ہیں، جو ایک دوسرے سے علیحدہ اور آزاد ہیں۔ نور کی قوت دس قسم کے تصورات کو متضمن ہے۔ شرافت، علم، فہم، اسرار، بصیرت، محبت، یقین، ایمان، رحم اور حکمت۔ اسی طرح ظلمت بھی پانچ ازلی تصورات کو متضمن ہے۔ تاریکی، حرارت، آتش، حسد اور ظلمت۔ مانی تسلیم کرتا ہے کہ ان اساسی قوتوں کے ساتھ ساتھ اور ان سے ملحق ارض و مکان ازل سے موجود ہیں اور اُن میں سے ہر ایک علی الترتیب علم، فہم، اسرار، بصیرت، سائنس، ہوا، پانی، روشنی اور آتش کے تصورات کو متضمن ہے۔ ظلمت میں، جو کہ فطرت کی نسائی قوت ہے، شر کے عناصر پوشیدہ تھے، اور یہ رفتہ رفتہ مرتکز ہوگئے۔ اسی سے وہ قبیح صورت والا شیطان وجود میں آیا جس کو قوت فعلیت سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ پہلا لڑکا جو ظلمت کے رحم آتشین سے پیدا ہوا تھا نور کے بادشاہ کی مملکت پر حملہ آور ہوا جس نے اس حملہ کی مدافعت کے لیے آدم اوّل (کیومرث) کو پیدا کیا۔ ان دونوں مخلوق میں شدید پیکار شروع ہوگئی اور بالآخر آدم اوّل بالکل مغلوب ہوگیا۔ اس کے بعد اس شیطان نے ظلمت کے پانچ عناصر کو نور کے پانچ عناصر سے متحد و مخلوط کردیا پھر مملکت نور کے حکمران نے اپنے چند فرشتوں کو حکم دیا کہ ان مخلوط عناصر سے کائنات کی تعمیر کریں تاکہ ذرات نور اپنی قید سے آزاد ہوجائیں۔ لیکن پہلے ظلمت نے نور پر حملہ کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آخر الذکر بالطبع خیر ہونے کی وجہ سے امتزاج و اتصال کے عمل کا آغاز نہیں کرسکتا تھا، جو درحقیقت اسی کے لیے مضمر تھا۔ مسیحی نظریہ نجات کے متعلق مانی کی کونیات نے جو نقطۂ نظر اختیار کیا تھا، وہی نقطۂ نظر ہیگل کی کونیات نے بھی نظریہ تثلیت کے متعلق اختیار کیا ہے۔ اس کے نزدیک نجات ایک طبعی عمل ہے اور تولید خواہ کسی قسم کی ہو کائنات کی غرض و غایت کے منافی ہے، کیونکہ یہ نور کی مدت اسیری کو طویل کردیتی ہے۔ نور کے مقید ذرات مسلسل طور پر ظلمت سے آزاد کیے جارہے ہیں اور اُن کو اس عمیق خندق میں پھینکا جارہا ہے، جو کائنات کے اطراف موجود ہے۔ آزاد سدہ نور آفتاب اور مہتاب میں چلا جاتا ہے، جہاں سے اس کو فرشتے عالم نوری میں لے جاتے ہیں، جو جنت کے بادشاہ “پدی وزرگی” کا قیام گاہ ہے۔
مانی کی خیالی کونیات19 کا یہ ایک اجمالی خاکہ ہے۔ وجود خارجی کے مسئلہ کی توجیہ کے لیے زرتشت نے عوامل تخلیقی کا جو مفروضہ پیش کیا تھا یہ اُس کو مسترد کردیتا ہے۔ اس سوال کے متعلق اس نے بالکل مادی نقطۂ نظر اختیار کرکے عالم حادث کو وہ مستقل اور ازلی قوتوں سے منسوب کیا ہے، جن میں سے ایک (ظلمت) نہ صرف کائنات کا ایک جزو ہے بلکہ یہ ایک ایسا مبدا ہے جس میں فعلیت خوابیدہ رہتی ہے اور یہ اس وقت معرضِ ظہور میں آتی ہے جب کہ کوئی مناسب موقع پیاد ہوجاتا ہے۔ اس کی کونیات کا بنیادی تصورِ ہندی مفکر اعظم کپیلا کے تصور سے ایک عجیب و غریب مشابہت رکھتا ہے، جس نے عالم کی توجیہ تین “گنوں” کے مفروضہ سے کی تھی یعنی ستوا (نیکی) تماس (ظلمت) اور راجاس (حرکت یا جذبہ) جب مادۂ اولی (پراکرتی) کے توازن میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے تو اس کے باہمی اتحاد سے فطرت تشکیل پاتی ہے۔ مسئلہ کثرت کی مختلف توجیہات20 کی گئی ہیں۔ ویدانتیوں نے مایا کی ایک پُراسرار قوت کے مفروضہ سے اس کو حل کیا تھا۔ اس کے ایک زمانہ بعد لائبنز نے تماثل غیر ممیزات کے نظریہ سے اُس کی توجیہ کی، لیکن مانی نے جو حل پیش کیا ہے، اگرچہ وہ طفلانہ ہے تاہم اُس کو فلسفیانہ تصورات کے تاریخی نشوونما میں جگہ دی جانی چاہیے اس کی فلسفیانہ اہمیت ممکن ہے کہ معمولی سی ہو، لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ مانی ہی پہلا شخص ہے جس نے اس امر کی طرف نہایت بے بابی سے اشارہ کیا کہ کائنات شیطان کی فعلیت کا نتیجہ ہے، اور اسی لیے شر اس کے ایۂ خمیر میں ہے۔ یہ قضیہ مجھ کو اس نطام فلسفہ کا منطقی جواز معلوم ہوتا ہے جس کی تعلیم یہ ہے کہ ترک و نیاز زندگی کا اصول رہنما ہے ہمارے زمانہ میں شوپن ہور بھی اسی نتیجہ پر پہنچا ہے، اگرچہ مانی کے برخلاف وہ یہ سمجھتا ہے کہ اصول تفرید (یعنی ارادۂ حیات کا معاصیانہ میلان) خود ارادۂ اولیٰ کی سرشت میں موجود ہے اور اس سے علیحدہ و آزاد نہیں ہے۔
اب ہم ایران قدیم کے مشہور اشتراکیہ مزدک کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اشتراکیت کا یہ پہلا پیغمبر نوشیروان عادل کے عہد میں (۵۳۱ء تا ۵۷۸ئ) ظاہر ہوا۔ اس نے مروجہ زروانی21 نظریہ کے خلاف ایک دوسرا ثنوی ردِعمل کیا۔ مانی کی طرح مزدک نے بھی یہ تعلیم دی کہ اشیا کا اختلاف و تنوع و مستقل و ازلی قوتوں کے امتزاج و اتحاد کا نتیجہ ہے، جن کو اس نے شد (نور) اور تار (ظلمت) کے ناموں سے موسوم کیا لیکن وہ اپنے پیشرو سے اس امر میں اختلاف رکھتا ہے کہ ان کے اتحاد اور ان کے آخری انفصال کے واقعات بالکل اتفاقی تھے نہ کہ کسی اختیار و انتخاب کا نتیجہ۔ مزدک کے خدا میں احساس بھی ودیعت ہے۔ اس کی ازلی ہستی میں چار مخصوص قوتیں قوت امتیازی، حافظہ، فہم اور سعادت موجود ہیں۔ان چار قوتوں کے چار شخصی مظاہر ہیں، جو اور چار اشخاص کی مدد سے کائنات کے نظم و نسق پر نگرانی کرتے ہیں۔ اشیا اور اشخاص کے اختلاف و تنوع کی علت ابتدائی قوتوں کے مختلف امتزاجات ہیں۔
لیکن مزدک کی تعلیم کے مخصوص خط و خال میں سے اُس کی اشتراکیت ہے جو بداہتہً مانی کے فلسفہ کی ہمہ گیر روح کا نتیجہ ہے۔ مزدک کہتا ہے کہ تمام انسان مساوی ہیں، اور انفرادی جائداد کا تصور مخالف دیوتائوں کا پیش کردہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی کائنات کو ایک لامحدود تباہی کا منظر بنا دیں۔
مزدک کی تعلیم کا یہی پہلو تھا جو زرتشتی ضمیر کو سخت صدمہ پہنچاتا تھا۔ اسی نے بالآخر زرتشت کے کثیر التعداد پیروئن کو تباہ کردیا حالانکہ زرتشت کی نسبت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس نے بطور معجزہ آتش مقدس میں نطق پیدا کردیا تھا کہ وہ اس کے پیغام کی صداقت پر گواہی دے۔
(۳) بازنظری
قبل اسلامی ایرانی فلسفہ کے بعض پہلو ہماری نظر سے گذر چکے ہیں، لیکن ساسانی تخیل کے میلانات اور اُن حالات کے ناواقفیت کی وجہ سے جو اُس کے سیاسی، اجتماعی اور عقلی ارتقا کا باعث ہوئے ہیں، ہم تسلسل افکار کا پوری طرح سراغ نہیں لگا سکتے۔ افراد کی طرح اقوام کی عقلی تاریخ کا آغاز بھی خارج ہی سے ہوتا ہے۔ اگرچہ زرتشت کی اخلاقی سرگرمی کی وجہ سے اُس کے مبدا اشیا کے نظریہ میں ایک روحانی لہجہ پیدا ہوگیا تھا، لیکن ایرانی تفکر کے اس دور کا ماحصل بخبر مادی ثنویت کے اور کچھ نہیں ہے۔ ایرانیوں کو عقلی ارتقا کی اس منزل پر اس بات کا دھندلا سا اور ادراک ہوا تھا کہ اصول وحدت تمام موجودات کی فلسفیانہ بنیاد ہے۔ پیروان زرتشت کے باہمی مناقشات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کے توحیدی تصور کی تحریک شروع ہوگئی تھی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس کوئی ایسی شہادت نہیں ہے جس سے قبل اسلامی فلسفۂ ایران کے وحدت الوجودی میلانات کے متعلق کوئی ایجابی بیان پیش کرسکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں ویوسجانس ہمپلی کس اور دیگر نوفلاطونی مفکرین جو جسٹی نی ین کے جور وتعدی نے شہر بدر کرا دیا تھا اور ان لوگوں نے نوشیروان عادل کے دربار میں پناہ لی تھی۔ اس کے سوا اس شہنشاہ اعظم نے متعدد سنسکرت و یونانی تصانی کا اپنے لیے ترجمہ کرایا تھا۔ لیکن ہمارے پاس کوئی تاریکی شہادت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ان واقعات کا کس حد تک ایرانی تفکر پر واقعاً اثر پڑا ہے۔ لہٰذا ہم ایران میں آمد اسلام کی طرف رجوع ہوتے ہیں جس نے حالات کی قدیم ترتیب و تنظیم کو زیر و زبر کردیا اور سوچنے والے ذہن کے آگے توحید خالص کا ایک جدید تصور اور خدا و مادہ کی یونانی ثنویت کا تخیل پیش کیا جو یزدان اور اہرمن کی خالص ایرانی ثنویت سے بالکل متمائز تھا۔

حواشی

1 بعض علمائے یورپ زرتشت کو محض ایک افسانوی شخصیت کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتے، لیکن پروفیسر جاکسن کی قابل قدر تصنیف حیات زرتشت کے شائع ہونے کے بعد سے میرا یقین ہے کہ پیغمبر ایران جدید تنقید کی آزمایشوں سے بری ہوگیا ہے۔
2 مقالات، ص۳۰۳۔
3ابتدا میں دو توام ارواح موجود تھیں۔ اور ہر ایک کی مخصوص فعلیت تھی۔ یاسنا، ص۳۰۔
4 بندوہش کے باب اول کی حسب ذیل آیت زنادقہ کے نقطۂ نظر کو واضح کردیتی ہے اور اُن کے (قوتوں) درمیان فضائے بسیط تھی جس کو “ہوا” کہتے تھے، جہاں اب ان کا اتصال ہوتا ہے۔
5شہرستانی، مرتبہ کیورٹین، لندن ۱۸۴۶ئ، ص۱۸۲-۱۸۵۔
6 ابن ہزم، کتاب الملل والنحل، مطبوعہ قاہرہ، جلد دوم، ص۳۴۔
7 اس امر کے متعلق کہ قدیم یونانی تفکر زرتشتی تصورات سے کس حد تک متاثر ہوا ہے ارڈین کا حسب ذیل بیان قابل گور ہے۔ گولارنس مل (امریکن جرنل آف فلاسفی جلد۲۲) اس قسم کے اثر کو بعید از قیاس سمجھتا ہے: “یہ واقعہ کہ اس قوت کے فرماںبردار ہیں جن کو وہ (ہرقلیطوس) تمام حوادث کا تخم اور تمام ترتیب و تنظیم کا معیار کہتا ہے۔ اور جو”زبان” کے نام سے موسوم کیے جاتے ہیں، اس قسم کا ہے کہ اس کو ایرانی مجوسیوں کے اثر سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برخلاف وہ اپنے آپ کو اپنے وطن ہی کی ضمیات کا حلقہ بگوش بتلاتا ہے، اور بلاشبہ جب وہ اپالو اور ڈیوانی سس کوزیوس کے دوش بدوش رکھتا ہے۔ تو اس کے مفہوم میں ضرور تغیر واضح ہوجاتا ہے “یعنی زیور ایک انتہائی آتش ہے جس کی ماہیت کے دو پہلر اپالو اور ڈیوانی سس” ہیں تاریخ فلسفہ جلد اوّل، ص۵۰ غالباً ہرقلیطوس پر زرتشت کے ایسے مشکوک اثر کی بنا پر لاسلی نے (جس کا حوالہ پال جانٹ نے اپنی تاریخ مسائل فلسفہ جلد دوم، ص۱۴۷ میں دیا ہے) زرتشت کو ہیگل کا پیش رو خیال کیا ہے۔
گلاڈشی نے فیثاغورث اور چینی نظریات کا موازنہ کرتے ہوئے اس واقعہ پر زور دیا ہے کہ “طاق کو جفت کے اوپر جگہ دی جاتی تھی” اس کے سوا چونکہ ہم کو متخالفات میں سے نور و ظلمت اور خیر و شر کا علم ہے۔ اس لیے اکثر لوگ اس قیاس کی طرف رجحان رکھتے ہیں کہ یہ زرتشت ہی سے مستعار لیے گئے ہیں۔ (جلد اوّل، ص۳۳)
8جدید انگریزی مفکرین میں بریڈلے بھی زرتشت کے نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ بریڈلے کے فلسفہ کی اخلاقی اہمیت پر بحث کرتے ہوئے پروفیسر سورلے کہتا ہے کہ “بریڈلے بھی گرین کی طرح ایک ازلی حقیقت پر اعتماد رکھتا ہے چونکہ یہ حقیقت مادی نہیں ہے اس لیے اس کو روحانی کہا جاسکتا ہے۔ گرین کی طرح یہ انسان کی اخلاقی فعلیت کو اس ازلی حقیقت کا مظہر خیال کرتا ہے، اس کو گرین نے اعادہ سے تعبیر کیا ہے۔ اس عام مطابقت کی تہ میں زمین آسمان کا فرق پوشیدہ ہے۔ وہ شاعر الذات کی اصطلاح کو استعمال “ہستی مطلق” کو انسانی شخصیت سے مشابہ کرنا نہیں چاہتا۔ وہ اس نتیجہ کو منظر عام پر لانا چاہتا ہے جو گرین میں کم و بیش پردۂ خفا میں ہے کہ انسان اور کائنات میں شر بھی خیر کی طرح ہستی مطلق کا مظہر ہے۔ (اخلاقیات کے بعد میلانات، ص۱۰۰تا۱۰۱)
9 اس کو افلاطون کے “عدم” سے مخلوط نہ کرنا چاہیے۔ زرتشت کے نزدیک وجود کی ایسی صورتیں جو ظلمت کی تخلیقی قوت سے وجود میں آتی ہیں وہ سب غیر حقیقی ہیں، کیونکہ نور کی آخری فتح مندی پر اگر غور کیا جائے تو اُن کا وجود محض عارضی رہ جاتا ہے۔
10مذہب متھرا، زرتشتیت ہی کا ایک رُخ ہے جو دوسری صدی میں تمام دنیائے روما میں پھیل گیا تھا متھرا کے معتقدین آفتاب کی پرستش کرتے تھے، اور اُس کو نور کا ایک زبردست مظہر خیال کرتے تھے۔ وہ روحِ انسانی کو خدا کا ایک جزو سمجھتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ ایک پُراسرار عبادت کے ذریعہ سے خدا اور روح میں اتحاد ہوسکتا ہے۔ روح کا یہ نظریہ نیز ریاضت جسمانی کے ذریعہ سے بڑھنا اور بالآخر ایتھر کے دائرہ سے گذر کر آتش خالص بن جانا وغیرہ ان خیالات سے کسی قدر مشابہ ہے جو بعض ایرانی تصوف کے مکاتب میں پائے جاتے ہیں۔
11 مشرقی ایرانیوں کی تہذیب از گیگر، ص۱۲۴۔
12 ڈاکٹر ہاگ نے (مقالات، ص۲۰۶) ان حفاظت کرنے والی ارواح کا فلاطون کے تصورات سے موازنہ کیا ہے۔ تاہم اُن کے متعلق یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایسے نمونے ہیں جن کے مطابق اشیا بنائی جاتی ہیں اس کے علاوہ فلاطون کے تصورات ازلی، غیر زمانی اور غیر مکانی ہیں۔ اس نظریہ میں کہ ہر ایک شے جس کو نور کی قوت نے خلق کیا ہے۔ اُس کی نگہبانی ایک ماتحت روح کرتی ہے اور اس خیال میں کہ ہر ایک روح ایک مکمل فوق الحس نمونہ کے مطابق بنائی گئی ہے، ایک خارجی مشابہت پائی جاتی ہے۔
13 روح سے صوفیانہ تصور بھی تین پہلو رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک روح مجموعہ ہے نفس، قلب اور روح کا۔ ان کے خیال میں “قلب” مادی بھی ہے اور غیر مادی بھی، یا زیادہ صحیح معنوں میں دونوں بھی نہیں ہے، بلکہ یہ روح اور نفس کے مابین ہے، اور علم کے اعلیٰ ترین آلہ کی حیثیت سے عمل کرتا ہے۔ غالباً ڈاکٹر شنکل نے “ضمیر” کا جو لفظ استعمال کیا ہے وہ “قلب” کے صوفیانہ تصور سے قریب تر ہوجاتا ہے۔
14گیگر، جلد اوّل، ص۱۰۴۔ روح کو آسمان کی طرف سفر کرتے وقت جن مختلف منازل میں سے ہوکر گذرنا پڑتا ہے اس کے متعلق صوفیانہ کونیات میں بھی اسی قسم کا ایک نظریہ موجود ہے۔ وہ حسب ذیل پانچ عوالم کے قائل ہیں، لیکن ہر عالم کی نوعیت کے متعلق انھوں نے جو توضیح کی ہے وہ کسی قدر مختلف ہے:
(۱) عالم جسم (ناسوت)
(۲) عالم عقل خالص (ملکوت)
(۳) عالم قوت (جبروت)
(۴) عالم نفی (لاہوت)
(۵) عالم سکوت (ہاروت)
صوفیا نے غالباً یہ تصور ہندی یوگیوں سے مستعار لیا ہے۔ جن کے ہاں حسب ذیل سات عوالم تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اینی بیسنٹ، حلول، ص۳۰
(۱) مادی جسم کا عالم (ستہول شریر)
(۲) جسم نوری کا عالم (سنگ شریر)
(۳) قوت حیات کا عالم (پران)
(۴) جذبات کا عالم (کام روپ)
(۵) فکر کا عالم (من)
(۶) نفس روحانی کا عالم (عقل-بدھی)
(۷) روح خالص کا عالم (آتما)
15حسب ذیل ماخذوں سے مدد لی گئی:
(ا) محمد بن اسحاق کی کتاب مرتبہ فلوگل، ص۵۲تا۵۶
(ب) الیعقوبی مرتبہ ہوٹسما، ۱۸۸۳ئ، ص۱۸۰تا۱۸۱
(ج) ابن حزم کی کتاب الملل والنحل مطبوعہ قاہرہ، جلد دوم، ص۳۶
(د) شہرستانی مرتبہ کیورٹین، لندن، ۱۸۴۶ئ، ص۱۸۸تا۱۹۲
(ھ) انسائی کلو پیڈیا برٹانیکا، مضمون مانی
Saleman: Bulletinde
Luccade'mic de Science de. It Petersberg series IV 15 April, 1907, pp175-184
F.W.K. Mutter: Hands Chriften, Reste in
Estrangelo. Schriftan ans Turfan, Chinesisch, Turkistan, Teil, I,II
Sitzungen des Koniglich Prenssischen
Akademic der wissenschaften, 11 Feb 1904, pp.348-352, and Abhandlungen
16حسب ذیل ماخذون سے مدد لی گئی:
(ا) سیاست نامہ نظام الملک مرتبہ چارلس شیفر، پیرس ۱۸۹۷ئ، ص۱۸۸تا ۱۹۹۔
(ب) شہرستانی، مرتبہ کیورٹین، ص۱۹۲تا۱۹۴۔
(ج) الیعقوبی مرتبہ ہوٹسما، ۱۸۸۳ئ، جلد اوّل، ص۱۸۶۔
(د) البیرونی، تاریخ اقوام قدیم، مترجم ای سقاد، لندن ۱۸۷۹ئ، ص۱۹۲۔
17اگر صحیح طور پر نظر ڈالی جاعے تو ۴۰۰ء کے پانچ مختلف تصورات کو متمائز کیا جاسکتا ہے۔ پہلا تصور تو مانوی ہے۔ جو اپنا راستہ ظلمت میں تلاش کرتا تھا لیکن یہ پیشوایان مذہب میں بھی پھیل گیا تھا (مسیحی عقائد کی تاریخ از ہارناک، جلد پنجم، ص۵۶) مانویت کے خلاف معرکہ آرائیوں سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ خدا کی تمام صفات کو ایک دوسرے کے مماثل سمجھنا چاہیے۔
18مانی کے فلسفہ سے متعلق بعض مشرقی ماخذوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک شامی اوری Bardesessanes کا شاگرد تھا۔ (یعنی Ephariam Syrus جس کا ذکر پروفیسر اے، اے بیوان نے اپنی کتاب نغمۂ روح کے دیباچہ میں کیا ہے) الفہرست کے فاضل مصنف نے چند کتابوں کا زکر کیا ہے جن کو مانی نے اس شامی اوری کے مقلدین کے خلاف تصنیف کیا تھا برکٹ نے “ابتدائی مشرقی مسیحیت” پر اپنے خطبات میں Bardesanes کی کتاب De Fato کا آزاد ترجمہ پیش کیا ہے، جس کی نوعیت میرے خیال میں بالکل مسیحی ہے، اور سرے سے مانی کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
ابن حزم اپنی کتاب الملل والنحل میں (جلد دوم، ص۳۶) کہتا ہے کہ “اس بات کے سوا کہ مانی ظلمت کو ایک زندہ طاقت یقین کرتا تھا اور دوسری باتوں میں دونوں متفق ہیں۔”
19مانی کے فلسفۂ فطرت اور چینیوں کے نظریۂ تخلیق کا موازنہ بہت ہی دلچسپ ہے، جن کے نزدیک جو کچھ موجود ہے وہ “ان” اور “یاں” کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ لیکن چینیوں نے ان دونوں قوتوں کو ایک اعلیٰ وحدت “ٹائی کیہہ” میں تحویل کردیا۔ مانی کے لیے ایسی تحویل ممکن نہ تھی کیونکہ وہ اس بات کا تعقل نہ کرسکا کہ متضاد نوعیت کی اشیا ایک ہی قوت سے صادر ہوسکتی ہیں۔
20تھامس اکوئنس نے مانی کے ابتدائی عوامل کے تبائن کو حسب ذیل طریقہ سے بیان کرکے اس پر تنقید کی ہے:
(ا) تمام اشیا کو جس بات کی تلاش ہے قوت شر کو بھی اُسی کی تلاش ہے۔
لیکن تمام اشیا صیانت ذات کی متلاشی ہیں۔
قوت شر بھی صیانت ذات کی متلاشی ہے
(ب) تمام اشیا جس بات کی تلاش کرتی ہیں وہ خیر ہے۔
صیانت ذات ہی کی تمام اشیا کو تلاش ہے۔
صیانت ذات خیر ہے۔
لیکن قوت شر خود اپنی صیانت ذات کی تلاش کرے گی۔
قوت شر کسی خیر کی تلاش کرے گی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ متناقض بالذات ہے۔
خدا اور اُس کی مخلوق، جلد دوم، ص۱۰ مترجم ری کیبی۔
21زروانی نظریہ ایران میں پانچویں صدی ق-م میں رائج تھا۔

<<پچھلا  اگلا>>

باب اوّل ایرانی ثنویت

باب اوّل
ایرانی ثنویت


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان