www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

تجدیدِ فکریاتِ اسلام

تجدیدِ فکریاتِ اسلام

مندرجات

ابتدائیہ
علم اور مذہبی مشاہدہ
مذہبی واردات کے انکشافات کا...
خدا کا تصور اور دُعا کا مفہوم
انسانی خودی اس کی آزادی اور...
مسلم ثقافت کی روح
اسلام میں حرکت کا اُصول
کیا مذہب کا امکان ہے؟
حواشی و حوالہ جات
Quranic Index


دیگر زبانیں

علم اور مذہبی مشاہدہ

"یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ مذہب نے سائنس سے پہلے ٹھوس تجربے کی ضرورت پر زور دیا ۔ دراصل مذہب اور سائنس میں یہ تنازعہ نہیں کہ ایک ٹھوس تجربے پر قائم ہے اور دوسرا نہیں۔ شروع میں دونوں کا تجربہ ٹھوس ہوتا ہے۔ ان دونوں کے مابین تنازعہ غلط فہمی ہے کہ دونوں ایک ہی تجربے کی تعبیر و تشریح کرتے ہیں مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ مذہب کا مقصد انسانی محسوسات و تجربات کی ایک خاص طرز کی کہنہ تک رسائی حاصل کرنا ہے"

اقبال

ہم جس کائنات میں رہتے ہیں 'اس کی خاصیت اور ماہیت کیا ہے' کیا اس کی بناوٹ میں کوئی مستقل عنصر موجود ہے؟

اس سے ہمارا تعلق کس طرح کا ہے؟
کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے؟
اور

ہم کس قسم کا رویہ اختیار کریں کہ جو کائنات میں ہمارے مقام سے مناسبت رکھتا ہو؟

یہ سوالات مذہب' فلسفے اوراعلیٰ شاعری میں مشترک ہیں لیکن جس طرح کا علم ہمیں شاعرانہ وجدان سے حاصل ہوتا ہے، وہ اپنے خواص میں لازمی طور پرانفرادی، تمثیلی، غیر واضح اور مبہم ہوتا ہے۔ مذہب اپنی ترقی یافتہ صورتوں میں خود کو شاعری سے بلند تر منصب پرفائز رکھتا ہے۔ اس کا میلان فرد سے معاشرے کی طرف ہوتا ہے۔ حقیقت مطلقہ کے بارے میں اس کا انداز نظر انسانی تحدیدات سے ترفع کرتے ہوئے حقیقت مطلقہ کے براہ راست مشاہدے تک اپنے دعووں کو بڑھاتا ہے۔اب یہ سوال بڑا اہم ہے کہ کیا فلسفے کے خالص عقلی طریق کا اطلاق مذہب پر کیا جا سکتا ہے۔ فلسفے کی روح آزادانہ تحقیق ہے۔ وہ ہر حکم اور دعوے پر شک کرتا ہے۔ یہ اس کا وظیفہ ہے کہ وہ انسانی فکر کے بلا تنقید قبول کئے گئے مفروضات کے چھپے ہوئے گوشوں کا سراغ لگائے--- اس تجسس کا بالآخر انجام چاہے انکار میں ہو یا اس برملا اعتراف میں کہ عقلِ خالص کی حقیقت مطلقہ تک رسائی ممکن نہیں۔ دوسری طرف مذہب کا جو ہر ایمان ہے اور ایمان اس پرندے کی مانند ہے جو اپنا انجانا راستہ عقل کی مدد کے بغیر پالیتا ہے۔ اسلام کے ایک بہت بڑے صوفی کے الفاظ میں عقل تو انسان کے دل زندہ میں گھات لگائے رہتی ہے تاکہ وہ زندگی کی اس ان دیکھی دولت کو لوٹ لے جو اس کے اندر و دیعت کی گئی ہے۔۱؎ تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایمان احساس محض سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس میں کسی حد تک وقوف کا عنصر بھی موجود ہوتا ہے۔ تاریخ مذہب میں مدرسی اور صوفیانہ، دو متخالف مکاتب کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مذہب میں فکر ایک اہم عنصر کی حیثیت سے موجود ہے۔ یوں بھی مذہب، اپنے اعتقادات میں، جیساکہ پروفیسر وائیٹ ہیڈ نے تشریح کی ہے،عام حقائق کا ایک ایسا نظام ہے جسے اگر خلوص کے ساتھ قبول کیا جائے اور انہماک کے ساتھ اپنایا جائے تو یہ انسانی سیرت و کردارکو بدل سکتا ہے۔ ۲؎ اب چونکہ مذہب کا بنیادی نصب العین انسان کی باطنی اور ظاہری زندگی کوبدلنا اور اس کی رہنمائی کرنا ہے تو یہ لازم ہے کہ مذہب کی تشکیل کرنے والے عام حقائق بے تصفیہ نہ رہ جائیں۔ہم اپنے اعمال کی بنیاد کسی مشتبہ اصول پر نہیں رکھ سکتے۔ یقینی طور پر اپنے وظیفے کے اعتبار سے مذہب اپنے حتمی اصولوں کے لئے عقلی اساس کا زیادہ ضرورت مند ہے اوراس کی یہ ضرورت سائنسی معتقدات کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ سائنس ایک عقلی مابعد الطبیعیات کو نظر انداز کر سکتی ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ ماضی میں اس نے ایسا کیا بھی ہے۔تاہم مذہب کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ مخالف و مختلف تجربات کے مابین توافق کی تلاش نہ کرے اور اس ماحول کا جواز تلاش نہ کرے جس میں نوع انسانی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر وائیٹ ہیڈ کی یہ بات صائب نظر آتی ہے کہ ایمان کے تمام عہد عقلیت کے عہد ہیں ۳؎ مگر ایمان کی عقلی توجیہہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ہم مذہب پر فلسفے کی برتری کو تسلیم کر لیں۔ فلسفہ بلا شبہ مذہب کا جائزہ لے سکتا ہے مگر جس کا جائزہ لیا جانا ہے اس کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ خود اپنی متعین کردہ شرائط پر ہی فلسفے کا یہ حق تسلیم کر سکتا ہے۔مذہب کا تجزیہ کرتے وقت فلسفہ، مذہب کو اپنے دائرہ بحث میں کم تر مقام پر نہیں رکھ سکتا۔ مذہب کسی ایک شعبے تک محدود نہیں یہ نری فکر نہیں ہے۔یہ نرا احساس بھی نہیں اور نہ محض عمل، یہ پورے انسان کا پورا ظہار ہے۔ لہٰذا مذہب کی قدر کا تعین کرتے وقت فلسفے کولازمی طور پر اس کی مرکزی حیثیت پیش نظر رکھنی چاہئے۔ فکر کے ترکیبی عمل میں اس کی مرکزیت کے اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اور اس کی بھی کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ فرض کر لیں کہ فکر اور وجدان (وحی) لازمی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ ایک ہی جڑ سے پھوٹتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایک حقیقت کو جزوی طور پردیکھتا ہے اور دوسرا اس کا کلی لحاظ سے مشاہدہ کرتا ہے۔ ایک حقیقت کا لازمانی اور دوسرا زمانی پہلو پیش نظر رکھتا ہے۔ ایک حقیقت کی کلّیت سے براہ راست شاد کام ہوتا ہے، جبکہ دوسرے کا مطمح نظریہ ہے کہ وہ مخصوص مشاہدے کے لئے کلّیت کے مختلف شعبوں میں آہستگی سے ارتکاز اور تخصیص کرتے ہوئے اس کا ادراک حاصل کرے۔ دونوں تازگی اور باہمی طور پر تجدید قوت کے لئے ایک دوسرے کے ضرورت مند ہیں۔ دونوںایک ہی حقیقت کے متلاشی ہیں جو حیات میں ان کے اپنے کرداروں کے حوالے سے اپنا القاء ان پر کرتی ہے۔ درحقیقت، جیسا کہ برگساں نے درست طور پر کہا، وجدان عقل ہی کی ایک برتر صورت ہے۔ ۴؎

کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کی عقلی بنیادوں کی تلاش کا آغاز حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تو اتر سے یہ دُعا فرمایا کرتے تھے "اﷲ! مجھے اشیاء کی اصل حقیقت کا علم عطا فرمایا۔" ۵؎ آپؐ کے بعد صوفیا اور غیر صوفی متکلمین نے اس ضمن میں جو کام کیا وہ ہماری تاریخ ثقافت کا ایک روشن باب ہے کیونکہ اس سے ان کی افکار کے نظام سے دلچسپی ظاہر ہوتی ہے جو سچائی سے ان کی دلی یگانگت کی آئینہ دار ہے۔ اس سے ان زمانی تحدیدات کا بھی پتہ چلتا ہے جن کی بنا پر اسلام میں ظہور پذیر ہونے والے مختلف الٰہیاتی مکاتب فکر اتنے بار آور نہ ہو سکے جتنے کسی اور عہد میں ہوتے۔ جیساکہ ہم سب جانتے ہیں، تاریخ اسلام میں یونانی فلسفہ ایک زبردست ثقافتی قوت رہا ہے۔ قرآن کے محتاط مطالعے اور ان مختلف مدرسی مکاتب، جو یونانی فکر سے متاثر ہوئے،کی الٰہیات کے تجزیے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اگرچہ فلسفہ یونان نے مسلمانوں کے اندر فکر میں بڑی وسعت پیدا کر دی تھی قرآن کے بارے میں مجموعی طورپر مسلم مفکرین کی سوچ کو یونانی فکر نے متاثر کرتے ہوئے دھندلادیا۔ سقراط نے انسانی دنیا پر ہی اپنی توجہ مرتکز رکھی۔ اس کے نزدیک انسان کے مطالعے کا موضوع خود انسان ہے۔ یہ کرئہ ارض، حشرات زمینی اور ستارے وغیرہ اس کے مطالعے کا موضوع نہیں ہیں۔بظاہریہ قرآن کی تعلیم کے کس قدرمنافی ہے جو کہتا ہے کہ شہد کی معمولی مکھی کو بھی وحی ہوتی ہے۔ ۶؎ قرآن نے اپنے قاری کو دعوت دی ہے کہ وہ ہوائوں کے تغیر و تبدل، دن اور رات کی گردش، بادلوں کی آمدورفت ۷؎ اور تاروں بھرے آسمان کا مطالعہ کرے ۸؎ اور ان سیاروں کا جو فضائے بسیط میں تیر رہے ہیں۔ ۹؎ سقراط کے ایک سچے شاگرد کی حیثیت سے افلاطون نے بھی حواسی ادراک کو بہ نظر تحقیر دیکھا جو اس کے خیال میں حقیقی علم کے بجائے محض ایک رائے کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ ۱۰؎ قرآن اس نقطہ نظر کوکس طرح پسند کرسکتا ہے جو سماعت اور بصارت کو خدا کے قابل قدر دو تحفے قرار دیتا ہے۱۱؎ اور انہیں دنیا میں اپنی کارکردگی کے اعتبار سے خدا کے سامنے جوابدہ ٹھہراتا ہے۔ ۱۲؎ یہ اہم نکات تھے جو دور اول کے مسلم مفکرین اور قرآن کے طالب علم کی نظروں سے چوک گئے اور اس کی وجہ کلاسیکی انداز فکر میں ان کا الجھ جانا تھا۔ انہوں نے قرآن کا مطالعہ یونانی فلسفے کی روشنی میں کیا۔ کوئی دو سوسال کے عرصے میں انہیں کچھ کچھ سمجھ میں آیا کہ قرآن کی روح یونانی کلاسیکی فکر سے لازمی طور پر مختلف ہے۔ ۱۳؎ اس ادراک کے نتیجے میں ایک ذہنی بغاوت نے جنم لیا، اگرچہ آج تک اس فکری انقلاب کی مکمل معنی خیزی مسلمان مفکرین پر منکشف نہیں ہوسکی۔ جزوی طور پر کچھ اس فکری انقلاب کی وجہ سے اور کچھ اپنے ذاتی حالات کی بنا پر امام غزالی ؒنے مذہب کی اساس فلسفیانہ تشکیک پر رکھی جو مذہب کے لئے ایک غیر محفوظ بنیاد ہے اور جسے قرآن کی روح کے مطابق کہنے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ امام غزالیؒ کے سب سے بڑے حریف ابن رشد ، جو ارسطو کا پیرو تھا اور جس نے اس فکری بغاوت کے بالمقابل یونانی فلسفے کا دفاع کیا، نے عقل فعال کی بقاء دوام کا نظریہ پیش کیا ۱۴؎ جس نے فرانس اور اٹلی کی فکری زندگی پر گہرے نقوش مرتب کئے ۱۵؎ مگر جو میرے خیال میں انسانی خودی کی منزل مقصود او ر قدر کے بارے میں قرآن کے تصورات کے بالکل خلاف ہے۔ ۱۶؎ یوں ابن رشد اسلام میں ایک عظیم اور بار آور خیال کی بصیرت کھو بیٹھا۔ اس طرح نادانستہ طور پر اس نے ایک ضعیف القوت فلسفہ حیات کو ترقی دینے میں مدد کی جو انسانی بصیرت کو خود انسان کے بارے میں اور خدا اور کائنات کے متعلق دھندلا دیتا ہے۔ اشاعرہ میں کچھ تعمیری سوچ رکھنے والے مفکرین ضرور پیدا ہوئے جنہوں نے بلا شبہ درست راہ پر چلتے ہوئے مثالیت کی جدید تر صورتوں کی راہ ہموار کی تاہم مجموعی طور پر ان کی تحریک کا بنیادی مقصد یونانی جدلیت کے ہتھیاروں سے اعتقادات کا دفاع تھا۔ معتزلہ نے مذہب کو محض عقائدکا ایک نظام تصور کیااور اسے ایک زندہ اور زور دار حقیقت کے طور پر نظر انداز کیا۔ یوں انہوں نے حقیقت تک رسائی کے ماورائے عقل رویوں کو نظر انداز کیا اور مذہب کو محض منطقی تصورات کے ایک نظام میں محدود کر دیا جس کاانجام ایک خالصۃً منفی نقطہ نظر کی صورت میں سامنے آیا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ علم کی دنیا میں، خواہ یہ سائنسی ہو یا مذہبی، فکر کو ٹھوس تجربے سے آزاد قرار دینا ممکن نہیں۔

تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ غزالیؒ کا مشن کانٹ کی طرح پیغمبرانہ تھا جو موخرالذکر نے اٹھارہویں صدی کے جرمنی میں اپنایا۔ جرمنی میں عقلیت کا مذہب کی حلیف کے طور پر ظہور ہوا مگراسے جلد ہی احساس ہوگیا کہ مذہب کا اعتقادی پہلو دلیل و برہان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کا صرف ایک ہی حل تھا کہ عقیدے کو مذہب کی مقدس دستاویز سے الگ کر دیا جائے۔ مذہب سے عقیدے کو ہٹا دینے سے اخلاق کا افادی پہلو سامنے آیا اور یوں عقلیت نے لادینیت کی فرمانروائی کو مستحکم کر دیا۔ جرمنی میں کانٹ کی پیدائش کے وقت الٰہیات کا کچھ ایسا ہی حال تھا۔ اس کی کتاب "تنقید عقل محض" نے جب انسانی عقل کی تحدیدات کی وضاحت کی تو عقلیت پسندوں کا تمام کام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ لہٰذا کانٹ کو جرمنی کے لئے بجا طور پر خدا کا عظیم ترین عطیہ قرار دیا گیا ہے۔ غزالیؒ کی فلسفیانہ تشکیک نے بھی، جو کانٹ کے انداز فکر سے کسی قدر بڑھ کر تھی، دنیائے اسلام میں تقریباً اسی قسم کے نتائج پیدا کئے۔ اس نے بھی اس بلند بانگ لیکن تنگ نظر عقلیت پسندی کی کمر توڑ دی جس کا رجحان اسی جانب تھا جس طرف کانٹ سے پہلے جرمنی میں عقلیت پسندی کا تھا، تاہم غزالی اور کانٹ میں ایک بنیادی فرق ہے۔ کانٹ اپنے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے خدا کے بارے میں علم کے امکان کی توثیق نہ کر سکاجبکہ غزالی نے تجزیاتی فکر میں اس کی امید نہ پا کر صوفیانہ تجربے کی طرف رجوع کیا اور یوں مذہب کے لئے ایک الگ دائرہ کار دریافت کر لیا۔ نتیجتًہاس نے سائنس اور مابعد الطبیعیات سے الگ خود مکتفی حیثیت میں مذہب کے زندہ رہنے کے حق کو دریافت کر لینے میں کامیابی حاصل کر لی۔ تاہم صوفیانہ مشاہدے میں لامتناہی کل کی معرفت نے اسے فکر کی متناہیت اور نارسائی کا یقین دلا دیا۔ لہٰذا اس نے وجدان اور فکر کے درمیان ایک خط فاصل کھینچ دیا۔ وہ یہ جاننے میں ناکام رہا کہ فکر اور وجدان عضویاتی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور فکر متناہی اور غیر قطعی محض اس بنا پر نظرآتا ہے کہ وہ زمان متسلسل سے وابستہ ہے۔ یہ خیال کہ فکر لازمی طور پرمتناہی ہے لہٰذا اسی وجہ سے وہ لامتناہی کو نہیںپا سکتا، علم میں فکر کے کردار کے بارے میں غلط تصور پر قائم ہے۔منطقی فہم میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ باہم دگر متزاحم انفرادیتوں کی کثرت کو ایک قطعی منضبط وحدت میں تحویل کر سکے۔ یوں فکر کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں ہم تشکیک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت منطقی فہم اس قابل نہیں کہ وہ اس کثرت کو ایک مربوط اور منضبط کائنات کی حیثیت سے سمجھ سکے۔ اس کے پاس صرف ایک تعمیم ہی کا طریقہ ہے جو اشیاء کی مشابہتوں پر اپنا انحصار رکھتا ہے۔ مگر اس کی تعمیمات محض فرضی اکائیاں ہیں جو محسوس اشیاء کی حقیقت کومتاثر نہیں کرتیں۔ تاہم اپنی گہری حرکت میں فکر اس لائق ہے کہ لامتناہی کے بطون تک رسائی پا سکے جس کے اظہار کے دوران میں مختلف متناہی تصورات محض آنات ہیں۔ اپنی بنیادی فطرت میں فکر ساکن نہیں ہے، متحرک ہے۔ اور اگر زمانے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو فکر اپنی اندرونی لامتناہیت میں اس بیج کی طرح ہے جس میں درخت کی عضویاتی وحدت ابتداہی سے ایک حقیقت کے طور پر موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا فکراپنا بھرپور اظہار کلی طور پر کرتا ہے جو زمانی انداز سے قطعی تخصیصات کے ساتھ سامنے آتا ہے جنہیں دو طرفہ حوالے ہی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے معانی، ان کی اپنی ذات میں نہیں بلکہ اس وسیع ترکل میں ہیں جس کے وہ مخصوص پہلو ہیں۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں اس کل کو "لوح محفوظ" کہا جا سکتا ہے۔۱۷؎ اسی لوح محفوظ میں علم کے تمام غیر متعین امکانات ایک حاضر حقیقت کی طرح موجود ہیں۔ یہ کل خود کوزمان مسلسل میں متناہی تصورات کے تواتر میں ظاہر کرتا ہے جو ایک ایسی وحدت کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں جو پہلے ہی سے ان میں موجود ہے۔ در حقیقت علم کی حرکت میں مکمل لامتناہی کا ہونا ہی متناہی سوچ کو ممکن کرتا ہے ۔ کانٹ اور غزالی دونوں یہ نہ جان سکے کہ فکر، حصول علم کے دوران اپنی متناہیت سے تجاوز کر جاتا ہے۔ فطرت کے متناہی اجزا تو باہم دگر منفرد ہیں، مگر فکر کے متناہی اجزا کی صورت ایسی نہیں۔ یہ اپنی اصل ماہیت میں اپنی انفرادیت کے تنگ دائرے کے پابند نہیں۔ اپنے سے ماورا وسیع دنیا میں ان سے مغائر کچھ نہیں، بلکہ اس بظاہر مغائر زندگی میں سرگرمی سے فکر اپنی متناہی حدود کو توڑ کر اپنی بالقوۃ لامتناہیت سے شاد کام ہوتا ہے۔ حرکت فکر صرف اسی بناپر ممکن ہے کہ اس کی متناہیت میں لامتناہیت مضمر ہے۔ یہی امرلامتناہی فکر کے اندر شعلہ آرزو کو زندہ رکھتا ہے اور بے پایاں جستجو میں اسے سہارا مہیا کرتا ہے۔ فکر کو نارسا تصور کرنا غلط ہے کیونکہ یہ اپنے انداز میں متناہی کے لامتناہی سے ہم کنار ہو جانے کے مترادف ہے۔

گزشتہ پانچ سو برسوں سے اسلامی فکر عملی طور پر ساکت و جامد چلی آرہی ہے۔ ایک وقت تھا جب مغربی فکر اسلامی دنیا سے روشنی اور تحریک پاتاتھا۔ تاریخ کا یہ عجب طرفہ تماشا ہے کہ اب دنیائے اسلام ذہنی طور پرنہایت تیزی سے مغرب کی طرف بڑھ رہی ہے، گویہ بات اتنی معیوب نہیں کیونکہ جہاں تک یورپی ثقافت کے فکری پہلو کا تعلق ہے، یہ اسلام ہی کے چند نہایت اہم ثقافتی پہلوئوں کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ ڈر ہے تو صرف یہ کہ یورپی ثقافت کی ظاہری چمک کہیں ہماری اس پیش قدمی میں حارج نہ ہو جائے اور ہم اس ثقافت کی اصل روح تک رسائی میں ناکام نہ ہو جائیں۔ ہماری ذہنی غفلت کی ان کئی صدیوں میں یورپ نے ان اہم مسائل پر پوری سنجیدگی سے سوچا ہے جن سے مسلمان فلاسفہ اور سائنس دانوں کو گہری دلچسپی رہی تھی۔ ازمنہ وسطیٰ سے لے کر اس وقت تک جب مسلمانوں کی الٰہیات کی تکمیل ہوئی، انسانی فکر اور تجربے میں فروغ کا عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہا ہے۔ ماحول اور کائنات پر اختیار اور فطرت کی قوتوں پر برتری نے انسان کو ایک نئے اعتماد سے سرشار کیا ہے۔ نئے نئے نقطئہ ہائے نظر وجود میں آئے ہیں۔ نت نئے تجربات کی روشنی میں پرانے مسائل کو نئے انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ کئی نئے مسائل نے جنم لیاہے۔ یوں نظر آتا ہے جیسے انسانی عقل، زمان و مکان اور علت و معلول کی خود اپنی حدود پھلانگنے کو ہے۔ سائنسی فکر کی ترقی کے ساتھ علم و ادراک کے ہمارے تصور میں بھی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے ۔۱۸؎ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے کائنات کے بارے میں نیا رویہ سامنے آیا ہے اور یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ مذہب اور فلسفے کے درمیان مشترک مسائل پر نئے زاویوں سے غور کیا جائے۔ اب اگر ایشیاء اور افریقہ میں مسلمانوں کی نوجوان نسل اسلام کی نئی تعبیر چاہتی ہے تو یہ کوئی زیادہ تعجب خیز بات نہیں۔تاہم مسلمانوں کی بیداری کے اس عہد میں ہمیں آزادانہ طور پر یہ تجزیہ کرنا چاہئے کہ یورپ نے کیا سوچا ہے اور جن نتائج تک وہ پہنچا ہے ان سے ہمیں اسلام کی الٰہیاتی فکر پر نظرثانی کرنے یا اگر ضروری ہو تو اس کی تشکیل نو کرنے میں کیا مدد مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے یہ بھی ممکن نہیںکہ ہم مذہب، خصوصاً اسلام، کے خلاف وسط ایشیا ( سابقہ اشتراکی روس، جو اب آزاد مسلم ریاستوں میں تبدیل ہو چکا ہے) کے پراپیگنڈے کو نظر انداز کریں جس کی لہر پہلے ہی برصغیر تک آپہنچی ہے۔ اس تحریک کے چند داعی مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے جن میں سے ایک ترک شاعر توفیق فکرت ہے جو کچھ ہی عرصہ قبل فوت ہواہے۔ ۱۹؎ اس نے تو ہمارے عظیم فلسفی شاعر مرزا عبد القادر بیدل اکبر آبادی کی فکر کو اس دعوت کی تائید میں استعمال کیا۔یقینی طور پر یہ مناسب وقت ہے کہ اسلام کی اساسیات کا جائزہ لیا جائے۔ ان خطبات میں اسلام کے چند بنیادی تصورات پر میں نے فلسفیانہ پہلو سے بحث کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ نوع انسانی کے لئے ایک عالم گیر پیغام حیات کے طور پر یہ اسلام کی تفہیم میں معاون ہوں گے۔ میرے پیش نظر یہ بھی ہے کہ اسلام کے ان اساسی تصورات کے بارے میں ہونے والے آئندہ کے مباحث کے لئے بھی رخ متعین کروں۔چنانچہ اس ابتدائی خطبے میں، میں علم اور مذہبی مشاہدے کی نوعیت کے بارے میں خیالات پیش کروں گا۔

قرآن حکیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ خدا اور کائنات سے انسان کے مختلف الجہات روابط کا بلند تر شعور اجاگر کرے۔ قرآنی تعلیمات کے اس اساسی پہلو کے پیش نظر ہی گوئٹے نے، اسلام پر بحیثیت ایک تعلیمی قوت کے بات کرتے ہوئے ایکرمن سے کہا تھا "دیکھو! یہ تعلیم کبھی نامراد نہیں ٹھہرے گی۔ہمارا کوئی نظام بلکہ کوئی بھی انسان اس سے آگے نہیںجاسکے گا۔" ۲۰؎ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا مسئلہ مذہب اور تہذیب کی دو قوتوں کا پیدا کردہ ہے جو باہم کھچائو اور ساتھ ہی آپس میںلگائو رکھنے والی ہیں۔ اسی طرح کا مسئلہ مسیحیت کو بھی ابتدائی دور میں درپیش تھا۔ مسیحیت کا بنیادی سوال یہ تھا کہ روحانی زندگی کے لئے کسی ایسے مستقل اساسی جوہر کو تلاش کیا جائے جو حضرت مسیح ؑکی بصیرت کے مطابق بیرونی دنیا کی قوتوں کا آفریدہ نہیں بلکہ خود انسان کے اندر روح کے اپنے انکشافات سے عبارت ہے۔ اسلام کواس بصیرت سے پورا اتفاق ہے مگر وہ اس میں اس قدر اضافہ کرتا ہے کہ اس نئے عالم کی دریافت عالم مادی سے بیگانہ نہیں بلکہ اس کے رگ و پے میں جاری و ساری ہے۔

پس عیسائیت، جس روح کی بحالی کی خواہاں ہے وہ بیرونی قوتوں کے انکار سے ممکن نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی روحانیت سے منور ہیں۔ اس کے لئے ہمیں اندر سے حاصل کردہ روشنی میں ان قوتوں کے اپنے روابط کو مناسب طور پر استوار کرنا ہو گا۔ عینیت کا پراسرار لمس ہی حقیقت کو زندگی عطا کرتا ہے اور اسے قائم رکھتا ہے اور اسی کے ذریعے عین کی یافت اور تصدیق ممکن ہے۔ اسلام میں عین اور حقیقت' دو غیر تطابق پذیر مخالف قوتیں نہیں۔ عین کی حیثیت کا انحصار حقیقت سے مکمل لاتعلقی پر نہیں کیونکہ اس سے زندگی کی عضوی کلیت اذیت ناک اضداد میں بٹ جائے گی۔ بلکہ اس کا مدار حقیقت کے عین کے اندر پیہم انجذاب و ادغام میں ہے تاکہ اس کا وجود کلّی عینیت سے مستنیر ہو سکے۔ موضوع اور معروض' ریاضیاتی خارج اور حیاتیاتی باطن میں موجود اس اختلاف نے عیسائیت کو متاثر کیا۔ مگر اسلام نے اس کو زیر کرنے کے لئے اس کا سامنا کیا۔ آج کی صورت حال میں انسانی مسئلے سے متعلق بنیادی رویے کے تعین کے بارے میں ان دو بڑے مذاہب کے نقطۂ نظر میں یہی بنیادی فرق ہے۔ دونوں انسان کے نفس روحانی کا اثبات چاہتے ہیں' مگر اسلام کے نقطۂ نظر میں صرف اس قدر فرق ہے کہ وہ عین اور حقیقت کے باہمی تعلق کی بناء پر مادی دنیا سے انسانی تعلق کا اثبات کرتا ہے۲۱؎ اور اس کی تسخیر کے راستے کی نشاندہی کرتا ہے جس پر چل کر ہم زندگی کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار کر سکیں۔

قرآن کی نظر میں اس کائنات کی ماہیت کیا ہے' جس میں ہم رہتے ہیں؟
اولاً یہ کہ کائنات کی تخلیق کھیل تماشا نہیں:

وَمَاخَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَo مَا خَلَقْنٰھُمَآاِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَo (۳۹-۳۸:۴۴) ۲۲؎

"ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر جو کچھ ہے' محض کھیل تماشا کے طور پر تخلیق نہیں کیا۔ ہم نے ان کو ایک نہایت سنجیدہ مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر زیادہ تر لوگ اس کا شعور نہیں رکھتے۔"

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف ناگزیر ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہٰارِ لَأَیٰاتِ لِأُ وْلِی الْأَلْبَابِ o اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَیٰ جُنُوبِھِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالَأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھَذَا بَاطِلاً (۱۹۱- ۱۹۰:۳)

"بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں بڑی نشانیاں ہیں" اہل عقل کے لیے: وہ عقل مند جو یاد کرتے رہتے ہیں اﷲ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوئوں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور (تسلیم کرتے ہیں:) اے ہمارے مالک! نہیں پیدا فرمایا تونے یہ (کار خانہ ٔحیات) بے کار۔" کائنات کی ترکیب میں اب بھی وسعت کی گنجائش ہے: یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَایَشَآئُ (۱:۳۵)

"وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے' اضافہ کرتا ہے۔" ۲۳؎
کائنات کوئی جامد شے نہیں___ ایک تکمیل شدہ چیز___ جس میں کہ کسی تبدیلی یا تغیر کی گنجائش نہ ہو__ بلکہ شاید اس کے اندرون میں تو آفرنیش نو خوابیدہ ہے:
قُلْ سِیرُواْفِی الْأَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثَمَّ اﷲُیُنْشِیُٔ النَّشْأَۃَالْأَخِرَۃَ
(۲۰:۲۹)

"ان سے کہو کہ وہ زمین کی سیر کریں اور دیکھیں کہ خدا نے کس طرح اشیاء خلق کی ہیں۔ اس کے بعد بھی خدا انہیں دوبارہ پیدا کرے گا۔"

حقیقت تو یہ ہے کہ کائنات کی یہ پراسرار جنبش و حرکت' دن اور رات کے آنے جانے میں نظر آنے والے وقت کا یہ بے آواز سلسلہ' خود قرآن حکیم کے نزدیک اﷲ کی عظیم ترین نشانیوں میں سے ہے:

یُقَلِّبُ اﷲُالَّیْلَ وَالنَّھَارَإِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃً لِأُوْلِی الْأَبْصَارِ (۴۴:۲۴)
"خدا دن کو رات میں اور رات کو دن میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔ اس میں دیکھنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔"

یہی وجہ ہے کہ حضورؐ نے فرمایا "زمانے کو بُرا مت کہو کیونکہ زمانہ تو خود خدا ہے۔"۲۴؎ زمان و مکان کی یہ فراخی انسان کے سامنے مسخر ہونے کے لیے سرافگندہ ہے۔اب یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ خدا کی ان نشانیوں کو سمجھے اور ایسے ذرائع ڈھونڈ نکالے جن کی بدولت وہ کائنات کو حقیقتاً مسخر کر لے:

أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اﷲَ سَخَّرَ لَکُْم مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہُ ظَاہِرَۃً وَبَاطِنَۃً (۳۱:۲۰)

"کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ آسمانوں میںہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور عام کردی ہیں اس نے تم پر ہر قسم کی نعمتیں ' ظاہری بھی اور باطنی بھی۔"

وَسَخَّرَ لَکُمْ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرَاتُ بِأَمْرِہِ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَأَیٰاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُوْنَ (۱۲:۱۶)

" اور اﷲ تعالیٰ نے مسخر فرما دیا تمہارے لیے رات' دن' سورج اور چاند کو' اور تمام ستارے بھی اس کے حکم کے پابند ہیں۔ بے شک ان تمام چیزوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو دانشمند ہے۔"

کائنات کی اس نوعیت کے پیش نظر جس نے انسان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے' خود انسان کی اپنی حقیقت کیا ہے؟ متوازن اہلیتیں رکھنے کے باوجود بھی وہ زندگی کے درجات میں خود کو بہت کمتر پاتا ہے۔ اسے ہر طرف سے رکاوٹوں کا سامنا ہے:

لَقَدْخَلَقْنَالإِْنْسَانَ فِیٓ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍo ثُمّ رَدَدْنٰہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَo (۴:۹۵)
"ہم نے انسان کو اعلیٰ صورت پر پیدا کیا۔ پھر اسے پستیوں میں لڑھکا دیا۔"

ہم انسان کو اس ماحول میں کیسا دیکھتے ہیں؟ وہ ایک ایسی بے سکون روح ہے جو اپنے مدعا کو پانے لیے ہر شے کو بھول جاتی ہے۲۵؎ اور اپنے اظہار کے لیے نئے نئے موقعوں کی تلاش میں ہر دکھ درد سہہ جاتی ہے۔ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوصف وہ فطرت پر برتری رکھتا ہے۔ وہ ایک بارِ امانت کا امین ہے جسے قرآن کے الفاظ میں آسمانوں' زمین اور پہاڑوں نے اٹھانے سے معذوری ظاہر کردی تھی:

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَۃَعَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ أَن یَحْمِلْنَھَا وَأَشْفَقْنَ مِنْھَاوَحَمَلَھَا الإِْنْسَانُ إِنَّہُ کَانَ ظَلُومًاجَھُوْلًا (۷۲:۳۳)

"ہم نے یہ امانت آسمانوں ' زمین اور پہاڑوں کو سونپنا چاہی۔ مگر انہوں نے اس کو اٹھانے سے معذوری ظاہر کر دی۔ اس بار امانت کو انسان نے قبول کر لیا۔ بے شک انسان بڑا ظالم اور جلد باز ہے۔"

اس میں شک نہیں کہ انسان کی زندگی ایک نقطۂ آغاز رکھتی ہے' مگر شاید یہ بھی انسان کا مقدر تھا کہ ہستی کی تشکیل کا ایک مستقل حصہ بن جائے:
أَیَحْسَبُ الإِْنْسَانُ أَن یُتْرَکَ سُدًیo أَ لَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّن مَّنِیٍّ یُمْنَیٰoثُمَّ کَانَّ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوَّیٰo فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنْثَیٰٓo أَلَیْسَ ذَالَکَ بِقٰدِرٍعَلَیٰٓ أَن یُحْیِ الْمَوْتَیٰ (۴۰-۳۶:۷۵)

" کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ کیا وہ (ابتدا میں) منی کاایک قطرہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے۔ پھر اس سے وہ لوتھڑا بنا پھر اﷲ نے اسے بنایا اور اعضاء درست کیے' پھر اس سے دو قسمیں بنائیں۔ مرد اور عورت' کیا وہ (اتنی قدرت والا) اس پر قادر نہیں کہ مُردوں کو پھر زندہ کر دے؟"

انسان میں یہ صلاحیت ودیعت ہے کہ وہ اپنے گردو پیش میں متوجہ کرنے والی چیزوں کو نئی صورت اور نئی سمت دے سکتا ہے۔ اور جہاں اسے رکاوٹ کا سامنا ہو تو اسے یہ قوت حاصل ہے کہ وہ اپنی ہستی کے اندرون میں زیادہ بڑی دنیا بسا لے جہاں اس کے لیے بے پناہ مسرت اور تحریک کے سرچشمے موجود ہیں۔ گلاب کی پتی سے بھی نازک تر اس وجود کی زندگی مصائب سے بھری پڑی ہے۔ اس کے باوجود بھی حقیقت کی کوئی صورت روح نسانی سے زیادہ باقوت ' خیال افروز اور حسین نہیں' چنانچہ انسان خود قرآن حکیم کے مطابق اپنی اصل میں ایک تخلیقی فعالیت ہے' ایک ارتقاء کوش روح ہے' جس کا صعودی سفر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جاری رہتا ہے:

فَلَآ أُقْسِمُ بِالشَّفَقِo وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَo وَالْقَمَرإِذَا اتَّسَقَo لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ( ۱۹- ۱۶:۸۳)

"پس میں قسم کھاتاہوں شفق کی' اور رات کی اور جن کو وہ سمیٹے ہوئے ہے' اور چاند کی جب وہ ماہ کامل بن جائے۔ تمہیں (بتدریج) زینہ بہ زینہ چڑھنا ہے۔"

انسان کے اندر یہ صفت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی گہری اُمنگوں میں شریک ہو اور کائنات کی قوتوں سے مطابقت یا انکو اپنی ضرورتوں اور مقاصد کے تحت ڈھال کر اپنا اور کائنات کا مقدر بنائے۔ اگر انسان اس کام کے آغاز کے لیے جرأت آزما ہو تو ارتقاء کے اس عمل میں خدا بھی اس کے ساتھ ہے:

إِنَّ اﷲَ لاَیُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِھِمْ (۱۲:۱۳)

"بے شک اﷲ تعالیٰ نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت کو جب تک وہ لوگ خود اپنے آپ میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔"

اگر انسان کسی کام کے آغاز کے لیے جرأت آزما نہیں ہوتا ' اگر وہ اپنی ذات کے چھپے ہوئے جوہر کو فروغ نہیں دیتا' اگر وہ نمو پذیر زندگی کے لیے اپنے اندر کوئی تحریک نہیںپاتا تو اس کی روح پتھر کی طرح سخت ہوجاتی ہے اور وہ خود کو بے جان مادے کی سطح پر لے آتا ہے۔ لہٰذا اس کی زندگی اور اس کی روح کی بالیدگی کا مدار حقیقت سے رابطے پر ہے جس سے اس کا ماحول عبارت ہے۔ ۲۶؎ اس حقیقت سے رابطے کا وسیلہ علم ہے' اور علم حسی ادراک ہے جس میں فہم کی مدد سے وسعت پیدا ہوتی ہے:

وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَ ٓئِکَۃِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوٓا أَتَجْعَلُ فِیْھَا مَن یُفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآئَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیٓ أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَo وَعَلَّمَ ئَ ادَمَ الْأَسْمَائَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلَآئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُونِی بِأَسْمَآئِ ھَٰٓؤُلَآئِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَo قَالُوْا سُبْحَانَکَ لَاعِلْمَ لَنَآإِلاَّ مَاعَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُo قَالَ یٰآَدَمُ أَنبِئْھُمْ بِأَسْمَآئِھِمْ فَلَمَّآ أَنبَأَھُمْ بِأَسْمَآئِھِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّیٓ أَعْلَمُ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ (۲۸- ۲۱:۲)

"اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے 'میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میںایک نائب۔ کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا ہے زمین میں' جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا۔ حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لیے' فرمایا 'بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیںجانتے۔' اور اﷲ نے سکھا دیے آدم کوتمام اشیاء کے نام۔ پھر پیش کیا انہیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایا 'بتائو تو مجھے نام ان چیزوں کے' اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچّے ہو'۔ عرض کرنے لگے 'ہر عیب سے پاک تو ہی ہے۔ کچھ علم نہیں ہمیں' مگر جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا۔ بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے'۔ فرمایا 'اے آدم بتا دو انہیں ان چیزوں کے نام'۔ تو اﷲ نے فرمایا 'کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ میں خوب جانتا ہوں سب چھپی ہوئی چیزیں آسمانوںاور زمین کی ' اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے تھے'۔

اِن آیات کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ انسان اشیاء کو نام دینے کا ملکہ رکھتا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان' تصورات کی تشکیل کی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔ اشیاء کے تصورات کی تشکیل کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان اشیاء پر تصرف حاصل کر لیتا ہے۔ پس انسان کا علم تصوری ہے۔ اس تصوری علم کے ذریعے انسان قابل مشاہدہ حقیقت سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن حکیم کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ حقیقت کے اس قابل مشاہدہ پہلو پر زور دیتا ہے۔ قرآن کی چند آیات ملاحظہ ہوں:

إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاَس وَمَآ أَنْزَلَ اﷲُ مِنَ السَّمَآئِ مِن مَّآئِ فَأَحْیَابِہِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَ تَصْرِیْفِ الرِّیَحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِبَیْنَ السَّمَآئِ وَالْأَرْضِ لَأَیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُوْنَ (۱۶۴:۲)

"بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کی گردش میں اور جہازوں میں' جو چلتے ہیں سمندر میں ،وہ چیزیں اٹھاتے جو نفع پہنچاتی ہیں لوگوں کو' اور جو اتارا اﷲ تعالیٰ نے بادلوں سے پانی ' پھر زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور پھیلا دیے اس میں ہر قسم کے جانور' اور ہوائوں کے بدلتے رہنے میں اور بادل میں جو حکم کا پابند ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتا رہتا ہے (ان سب میں) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔"

وَھُوَالَّذِیٓ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَأَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْ ئٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَجَنّٰتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِھًا وَغَیْرَ مُتَشٰابِہٍ انُظْرُوٓا إِلَیٰ ثَمَرِہِ إِذَآ أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ إِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَأَیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُوْنَ (۱۰۰:۶)

"اور وہی ہے جس نے اُتارا بادل سے پانی۔ تو ہم نے نکالی اس کے ذریعے سے اگنے والی ہر چیز' پھر ہم نے نکال لیں اس سے ہری ہری بالیں' نکالتے ہیں اس سے (خوشہ جس میں) دانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوتے ہیں اور (نکالتے ہیں)' انگور اور زیتون اور انار کے' بعض (شکل و ذائقہ میں) ایک جیسے ہیں اور بعض الگ الگ ۔ دیکھو ہر درخت کے پھل کی طرف جب وہ پھل دار ہو اور (دیکھو) اس کے پکنے کو۔ بے شک ان میںنشانیاں ہیں (اس کی قدرت کاملہ کی) اس قوم کے لیے جو ایماندار ہے۔"

أَلَمْ تَرَ إِلَیٰ رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّالظِّلَّ وَلَوْشَآئَ لَجَعَلَہُ سَاکِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلاً ثُمَّ قَبَضْنٰہُ إِلَیْنَا قَبْضًا یَسِیْرًا (۴۶- ۴۵:۲۵)

"کیا آپ نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف؟ ایسے پھیلا دیتا ہے سائے کو۔ اور اگر چاہتا تو بنا دیتا اس کو ٹھہرا ہوا۔ پھر ہم نے بنا دیا آفتاب کو اس پر دلیل' پھر ہم سمیٹتے جاتے ہیں سائے کو اپنی طرف' آہستہ آہستہ!"

أَفَلاَیَنْظُرُوْنَ إِلَی الإِْبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْo وَإِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْo وَإِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْo وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْo (۲۰- ۱۸:۸۸)

"کیا یہ لوگ (غور سے) اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے (عجیب طرح) پیدا کیا گیا ہے' اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے بلند کیا گیا ہے' اور پہاڑوں کی طرف کہ انہیں کیسے نصب کیا گیا ہے' اور زمین کی طرف کہ اسے کیسے بچھایا گیا ہے؟"

وَمِنْ ئَ ایَٰتِہِ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَأَیٰتٍ لِلْعَلِمِیْنَ (۲۲:۳۰)

"اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہے' نیز تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف۔ بے شک' اس میں نشانیاں ہیں اہل علم کے لیے۔"

بے شک قرآن حکیم کے نزدیک مشاہدۂ فطرت کا بنیادی مقصد انسان میں اُس حقیقت کا شعور اُجاگر کرنا ہے جس کے لئے فطرت کو ایک آیت یا نشانی قرار دیا گیا ہے' مگر مقام غور تو قرآن کا تجربی رویہ ہے جس نے مسلمانوں میں واقعیت کا احترام پیدا کیا اور یوں انہیں بالآخر عہد جدید کی سائنس کے بانی کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اسلام نے مسلمانوں میں تجربی روح اس دور میں پیدا کی جب خدا کی جستجو میں مرئی کو بے وقعت سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے' قرآن حکیم کے مطابق کائنات ایک اہم مقصد رکھتی ہے۔ اس کی تغیر پذیر حقیقتیں ہمارے وجود کو نئی صورتیں قبول کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہماری ذہنی کاوش اس راہ کی مشکلات دور کرتی ہے جس سے ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ انسانی مشاہدے کے نازک پہلوئوں کو جان سکیں۔ اور مرور زمانی میں اشیاء کے تعلق ہی سے لازمانی کے بارے میں نظر بصیر پیدا ہوتی ہے۔ حقیقت خود کو اپنے مظاہرات ہی میں عیاں کرتی ہے۔ چنانچہ انسان جو متزاحم ماحول میں اپنی زندگی بسر کرتا ہے محسوس کو پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ قرآن حکیم ہی نے ہماری آنکھیں تغیر کی حقیقت کے بارے میں کھولیں کہ صرف اسی کو جان کر اور اس پر حاوی ہو کر ایک پائیدار تہذیب کی بنیاد رکھنا ممکن ہے۔ایشیا کے' بلکہ درحقتیقت تمام قدیم دنیا کے سارے تمدن اس لئے ناکام ہوئے کہ انہوں نے حقیقت کو خاص طور پر داخلی تصور کیا اور داخل سے خارج کی طرف رخ کیا۔ اس طریق عمل سے وہ ایسے تصور پر پہنچے جو طاقت سے محروم تھا' اور طاقت سے محروم کسی تصور پر کسی پائیدار تہذیب کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔

اس میں شک نہیں کہ علم الٰہی کے سرچشمے کے طور پر مذہبی مشاہدہ' تاریخی اعتبار سے ' اس مقصد کے لیے کیے گئے انسانی تجربے کی دیگر صورتوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ قرآن' جو انسانیت کی روحانی زندگی میں اختیاری رویے کو ایک امر لازم تصور کرتا ہے حقیقت مطلقہ کے علم کے حصول میں انسانی تجربے کے تمام پہلوئوں کو برابر اہمیت دیتا ہے۔ جس حقیقت کی علامات انسان کے ظاہر اور باطن میں منکشف ہوتی رہتی ہیں۔۲۷؎ حقیقت کو جاننے کا ایک طریقہ تو بالواسطہ ہے جس میں وہ حواس کے ذریعے ہم سے سابقہ رکھتی ہے اور ادراک بالحواس سے اپنی علامات ہم پرمنکشف کرتی ہے' تاہم دوسرا طریقہ حقیقت سے براہ راست تعلق کا ہے جو ہمارے اندرون میں ہم پر اپنا انکشاف کرتی ہے۔قرآن کے مطالعہ فطرت پر زور دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا فطرت سے گہرا تعلق ہے۔ فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے وقت غلبہ محض کے بجائے اس مقصد کو پیش نظر رکھنا زیادہ ضروری ہے کہ روحانی زندگی اعلیٰ مدارج کمال کی طرف آزادی سے بڑھ سکے۔ لہٰذا حقیقت کا ایک مکمل وقوف حاصل کرنے کے لئے ادراک بالحواس کے پہلو بہ پہلو دل، جسے قرآن قلب یا فواد کہتا ہے، کے مشاہدات سے بھی کام لینا چاہئے:

الَّذِیٓ أَحْسَنَ کُلَّ شَیْئٍ خَلَقَہٗ وَبَدَأَ خَلْقَالإِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہُ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآئٍ مَّھِیْنٍo ثُمَّ سُوَّاہُ وَنَفَخَ فَیْہِ مِنْ رُّوْحِہِ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ قَلِیْلاًً مَّاتَشْکُرُوْنَ (۹-۸:۳۲)

"وہ جس نے بہت خوب بنایا جس چیز کو بھی بنایا ، اور ابتداء فرمائی انسان کی تخلیق کی گارے سے، پھر پیدا کیا اس کی نسل کو ایک جوہر سے یعنی حقیر پانی سے، پھر اس (قدوقامت) کو درست فرمایا اور پھونک دی اس میں اپنی روح اور بنا دیئے تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل۔ تم لوگ بہت کم شکر بجا لاتے ہو۔"

قلب ایک باطنی وجدان یا بصیرت ہے جو مولاناروم کے خوب صورت الفاظ میں آفتاب حقیقت سے مستنیر ہوتا ہے اور جس کے ذریعے ہمارا حقیقت کے ان گوشوں سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے جو حواس کی حدود سے باہر ہیں۔ ۲۸؎ قرآن کے مطابق وہ دیکھتا ہے۔ اس کی فراہم کردہ اطلاعات کی اگر درست طور پر تعبیر کی جائے تو وہ کبھی غلط نہیں ٹھہرتیں۔ ۲۹؎ پھر بھی اسے کسی مخصوص پر اسرار طاقت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صرف حقیقت کو جاننے کا ایک طریق ہے جس میں 'عضویاتی مفہوم میں' حس کا کوئی دخل نہیں۔۳۰؎ تاہم اس طریق سے حاصل ہونے والا مشاہدہ بھی اتنا ہی ٹھوس اور حقیقی ہے جتنا کوئی دوسرا تجربہ اور مشاہدہ ٹھوس اور حقیقی ہو سکتا ہے۔ اس کے باطنی، صوفیانہ یا فوق الفطرت ہونے سے کسی دوسرے تجربے کے بالمقابل اس کی قدر و قیمت کم نہیں ہوتی۔ ابتدائی دور کے انسان کے لئے تو تمام مشاہدات ہی فوق الفطرت تھے۔ روز مرہ زندگی کی فوری احتیاجات نے اسے اپنے ان تجربات و مشاہدات کی تعبیر و تشریح پر آمادہ کر دیا۔ ان تعبیرات ہی سے بتدریج وہ ہمارے موجودہ تصور فطرت تک پہنچا۔ حقیقت کلی جو ہمارے وقوف میں آتی ہے اور ہماری تعبیر کے نتیجے میں ایک محسوس واقعیت کا روپ دھار لیتی ہے ہمارے شعور میں داخل ہونے کے اور بھی ذرائع اختیار کر سکتی ہے اور دیگر تعبیرات کے بھی امکانات رکھتی ہے۔ نوع انسانی کا الہامی اور متصوفانہ ادب اس حقیقت کی ایک معقول کسوٹی ہے کہ تاریخ انسانی میں مذہبی مشاہدے کا اثر غالب رہا ہے۔ اس لئے اسے محض ایک وہم کہہ کر ردّ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس بات کا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ عام انسانی تجربے کو تو حقیقت مان لیا جائے مگر مشاہدے کے دوسرے مراتب کو صوفیانہ اور جذباتی کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔ مذہبی مشاہدات کے حقائق بھی دوسرے انسانی تجربات کے حقائق کی طرح ہی معتبرحقائق ہیں۔جہاں تک تعبیر کے نتیجے میں علم مہیا کرنے کا تعلق ہے تمام حقائق یکساں طور پر محکم ہیں۔ نہ ہی انسانی تجربے کے اس شعبے کو تنقیدی نظر سے دیکھنا کوئی بے ادبی کا رویہ ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے نفسی مظاہر کا سب سے پہلے تنقیدی لحاظ سے مشاہدہ کیا۔بخاری شریف اور حدیث کی دوسری کتب میں مفصل طور سے حضورؐ کے اس مشاہدے کی روداد موجود ہے جو مجذوب یہودی نوجوان ابن صیاد سے متعلق تھا جس کی واردات نفسی نے حضور ؐ کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی۔ ۳۱؎ آپؐ نے اس کی آزمائش کی، اس سے سوالات کئے اور اس کی مختلف حالتوں کا تجزیہ کیا۔ ایک دفعہ حضورؐ اس کی بڑبڑاہٹ سننے کے لئے درخت کی اوٹ میں چھپ گئے۔ ابن صیاد کی ماں نے حضورؐ کی آمد سے اسے خبر دار کر دیا جس پر اس لڑکے کی یہ حالت جاتی رہی۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا اگر اس کی ماں اس لڑکے کو اسی حال میں تنہا رہنے دیتی تو سارا معاملہ کھل جاتا۔۳۲؎

حضورؐ کے اصحابؓ جن میں سے بعض تاریخ اسلام کے اس پہلے نفسیاتی مشاہدے کے وقت وہاں موجود تھے اور اس کے بعد کے محدثین بھی جنہوں نے اس اہم واقعے کا مکمل ریکارڈ رکھنے میں بڑی احتیاط برتی، حضورؐ کے اس رویے کی نوعیت اور جواز کو درست طور پر نہ جان سکے اور انہوں نے اس کی توجیہہ اپنے اپنے معصومانہ انداز میں کی۔ پروفیسر میکڈونلڈ نے جنہیں شعور نبوت اور شعور ولایت کے بنیادی نفسیاتی فرق کا کوئی علم نہیں، اس واقعے کا یوں خاکہ اڑانے کی کوشش کی کہ جیسے نفسیات کی ریسرچ سوسائٹی ۳۳؎کے انداز میں ایک نبی دوسرے نبی کے بارے میں تحقیق کر رہا ہو میں آئندہ خطبے میں ذکر کروں گا ۳۴؎ کہ اگر پروفیسر میکڈونلڈ قرآن کی روح کو سمجھتے تو انہیں اس یہودی لڑکے کی نفسیاتی کیفیات کے مشاہدے میں اس ثقافتی تحریک کے بیج نظر آتے جس سے عہد جدید کے تجربی رویے نے جنم لیا۔ تاہم پہلا مسلمان جس نے پیغمبرؐ اسلام کے اس مشاہدے کے مفہوم اور قدروقیمت کو سمجھا ابن خلدون تھا۔ اس نے صوفیانہ شعور کے جوہر کو زیادہ تنقیدی انداز سے سمجھا۔ اس طرح وہ 'تحت الشعور' کے جدید نفسیاتی مفروضے کے انتہائی قریب پہنچ گیا۔۳۵؎ جیسا کہ پروفیسر میکڈونلڈ کہتا ہے ابن خلدون چند نہایت دلچسپ نفسیاتی خیالات کا حامل تھا اور یہ کہ اس کے نظریات ولیم جیمز کی کتاب "نفسیات واردات روحانی" میں پیش کردہ نظریات سے مماثلت رکھتے ہیں۔۳۶ ؎ جدید نفسیات نے حال ہی میں اس بات کو محسوس کیا ہے کہ اسے صوفیانہ شعور کے مشمولات کا بڑی احتیاط سے مطالعہ کرنا چاہئے مگر ہم ابھی تک اس مقام پر نہیں پہنچے کہ کسی سائنسی منہاج سے شعور کی ورائے عقل حالتوں کے مشمولات کا تجزیہ کر سکیں۔ اس خطبے کے لئے دیئے گئے مختصر وقت میں یہ بھی ممکن نہیں کہ میں اس تجربے کی تاریخ اور باطنی ثروت اور وضوح کے حوالے سے اس کے مختلف درجات کا جائزہ لوں۔ یہاں تو میں مذہبی تجربے کے بنیادی خواص کے بارے میں صرف چند عمومی مشاہدات ہی پیش کر سکوں گا:

1- پہلی اہم بات اس تجربے کا بلا واسطہ اور فوری ہونا ہے۔ اس لحاظ سے یہ تجربہ بھی دوسرے انسانی تجربات ہی کی طرح ہے جو علم کے لئے مواد فراہم کرتے ہیں۔ یہ تمام تجربے بلاواسطہ اور فوری ہوتے ہیں۔ جہاں تک عام تجربے کا تعلق ہے خارجی دنیا کے بارے میں ہمارے علم کا انحصار حسّی مواد کی مختلف تعبیرات پر ہوتا ہے۔ اسی طرح صوفیانہ تجربے کے باب میں تعبیرات ہی خدا کے بارے میں ہمارے علم کا باعث بنتی ہیں۔ صوفیانہ تجربے کے بلاواسطہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم خدا کا اسی طرح سے علم حاصل کرتے ہیں جیسے کسی اور شے کا ۔ خدا کوئی ریاضیاتی قضیہ یا نظام تصورات نہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں اور جن کا کوئی تجربی حوالہ نہیں ہوتا۔۳۷؎

2- دوسرا نکتہ صوفیانہ تجربے کی ناقابل تجزیہ کلّیت ہے۔ جب میں اپنے سامنے پڑی ہوئی میز کا مشاہدہ کرتا ہوں تو تجربے کے بے شمار مدلولات میرے اس میز کے تجربے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ مدلولات کی اس کثرت سے میں صرف اُن مدلولات کو منتخب کر لیتا ہوں جو زمان و مکان کے ایک خاص نظام میں آ جاتے ہیں اور اسے میں میز کا تجربہ کہتا ہوں۔ مگر صوفیانہ تجربے میں_ چاہے یہ تجربہ کتنا ہی واضح اور باثروت کیوں نہ ہو__ فکر کا عنصر کم سے کم ہو جاتا ہے اور اس قسم کا تجزیہ ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم جیسا کہ پروفیسر ولیم جیمز نے غلط طور پر سوچا' اس صوفیانہ تجربے کے عمومی عقلی شعور سے مختلف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ عام شعور سے کٹا ہوا ہے۔ دونوں صورتوں میں ایک ہی حقیقت ہے جو ہمارے روبرو ہوتی ہے۔ ہماری عملی ضرورت کے تحت ہمارا عمومی عقلی شعور ماحول سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے جزوی ہوتا ہے اور وہ ردعمل کے لیے مہیجات کے علیحدہ علیحدہ مجموعوں میں کامیابی سے منقسم ہو جاتا ہے جبکہ صوفیانہ حال ہمیں کلی طور پر حقیقت کے روبرو کرتا ہے جس میں مہیجات ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک ایسی ناقابل تجزیہ وحدت میں ڈھل جاتے ہیں جس میں موضوع اور معروض کی عمومی تفریق قائم نہیں رہتی۔

3- تیسرا قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ صوفی کے لیے صوفیانہ حال ایک ایسا لمحہ ہے جس میں اس کا گہرا رابطہ ایک یکتا وجود دیگر سے ہوتا ہے۔ یہ وجود اس کی ذات سے ماورا مگر اس پر پورے طور پر حاوی ہوتا ہے اور تجربہ کرنے والے کی اپنی نجی شخصیت عارضی طور پر دب جاتی ہے۔ یوں اپنی نوعیت کے اعتبار سے صوفیانہ حال انتہائی معروضی ہوتا ہے اور اسے خاص موضوعیت پر مشتمل خیال نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کہ ایک قائم بالذات خدا کا فوری تجربہ کیسے ممکن ہے۔ حقیقت میں تو صوفیانہ حال کی انفعالیت سے زیر مشاہدہ وجود کی غیریت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ سوال اس لیے ذہن میں پیدا ہوا کہ ہم نے بغیر کسی تحقیق و تنقید کے فرض کر لیا ہے کہ خارجی دنیا کے بارے میں ہمارا حواس کے ذریعے علم ہی تمام تر علم ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں اپنے وجود کی حقیقت کے بارے میں بھی یقین نہ ہو سکتا۔ تاہم اس کے جواب میں روزمرہ زندگی کی ایک مثال پیش کروں گا: ہم اپنے عمرانی تعلقات میں ایک دوسرے کے ذہن کو کیسے جانتے ہیں! یہ بات یقینی ہے کہ ہم اپنے وجود اور فطرت کو بالترتیب اپنے اندرونی تاثرات اور حواس کے ذریعے جانتے ہیں۔ دوسرے اذہان کے علم کے لئے کوئی حس ہمارے پاس نہیں ہے۔ میرے اس علم کی بنیاد میری جیسی ہی طبیعی حرکات ہیں جن پر میں دوسرے کی طبیعی حرکات کو قیاس کر لیتا ہوں' اور اس طرح اپنے شعور کے حوالے سے دوسرے کے شعور تک ابلاغ حاصل کرتا ہوں۔ یا ہم پروفیسر رائس کی طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ابنائے جنس ہمیں اس لیے حقیقی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے اشاروں کا جواب دیتے ہیں اور اس طرح وہ مسلسل اپنے عمل کے ذریعے ہمارے اظہارات کو بامعنی بناتے ہیں۔ بے شک ردعمل ایک باشعور وجود کی موجودگی کا معیار ہے۔ قرآن حکیم کا بھی یہی ارشاد ہے:

وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیٓ أَسْتَجِبْ لَکُمْ (۶۰:۴۰)

"اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو' میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"

وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی فَإِنِّی قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعَوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(۱۸۶:۲)

"اور جب پوچھیں آپ سے (اے میرے حبیبؐ) میرے بندے' میرے متعلق تو (انہیں بتائو) میں (ان کے) بالکل نزدیک ہوں' قبول کرتا ہوں دعا' دعا کرنے والے کی جب وہ دعا مانگتا ہے۔"

اب یہ بات واضح ہے کہ ہم طبیعی معیار کا اطلاق کریں یا غیر طبیعی کا' اور زیادہ مناسب طور پر پروفیسر رائس کے معیارکا' ہر صورت حال میں دوسروں کے بارے میں ہمارا علم استدلالی ہوگا۔ اس کے باوجود ہم محسوس کرتے ہیں کہ اذہان دیگر کے بارے میں ہمارا تجربہ بلاواسطہ ہوتا ہے اور اس امر میں ہمیں کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ ہمارے عمرانی تجربے حقیقی ہیں۔ اس بحث سے میرا اس موقع پر مطلب یہ نہیں کہ ہم نفوس دیگر کے بارے میں علم کے ان مباحث کا اطلاق ایک محیط کل ہستی کے وجود حقیقی کے لئے ایک عینی دلیل فراہم کرنے پر کریں گے۔ میں تو محض یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صوفیانہ احوال کا تجربہ کوئی انوکھا تجربہ نہیں۔ یہ ہمارے روزمرہ کے تجربے سے کسی طور مشابہت رکھتا ہے' اور شاید یہ دونوں تجربے ایک ہی قسم کے ہیں۔

۴۔ چونکہ صوفیانہ تجربہ اپنی کیفیت میں بلاواسطہ تجربہ ہے لہٰذا اس کا ابلاغ ممکن نہیں۔۳۸؎ صوفیانہ احوال فکر سے زیادہ احساس ہیں' چنانچہ پیغمبر یا صوفی اپنے مذہبی شعور کے مشتملات کی تعبیر دوسروں تک قضایا کے ذریعے ہی پہنچا سکتا ہے مگر مذہبی شعور کے مشتملات کو بیان نہیں کر سکتا۔ چنانچہ قرآن کی درج ذیل آیات کریمہ میں اس صوفیانہ تجربے کے مشمول کے بجائے اس کی نفسیات ہی بیان کی گئی ہے:

وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَہُ اﷲُ إِلَّاوَحْیًا أَوْمِنْ وَرَآیِ حِجَابٍ أَوْیُرْسِلَ رَسُولًا فَیُوحِیَ بِإِذْنِہِ مَا یَشَآئُ إِنَّہُ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ (۵۱:۴۲)
"اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ کلام کرے اس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ (براہ راست) مگر وحی کے طور پر یا پس پردہ بھیجے کوئی پیغامبر فرشتہ اور وہ وحی کرے اس کے حکم سے جو اﷲ تعالیٰ چاہے۔ بلاشبہ وہ اونچی شان والا بہت دانا ہے۔"

وَالنَّجْمِ إِذَا ھَوَیٰo مَاضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَاغَوَیٰo وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوَیٰٓo إِنْ ھُوَ إِلَّاوَحْیٌ یُوحَیٰo عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوَیٰo ذُوْمِرَّۃٍ فَاسْتَوَیٰo وَھُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَیٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّیٰ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَیٰo فَأَوَحَیٰٓ إِلَیٰ عَبْدِہِ مَآ أَوْحَیٰ oمَاکَذَبَ الْفُئَوادُ مَارَأَیٰٓo أَفَتُمَٰرُوْنَہُ عَلَیٰ مَایَرَیٰo وَلَقَدْ رَئَ اہُ نَزْلَۃً اُخْرَیٰo عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھَیٰo عِنْدَھَا جَنَّۃَ الْمَأَوَیٰٓ oإِذَ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَایَغْشَیٰo مَازَاغَ الْبَصَرَ وَمَا طَغَیٰo لَقَدْ رَأَیٰ مِنْ ئَ ایَٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرَیٰٓo (۱۸-۱:۵۳)

"قسم ہے اس (تابندہ) ستارے کی جب وہ نیچے اترا۔ تمہارا (زندگی بھر کا) ساتھی نہ راہ حق سے بھٹکا اور نہ بہکا۔ اور وہ تو بولتا ہی نہیں اپنی خواہش سے۔ نہیں ہے یہ مگر وحی جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔ اسے سکھایا ہے زبردست قوتوں والے نے' بڑے دانا نے' پھر اس نے (بلندیوںکا) قصد کیا اور وہ سب سے اونچے کنارے پر تھا' پھر وہ قریب ہوا' اور قریب ہوا یہاں تک کہ صرف دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ پس وحی کی اﷲ نے اپنے (محبوب) بندے کی طرف جو وحی کی۔ نہ جھٹلایا دل نے جو دیکھا (چشم مصطفیٰﷺ نے) کیا تم جھگڑتے ہو اس سے اس پر جو اس نے دیکھا۔ اور اس نے اسے دوبارہ بھی دیکھا سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔اس کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا' نہ درماندہ ہوئی چشم (مصطفیٰ ؐ) اور نہ (حد ادب سے) آگے بڑھی۔ یقینًا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔"

صوفیانہ مشاہدات کے ناقابل ابلاغ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر احساسات ہیں جن میں عقلی استدلال کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ مگر مجھے اس بات کا یقین ہے کہ صوفیانہ محسوسات میں بھی دیگر محسوسات کی طرح ادراکی عنصر موجود ہوتا ہے۔ اورمحسوسات میں ادراک کا یہ عنصر ان صوفیانہ مشاہدات کو تصورات علم میں متشکل کر سکتا ہے۔ درحقیقت احساس کی فطرت میں ہے کہ وہ فکر میں ڈھل جائے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ احساس اور فکر دونوں داخلی مشاہدے کی وحدت کے علی الترتیب غیر زمانی اور زمانی پہلو ہیں۔ مگر یہاں میں اس ضمن میں بہتر ہو گا کہ پروفیسر ہاکنگس کا حوالہ دوں' جنہوں نے نہایت فاضلانہ طور پر مذہبی شعور کے مشمولات کے عقلی جواز میں محسوسات کے کردار کا مطالعہ کیا ہے:

احساس سے سوا وہ کیا ہے جہاں احساس ختم ہو سکتا ہے' میرا جواب ہے 'کسی معروض کا شعور'۔ احساس مکمل طور پر کسی با شعور ہستی کی بے قراریت ہے جس کا قرار اس کی اپنی حدود میں نہیں بلکہ اس سے ماورا ہے۔ احساس کا دبائو خارج کی طرف ہے جیسا کہ فکر باہر کی خبر دینے والا ہے۔ احساس اتنا اندھا بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہی معروض کے بارے میں فکر سے عاری ہو۔ احساس پیدا ہوتے ہی ذہن پر حاوی ہو جاتا ہے۔ احساس کے ایک اٹوٹ جزو کی حیثیت سے فکر وجہ تسکین بنتا ہے۔ احساس کا بے سمت ہونا اسی طرح ممکن ہے جیسے کسی عمل کا بے سمت ہونا۔ اور سمت کا مطلب ہے کوئی مقصود یا مطلوب۔ شعور کی کچھ ایسی مبہم حالتیں بھی ہیں جہاں ہمیں مکمل بے سمتی نظر آتی ہے مگر ایسے معاملات میں یہ بات غور طلب ہے کہ احساس بھی حالت التوا میں رہتا ہے۔ مثال کے طور پر میں کسی گھونسے سے حواس کھو دوں اور اس بات کا شعور نہ ہو کہ کیا ہوا ہے اور نہ مجھے کوئی درد محسوس ہو مگر اتنا شعور ہو کہ کچھ ہوا ضرور ہے۔ تجربہ میرے شعور میں ایک حقیقت کے طور پر تو موجود ہو مگر اس کا مجھے احساس نہ ہو حتیٰ کہ کوئی خیال اسے اپنا لے اور وہ ایک ردعمل کی صورت اظہار پائے۔ اس لمحے اس کا تکلیف دہ ہونا ظاہر ہوگا۔ اگر میں اس بات کے اظہار میں درست ہوں تو احساس بھی فکر کی طرح معروضی شعور ہے۔ اس کا اشارہ ہمیشہ کسی ایسی چیز کی طرف ہو گا جو صاحب احساس کی ذات سے ماورا ہے اور جس کی طرف گویا رہنمائی کر رہا ہے اور جہاں پہنچ کر اس کا اپنا وجود ختم ہوجاتا ہے۔۳۹؎

لہٰذا آپ دیکھیںگے کہ احساس کی اس فطرت لازمہ کی وجہ سے مذہب اگرچہ احساس کے طور پر سامنے آتا ہے تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس نے خود کو محض احساس کے طور پر محدود رکھا ہو۔ بلکہ وہ تو مابعد الطبیعیات کی طرف راجع ہوتا ہے۔ صوفیاء کی علم کے معاملے میں عقل کی تنقیص حقیقت میں تاریخ مذہب میں کوئی جواز نہیں رکھتی۔ تاہم پروفیسر ہاکنگس کا محولہ بالااقتباس مذہب میں فکر کا جواز ثابت کرنے سے زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ احساس اور فکر کے نامی تعلق سے "وحی باللفظ" کے اس پرانے الہیاتی تنازعہ پر بھی روشنی پڑتی ہے جو کبھی ہمارے متکلمین کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔۴۰ ؎ غیر واضح احساس خود کو فکر کے ذریعے ہی ظاہر کرتا ہے جو اپنے لیے پیکر اظہار خود اپنے بطون میں سے تراشتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کوئی استعاراتی بات نہیں کہ احساس کے بطون ہی سے فکر اور لفظ بیک وقت پھوٹتے ہیں' اگرچہ منطقی تفہیم انہیں زمانی ترتیب میں الگ الگ رکھ کر اپنے لیے خود متعدد مشکلات کھڑی کر لیتی ہے۔ اسی مفہوم میں تو کہا جاتا ہے کہ وحی لفظًا ہی نازل ہوتی ہے۔

۵۔ ذات ازلی سے ایک صوفی کا تعلق اسے زمان متسلسل کے غیر حقیقی ہونے کا احساس دلاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمان متسلسل سے اس کا رشتہ بالکل کٹ جاتا ہے۔ صوفیانہ تجربہ اپنی یکتائی کے باوجود کسی نہ کسی انداز میں عام تجربے سے متعلق رہتا ہے۔ اسی بناء پر یہ تجربہ جلد ہی ختم ہو جاتا ہے اگرچہ صاحب حال پر وثوق و اعتماد کا ایک گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ صوفی اور نبی دونوں تجربے کی عام سطح پر واپس آ جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ نبی کے واپس آ جانے سے بنی نوع انسان کے لئے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

چنانچہ جہاں تک حصول علم کاتعلق ہے صوفی کا تجربہ اتنا ہی حقیقی اور وقیع ہے جتنا کہ انسانی زندگی کا کوئی اور تجربہ ۔ اسے محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ حسی ادراک پر اٹھان نہیں رکھتا۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ صوفیانہ تجربے کو متشخص کرنے والی عضوی کیفیات کی بنا پر اس کی روحانی قدرومنزلت کم کی جائے۔ اگر نفسیات جدید کے جسم اور ذہن کے تعامل کے بارے میں مفروضات کو بھی درست مان لیا جائے تو بھی انکشاف حقیقت کے بارے میں صوفیانہ تجربے کی قدرو قیمت کم نہیں ہوتی۔ نفسیات کی رو سے مذہبی اور غیر مذہبی مشمول رکھنے والے تمام احوال عضویاتی لحاظ سے متعین ہوتے ہیں۔۴۱؎ ذہن کی سائنسی صورت اصل کے اعتبار سے اتنی ہی عضویاتی ہے جتنی کہ مذہبی صورت۔ چنانچہ خود نفسیات دانوں کے عضویاتی قواعد بھی فطین اور عبقری انسانوں کی تخلیق کے بارے میں حکم لگاتے ہوئے ساقط ہو جاتے ہیں۔ ایک خاص قسم کی قبولیت کے لیے ایک خاص طرز کا مزاج لازم ہوتا ہے مگر یہ درست نہیں کہ جو کچھ قبول کیا جاتا ہے اس کی حقیقت اُس خاص مزاج کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری ذہنی حالتوں کی عضویاتی تعلیل کا ان معیارات سے کوئی تعلق نہیں جن سے ہم اقدار کے اعلیٰ و ادنیٰ ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔ پروفیسر ولیم جیمز کہتا ہے کہ "کشف اور الہام میں سے بھی کچھ عام طور پر مہمل ہوتے ہیں۔ اور سیرت و کردار کے حوالے سے استغراق' وجد اور بے خودی یا تشنج کی بعض حالتیں بھی بے نتیجہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان کو الوہی کہنا یا اہم کہنا بھی کسی طور پر مناسب نہیں ہوتا۔ مسیحی تصوف کی تاریخ میں بھی یہ ایک مشکل اور لایخل مسئلہ رہا ہے کہ الہام اور ایسے اعمال جو خدائی معجزات پر مشتمل ہیں اور وہ جو کسی بدروح کی طرف سے شیطانی عمل کے نتیجے میں وارد ہوتے ہیں اور کسی مذہبی انسان کو دوگونہ جہنمی بنا دیتے ہیں کے درمیان فرق کیسے کیا جائے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے بہترین ذہنوں کی دانائی اور تجربے کو بروئے کار لانا پڑا۔ بالآخر انہوں نے ہمارا تجربی معیار اپنایا تم انہیں ان کی جڑوں سے نہیں بلکہ پھل سے پہچانو گے۔ ۴۲؎

درحقیقت پروفیسر ولیم جیمزنے مسیحی تصوف کے جس پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے' وہ تصوف کا عمومی مسئلہ ہے کیونکہ شیطان اپنے بغض کی وجہ سے صوفی کے مشاہدات میں ایسی تبدیلی کر سکتا ہے کہ صوفی اس سے فریب کھا جائے جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے:

وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَانَبِیٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّیٰ اَلْقَی الشَّیْطَانُ فِی اُمْنِیَّتِہِ فَیَنْسَخُ اﷲ ُمَایُلْقِی الشَّیْطَانُ ثُمَّ یُحْکِمُ اﷲُ ئَ ایَٰتِہِ وَاﷲُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
(۵۲:۲۲)

" اور نہیں بھیجا ہم نے آپؐ سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر اس کے ساتھ کہ جب اس نے پڑھا تو ڈال دیے شیطان نے اس کے پڑھنے میں (شکوک) پس مٹا دیتا ہے اﷲ تعالیٰ جو دخل اندازی کرتا ہے شیطان' پھر پختہ کر دیتا ہے اپنی آیات کو۔" ۴۳؎

سگمنڈ فرائڈ کے پیروکاروں نے صوفی کے الوہی مشاہدات سے شیطانی وسوسوں کو خارج کرنے کے ضمن میں مذہب کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ نفسیات جدیدہ کے بنیادی نظریے کی تصدیق کسی ٹھوس شہادت سے ابھی تک نہیں ہو سکی۔ اگر خواب یا بعض دوسری حالتوں میں جب ہم پورے طور پر اپنے آپ میں نہ ہوں کچھ منتشر مہیجات ہم پر حاوی ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے تحت الشعور کے کسی کباڑخانے میں پڑے ہوئے تھے۔ اگر ہمارے یہ دبے ہوئے مہیجات تحت الشعور سے کبھی شعور میں آ جائیں تو اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ ہمارے روزمرہ نظام عمل میں قدرے تغیر واقع ہو گیا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ذہن کے کسی تاریک کونے میں مسلسل دبی پڑی تھیں۔ المختصر اس نظریے کا ماحصل یہ ہے کہ ماحول سے مطابقت پذیری کے دوران ہمیں مختلف قسم کے محرکات سے سابقہ پڑتا ہے۔ ہمارا معمول کا ردعمل آہستہ آہستہ ایک لگے بندے نظام میں تحویل ہو جاتا ہے۔اس طرح تسلسل کے ساتھ ان محرکات کو قبول کرنے سے ردعمل کا ایک مستقل نظام قائم ہو جاتا ہے۔ یہ مسترد محرکات ہمارے ذہن کے "لاشعور" کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہاں وہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ انہیں جب موقع ملے وہ ہمارے ماسکۂ نفس پر اپنے انتقام کے لیے دبائو ڈالیں۔اس طرح وہ ہمارے فکروعمل میں بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں' ہمارے خواب و خیال کی تشکیل کر سکتے ہیں یا وہ ہمیں بہت پیچھے انسانی رویے کی ان ابتدائی صورتوں کی طرف لے جا سکتے ہیں جنہیں ہم اپنے ارتقاء کے دوران بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ مذہب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ محض افسانہ ہے جو نوع انسانی کی طرف سے مسترد محرکات کا پیدا کردہ ہے جن کا مقصد ایک طرح کے ایسے پرستانِ خیال کی تشکیل ہے جہاں بلا روک ٹوک حرکت کی جا سکے۔ اس نظریے کے مطابق مذہبی اعتقادات اور ایمانیات کی حیثیت فطرت کے بارے میں انسان کے ابتدائی تصورات سے زیادہ کچھ نہیں جس سے انسان حقیقت کو ابتدائی آلائشوں سے پاک کرکے اس کی تشکیل اپنی امنگوں اور آرزئوں کے حوالے سے دیکھنا چاہتا ہے جس کی تصدیق زندگی کے حقائق سے نہیں ہوتی۔ مجھے اس امر سے انکار نہیں کہ مذہب اور فن کی مختلف ایسی صورتیں موجود ہیں جن سے زندگی کے حقائق سے بزدلانہ فرار کی راہ ہموار ہوئی۔ میرا دعویٰ صرف اس قدر ہے کہ یہ بات تمام مذاہب کے بارے میں درست نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مذہبی ایمانیات اور اعتقادات مابعد الطبیعی مفہوم بھی رکھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی حیثیت ان تعبیرات کی سی نہیں جو علوم فطرت سے متعلقہ تجربات کا موضوع ہیں۔ مذہب طبیعیات یا کیمیا نہیں کہ وہ علت و معلول کے ذریعے فطرت کی عقدہ کشائی کرے۔ اس کا مقصد تو انسانی تجربے کے ایک بالکل ہی مختلف میدان سے ہے۔ یعنی مذہبی تجربہ جسے کسی سائنسی تجربے پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ درحقیقت یہ کہنا درست ہے کہ مذہب نے سائنس سے بھی پہلے ٹھوس تجربے کی ضرورت پر زور دیا۔ مذہب اور سائنس میں یہ تنازعہ نہیں کہ ایک ٹھوس تجربے پر قائم ہے اور دوسرا نہیں۔ شروع میں دونوں کا تجربہ ٹھوس ہوتا ہے۔ ۴۴؎ ان دونوں کے مابین نزاع کا سبب یہ غلط فہمی ہے کہ دونوں ایک ہی تجربے کی تعبیر و تشریح کرتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مذہب کا مقصد انسانی محسوسات و تجربات کی ایک خاص نوع کی کنہہ تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

مذہبی شعور کی تشریح و تفہیم اس کے مافیہ کو جنسی تہیجات کا نتیجہ قرار دے کر بھی نہیں کی جا سکتی۔ شعور کی دونوں صورتیں 'جنسی اور مذہبی' زیادہ تر ایک دوسرے کی ضد ہوتی ہیں یا دونوں اپنے کردار ' مقاصد اور اس طرز عمل کے لحاظ سے جو ان سے مترتب ہوتا ہے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جذب مذہبی کی حالت میں ہم ایک ایسی حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں جو ایک مفہوم میں ہماری ذات کے تنگ دائرے سے باہر موجود ہے۔ مگر ماہر نفسیات کے نزدیک جذب مذہبی اپنی شدت کی بنا پر جو ہمارے وجود کی گہرائی میں تہلکہ مچا دیتی ہے لازمی طور پر ہمارے تحت الشعور کی کارفرمائی معلوم ہوتی ہے۔ ہر نوع کے علم میں جذب کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اس کی شدت میں اتار چڑھائو سے علم کے موضوع کو اپنی معروضیت میں اتار چڑھائو کا سامنا رہتا ہے۔ ہمارے لئے تو وہی حقیقی ہے جو ہماری شخصیت کو ہلا دیتا ہے جیسا کہ پروفیسر ہاکنگس نے نکتہ آفرینی کی ہے کہ اگر کسی صوفی یا عام انسان کو اپنے محدود اور بے بصیرت نفس زمانی میں کوئی ایسا جلوہ نظر آتا ہے جس سے اس کی اور ہماری زندگی ایک نئے دھارے میں بدل جاتی ہے تو اس کا سبب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ حقیقت سرمدی اپنی تمام تر محسوسیت کے ساتھ اس کی روح پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس تجلی سے بلاشبہ تحت الشعوری آمادگی کااظہار ہوتا ہے۔ اور یوں تحت الشعور نوازی کا۔ لیکن غیر استعمال شدہ ہوا کے پھیلائو کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم باہر کی ہوا میں سانس لینا ہی تر ک کر دیں بلکہ اس کے برعکس ہمیں اس تازہ ہوا میں سانس لینا چاہیے۔ ۴۵؎

لہٰذا نرے نفسیاتی منہاج سے جذب مذہبی کو علم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے جدید ماہرین نفسیات کے لیے ناکامی اسی طرح مقدر ہے جس طرح جان لاک اور لارڈ ہیوم کے لئے تھی۔

متذکرہ بالابحث سے آپ کے ذہن میں لازمی طور پر ایک اہم سوال پیدا ہوا ہوگا۔ میں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ مذہبی مشاہدہ ایک ایسی کیفیت احساس ہے جس میں ادراک کا پہلو موجود ہوتا ہے اورجسے دوسروں کے سامنے تصدیقات کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے مگر اس کے مافیہ کا ابلاغ ممکن نہیں۔ اب اگر ایک تصدیق جو انسانی تجربے کے کسی ایسے خاص عالم کی توضیح و تعبیر ہونے کا دعویٰ کرتی ہو، جو میری پہنچ سے باہر ہواور اسے میرے سامنے تسلیم کرنے کے لئے پیش کیا جائے تو مجھے یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ اس کی صداقت کی ضمانت کیا ہے۔ کیا ہمارے پاس کوئی ایسا معیار ہے جو اس کی صداقت ہم پر ظاہر کر دے۔ اگر ذاتی تجربہ ہی اس طرح کی تصدیق کی قبولیت کی اساس ہوتا تو اس صورت میں مذہب چند افراد کی ملکیت ہی ہو سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے ہمارے پاس ایسے معیارات ہیں جو ان معیارات سے مختلف نہیں ہیں جن کا اطلاق دوسرے علوم پر بھی ہوتا ہے ۔ انہیں میں عقلی اور نتائجی معیارات کہوں گا۔ عقلی معیار سے میری مراد کسی مفروضہ کے بغیر ایک تنقیدی تعبیر و تشریح ہے جس کا مقصد اس امر کی یافت ہے کہ کیا ہماری تعبیرات بالآخر ہمیں اسی حقیقت تک لے جاتی ہیں جو مذہبی تجربے سے ہم پر منکشف ہوتی ہے۔ نتائجی معیار اس کے ثمرات کے حوالے سے اس کا جائزہ لیتا ہے ۔پہلے معیار کا اطلاق فلسفی کرتے ہیں، دوسرے کا انبیا۔ اگلے خطبے میں، میں عقلی معیار کا اطلاق کروں گا۔

<<پچھلا  اگلا>>

علم اور مذہبی مشاہدہ

علم اور مذہبی مشاہدہ


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان